عالمی کرپٹو کرنسی پلیٹ فارم بائنانس نے حالیہ ڈیجیٹل سرقت کے واقعے میں متاثر ہونے والی کل مالیت کا نوے فیصد حصہ صارفین کو لوٹا دیا۔ غیر ملکی ابلاغی اداروں کی رپورٹس کے مطابق اس کارروائی کے دوران چھ ارب ڈالر کے برابر ڈیجیٹل ٹوکنز کے خسارے کو پورا کیا گیا۔
ادارے کے حکام کا بتانا ہے کہ اس کُل نقصان کا احاطہ کرنے کی خاطر سیف فنڈ، کارپوریٹ ریزرو اور فیوچرز انشورنس کا سہارا لیا گیا تاکہ پلیٹ فارم کے صارفین کسی بھی مالی نقصان سے محفوظ رہ سکیں۔ یہ سارا عمل اس بڑے ڈیجیٹل حملے کے فوراََ بعد عمل میں لایا گیا جس میں چھ اعشاریہ تین ارب ڈالر کے اثاثوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
ادارہ جاتی ذرائع اور ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ بائنانس کے کسی انجینئر کے ذاتی کمپیوٹر کو ہیک کیے جانے کی وجہ سے یہ سارا سکیورٹی رسک پیدا ہوا۔
امریکہ کے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کا اس معاملے میں مؤقف ہے کہ اس مجرمانہ کارروائی کے پیچھے شمالی کوریا کے ہیکرز کا ہاتھ کارفرما ہے۔ ایف بی آئی کے مطابق یہ عناصر ڈیجیٹل سرقت کے بعد حاصل شدہ رقوم کو ایتھیریم میں منتقل کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
یاد رہے کہ یہ سائبر واقعہ تیس اکتوبر کو پیش آیا تھا جس کے نتیجے میں کرپٹو مارکیٹ میں بڑے پیمانے پر ہلچل مچ گئی تھی اور کروڑوں ڈالر کے اثاثے متاثر ہوئے تھے۔


اپنی رائے دیں