گوگل نے اپنے مقبول نیوی گیشن پلیٹ فارم گوگل میپس میں ایک نیا مصنوعی ذہانت پر مبنی فیچر متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے جس کے ذریعے دوسرے شہروں کا سفر کرنے والے صارفین کو رہنمائی فراہم کی جائے گی۔
فون ایرینا اور اینڈرائیڈ اتھارٹی کی رپورٹس کے مطابق یہ نئی سہولت اس وقت فعال ہوگی جب کوئی صارف کسی نئے شہر کے ہوائی اڈے پر قدم رکھے گا۔
رپورٹس کے مطابق ہوائی اڈے پر پہنچنے والے صارف کو گوگل میپس کی جانب سے ایک خوش آمدیدی پیغام موصول ہوگا جو اسے مزید رہنمائی فراہم کرے گا۔
اس پیغام کے ذریعے صارفین کو گوگل میپس کے آسک میپس فیچر سے استفادہ کرنے کی ترغیب دی جائے گی تاکہ وہ مقامی مقامات کے بارے میں معلومات حاصل کر سکیں۔
یہ تمام سہولت گوگل کے جیمنائی نامی مصنوعی ذہانت کے ماڈل پر کام کرے گی جو صارف کے استفسارات کو سمجھ کر درست معلومات فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اس نئے فیچر کی مدد سے اجنبی شہروں کا رخ کرنے والے افراد روایتی نقشوں کی تلاش کے بجائے اپنے سوالات کے ذریعے مطلوبہ مقامات تک رسائی حاصل کر سکیں گے۔
اینڈرائیڈ ڈیوائسز کے لیے تیار کردہ گوگل میپس کے نئے ورژن میں اس فیچر کے آثار دیکھے گئے ہیں جن پر کمپنی کی جانب سے کام جاری ہے۔
موجودہ مرحلے کے مطابق دنیا بھر کے لگ بھگ نوے شہروں کے ہوائی اڈوں پر اس سہولت سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے تاہم اس فہرست میں فی الحال پاکستان کا کوئی شہر شامل نہیں ہے۔
واضح رہے کہ گوگل کی جانب سے آسک میپس کا فیچر مارچ 2026 میں پیش کیا گیا تھا جس کا مقصد صارفین کے لیے نیوی گیشن کو مزید آسان بنانا ہے۔
اس فیچر کی بدولت صارفین نقشے پر عام سرچ کرنے کی بجائے براہ راست سوالات پوچھ کر اپنی منزل، راستوں اور قریبی کاروباری مراکز کا پتہ لگا سکتے ہیں۔
گوگل کی اس پیش رفت کا مقصد اس پلیٹ فارم کو محض ایک عام راستہ دکھانے والی ایپلیکیشن کے بجائے ایک ذہین سفری معاون میں تبدیل کرنا ہے۔
یہ معاون مسافروں کو کسی نئے شہر میں پہنچنے کے بعد وہاں گھومنے پھرنے اور مقامی سہولتوں تک رسائی حاصل کرنے میں بھرپور مدد فراہم کرے گا۔




اپنی رائے دیں