پاکستان کی معروف ڈیجیٹل کری ایٹر اور سوشل میڈیا انفلوئنسر سامعہ حجاب نے حال ہی میں ایک انٹرویو کے دوران اپنے عمرے کے سفر اور اس سے حاصل ہونے والی روحانی تبدیلیوں کے بارے میں کھل کر گفتگو کی ہے۔
سامعہ حجاب نے بتایا کہ ان کی زندگی میں ایک ایسا دور بھی آیا تھا جب وہ دبئی میں تنہائی کا شکار ہو گئی تھیں۔ وہ تقریباً چھ ماہ تک اپنے اپارٹمنٹ تک محدود رہیں اور اس دوران سوشل میڈیا پر ہی اپنا وقت گزارتی رہیں۔
انفلوئنسر کے مطابق اس دور میں دنیا بھر میں جاری کشیدہ حالات اور تنہائی کے باعث وہ شدید ذہنی دباؤ اور افسردگی میں مبتلا ہو گئی تھیں۔ اس مشکل وقت میں انہوں نے اللہ تعالیٰ سے رجوع کیا اور دعا مانگی۔
سامعہ حجاب نے بتایا کہ ان کی دعائیں قبول ہوئیں اور انہیں اپنے اہل خانہ کے ساتھ عمرے کی سعادت نصیب ہوئی۔ یہ سفر ان کی زندگی میں ایک مثبت تبدیلی کا باعث بنا اور انہیں سکون قلب میسر ہوا۔
انہوں نے کہا کہ اپنی والدہ کو عمرہ کروانا ان کی زندگی کی سب سے بڑی کامیابیوں میں سے ایک ہے۔ مکہ مکرمہ میں والدہ اور بھائی کے ساتھ گزارے گئے لمحات ان کے لیے انتہائی جذباتی اور یادگار تھے۔
ریاض الجنہ کے تجربے کا ذکر کرتے ہوئے سامعہ حجاب نے بتایا کہ وہاں دعا کے دوران جب ان کے مداحوں نے انہیں دیکھا اور پہچانا تو وہ جذباتی ہو گئیں۔ مداحوں کی محبت دیکھ کر وہ اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت وہ اپنی زندگی کے ایک کٹھن مرحلے سے گزر رہی تھیں، جس کے باعث مداحوں کے ساتھ ملاقات اور ان کی محبت نے انہیں مزید جذباتی کر دیا اور وہ پھوٹ پھوٹ کر رو پڑیں۔
سامعہ حجاب کا کہنا ہے کہ عمرے کے سفر نے ان کی سوچ اور زندگی کے زاویوں کو مکمل طور پر تبدیل کر دیا ہے۔ اب وہ اپنی زندگی کو اللہ کی رضا کے مطابق گزارنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
سوشل میڈیا پر اپنی موجودگی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پہلے وہ صرف ایک ڈیجیٹل کری ایٹر کے طور پر کام کر رہی تھیں، لیکن اب ان کی ترجیحات اور زندگی کے مقاصد میں واضح تبدیلی آ چکی ہے۔
ان کا یہ انٹرویو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہا ہے، جہاں ان کے مداح ان کی روحانی تبدیلی کو سراہ رہے ہیں۔ سامعہ حجاب کے چاہنے والے ان کے اس نئے سفر کے بارے میں جاننے میں گہری دلچسپی لے رہے ہیں۔
سامعہ حجاب نے اپنے مداحوں کو بھی پیغام دیا کہ مشکل وقت میں اللہ سے تعلق قائم کرنا ہی انسان کو حقیقی سکون فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انسان کو اپنی زندگی میں اللہ کی یاد کو ہمیشہ شامل رکھنا چاہیے۔
اس گفتگو کے بعد سامعہ حجاب کے مداحوں کی جانب سے انہیں نیک خواہشات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ وہ اپنی ویڈیوز اور لائیو سیشنز کے ذریعے اپنے تجربات کو مداحوں کے ساتھ شیئر کرتی رہتی ہیں۔
سامعہ حجاب کی یہ کہانی بہت سے ایسے نوجوانوں کے لیے ایک مثال ہے جو سوشل میڈیا کی دنیا میں مصروف رہنے کے باوجود ذہنی دباؤ اور تنہائی کا شکار ہو جاتے ہیں۔





اپنی رائے دیں