لاہور کے علاقے جنوبی چھاؤنی میں پولیس کی حراست میں موجود ایک ملزم دورانِ علاج اسپتال میں دم توڑ گیا۔ ملزم پر سرکاری افسر ہونے کا جھوٹا دعویٰ کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
پولیس حکام کے مطابق ملزم کی شناخت عثمان کے نام سے ہوئی ہے۔ اسے مشکوک سرگرمیوں کی بنا پر حراست میں لیا گیا تھا، جس کے دوران اس نے اپنی اصل شناخت چھپاتے ہوئے خود کو سرکاری افسر ظاہر کرنے کی کوشش کی۔
ملزم کے پاس سے سرکاری عہدیدار ہونے کا کوئی ثبوت نہ ملنے پر پولیس نے ضابطہ کارروائی کا آغاز کیا۔ اس کے خلاف تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 419 اور 186 کے تحت مقدمہ درج کرکے قانونی کارروائی شروع کی گئی تھی۔
ایف آئی آر کے اندراج اور تفتیشی مراحل کے دوران ملزم کی طبیعت اچانک خراب ہو گئی۔ پولیس نے فوری طور پر ریسکیو 1122 کو طلب کیا تاکہ اسے بروقت طبی امداد فراہم کی جا سکے۔
ریسکیو ٹیم نے ملزم کو فوری طور پر پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی منتقل کیا۔ اسپتال کے ڈاکٹروں نے اسے بچانے کے لیے بھرپور کوششیں کیں اور تقریباً 50 منٹ تک طبی امداد فراہم کی گئی۔
ڈاکٹروں کی تمام تر کوششوں کے باوجود ملزم جانبر نہ ہو سکا اور حرکتِ قلب بند ہونے کے باعث اس کی موت واقع ہو گئی۔ اسپتال انتظامیہ نے موت کی تصدیق کر دی ہے۔
واقعے کے بعد ڈی آئی جی آپریشنز کے ترجمان نے بتایا کہ ملزم کی لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے منتقل کیا جائے گا تاکہ موت کی حتمی وجوہات کا تعین کیا جا سکے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ معاملے کی شفاف تحقیقات کو یقینی بنایا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے جوڈیشل انکوائری کروانے کی سفارش کی جائے گی تاکہ حقائق سامنے آ سکیں۔
ڈی آئی جی آپریشنز نے ایس ایس پی آپریشنز کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس پورے معاملے کی مکمل اور غیر جانبدارانہ انکوائری کریں۔ انکوائری مکمل ہونے کے بعد رپورٹ اعلیٰ حکام کو پیش کی جائے گی۔
پولیس کے مطابق حراست میں موجود افراد کی صحت اور سیکیورٹی ان کی اولین ترجیح ہوتی ہے۔ اس واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ کسی بھی قسم کی غفلت کا تعین ہو سکے۔
واقعے کے بعد متعلقہ تھانے میں قانونی کارروائی جاری ہے اور پولیس کے اعلیٰ افسران صورتحال کی نگرانی کر رہے ہیں۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد مزید قانونی اقدامات کیے جائیں گے۔
اس قسم کے واقعات کے بعد عام طور پر پولیس کی جانب سے حراستی ضوابط پر مزید سختی سے عملدرآمد کیا جاتا ہے۔ تحقیقات کے نتیجے میں سامنے آنے والے حقائق کی روشنی میں ذمہ داری کا تعین کیا جائے گا۔
عوام کو اس طرح کے واقعات کی شفاف تحقیقات کا یقین دلایا گیا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے اس معاملے کو قانونی تقاضوں کے مطابق منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے پرعزم ہیں۔




اپنی رائے دیں