تھائی لینڈ کی ملکہ سوتھیدا نے اپنی شاندار پائلٹنگ کی مہارت کا ایک اور شاندار مظاہرہ کرتے ہوئے تھائی شاہی بیڑے کے بوئنگ مسافر طیارے کی خود کمان سنبھالی اور جاپان کے لیے ایک کامیاب پرواز کی۔ وہ بینکاک کے ہوائی اڈے سے روانہ ہوئیں اور طویل سفر طے کرکے جاپانی سرزمین پر اتریں تاکہ ایک اہم بین الاقوامی سپورٹس ایونٹ میں بھرپور طریقے سے شرکت کر سکیں۔ ایوی ایشن کے معتبر ذرائع کے مطابق یہ پرواز تقریبا سات گھنٹے طویل تھی جسے ملکہ نے انتہائی مہارت، توجہ اور پیشہ ورانہ انداز کے ساتھ مقررہ منزل تک پہنچایا۔
ملکہ سوتھیدا اس اہم سفر کے دوران جاپان کے شہر ہوکائیدو کے ائیرپورٹ پر اتریں جہاں بین الاقوامی آسیان ویمنز آئس ہاکی چیمپئن شپ کا باقاعدہ انعقاد کیا جا رہا ہے۔ وہ اس عالمی سپورٹس ایونٹ میں خصوصی طور پر شرکت کی غرض سے تشریف لائی ہیں کیونکہ وہ بین الاقوامی آئس ہاکی فیڈریشن کی ویمنز گلوبل ایمبیسیڈر کے باوقار عہدے پر فائز ہیں۔ جاپانی ائیرپورٹ پر بحفاظت لینڈنگ کرنے کے بعد شاہی مہمان نے کسی پروٹوکول کے بغیر خود گاڑی ڈرائیو کی اور ہوٹل تک کا طویل راستہ خود طے کیا۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق تھائی ملکہ سوتھیدا کے پاس کمرشل پائلٹ کا باقاعدہ لائسنس موجود ہے جو ان کی اس شعبے میں گہری مہارت اور دلچسپی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ وہ اب تک مختلف اقسام کے ہوائی جہازوں کو اڑاتے ہوئے تقریبا ایک ہزار ایک سو نوے گھنٹے پرواز کا طویل اور گراں قدر تجربہ حاصل کر چکی ہیں۔ اس سے قبل بھی وہ کئی اہم مواقع پر اپنی پرواز کی صلاحیتوں کا لوہا منوا چکی ہیں اور مختلف شاہی دوروں کے دوران انتہائی اہم ذمہ داریاں نبھا چکی ہیں۔
چند روز قبل ہی ملکہ سوتھیدا نے سویڈن کی ساخت کا حامل ایک جدید جنگی طیارہ تنہا اڑا کر تاریخ رقم کی تھی اور دنیا کی پہلی حکمران ملکہ بننے کا منفرد اعزاز حاصل کیا تھا۔ اس شاندار کارنامے نے انہیں عالمی سطح پر ایک منفرد شناخت دی ہے کیونکہ وہ سپر سونک فائٹر جیٹ اڑانے والی دنیا کی پہلی ملکہ بن چکی ہیں۔ تھائی لینڈ کا شاہی خاندان اپنی اس منفرد پائلٹنگ کی مہارت اور ہوابازی کے شوق کے حوالے سے دنیا بھر میں بڑی شہرت رکھتا ہے۔
عام طور پر غیر ملکی دوروں اور سرکاری دوروں کے دوران تھائی بادشاہ ماہا وجیرالونگ کورن اور ملکہ سوتھیدا خود ہی شاہی طیاروں کے امور سنبھالتے ہیں۔ بادشاہ خود کیپٹن جبکہ ملکہ کو-پائلٹ کے طور پر اپنے فرائض احسن طریقے سے انجام دیتی ہیں، جو ان کی شاہی جوڑی کی ایک نہایت دلچسپ خصوصیت ہے۔ تاہم اس حالیہ طویل بین الاقوامی پرواز کی خود اکیلے قیادت کرکے ملکہ سوتھیدا نے ایک اور نیا سنگ میل عبور کیا ہے۔
آئس ہاکی کے کھیل سے ملکہ کی وابستگی اس عالمی چیمپئن شپ کے تناظر میں انتہائی اہمیت کی حامل ہے جہاں وہ کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کے لیے پہنچی ہیں۔ آسیان کے خطے میں ویمنز آئس ہاکی کے فروغ کے لیے وہ مختلف پلیٹ فارمز پر متحرک رہی ہیں اور اپنی اس ذمہ داری کو بخوبی نبھا رہی ہیں۔ جاپان آمد کے موقع پر مقامی حکام اور منتظمین نے ان کا گرمجوشی سے استقبال کیا اور انہیں ایونٹ کے حوالے سے بریفنگ بھی فراہم کی۔
ایوی ایشن کے شعبے میں خواتین کے لیے ملکہ سوتھیدا کی یہ کارکردگی ایک روشن مثال کی حیثیت رکھتی ہے جو دنیا بھر کی خواتین کو اس میدان میں آگے بڑھنے کی ترغیب دیتی ہے۔ تھائی شاہی فضائیہ اور کمرشل بیڑے میں ان کی شمولیت اور پروازوں کی کمان سنبھالنا اس بات کا ثبوت ہے کہ شاہی شخصیات عملی میدان میں بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا سکتی ہیں۔ ان کا یہ سفر سوشل میڈیا اور عالمی خبر رساں اداروں میں بھی خصوصی توجہ کا مرکز بنا رہا۔
جاپان کے ہوکائیدو ائیرپورٹ پر طیارے کو اتارے جانے کا عمل انتہائی مہارت کے ساتھ مکمل کیا گیا جس کی ایوی ایشن ماہرین نے بھی بھرپور تحسین کی۔ سات گھنٹے طویل اس ہوائی سفر کے دوران موسمی حالات اور فضائی حدود کے تقاضوں کو ملکہ نے پائلٹ کی حیثیت سے کامیابی کے ساتھ ہینڈل کیا۔ مسافر طیارے کو خود اڑا کر لے جانے کا یہ اقدام تھائی شاہی روایت میں ایک نیا اور منفرد باب رقم کر گیا ہے جسے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
سپورٹس کے حلقوں میں ملکہ سوتھیدا کی اس آمد کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے کیونکہ ان کی موجودگی سے ویمنز آئس ہاکی کے کھلاڑیوں کا مورال بلند ہوگا۔ جاپان میں ہونے والا یہ ٹورنامنٹ جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کے درمیان کھیلوں کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہا ہے اور ملکہ کی شرکت اس کی شان بڑھا رہی ہے۔ ٹورنامنٹ کے انتظامات کا جائزہ لینے کے علاوہ وہ مختلف ٹیموں کے آفیشلز سے بھی ملاقاتیں کریں گی۔
تھائی لینڈ واپسی کے شیڈول کے بارے میں تاحال شاہی دفتر کی طرف سے مزید تفصیلات سامنے نہیں آئیں تاہم ان کا یہ دورہ جاپان اور تھائی لینڈ کے باہمی تعلقات کے لیے بھی خوش آئند قرار دیا جا رہا ہے۔ کھیلوں کے فروغ کے ساتھ ساتھ دوطرفہ ثقافتی اور سفارتی روابط کو مضبوط کرنے میں بھی اس قسم کے دورے ہمیشہ معاون ثابت ہوتے ہیں۔ جاپانی عوام اور میڈیا نے بھی تھائی ملکہ کی اس انوکھی مہارت اور سادگی کو بے حد سراہا ہے۔
ملکہ سوتھیدا کا شمار ان چیدہ شخصیات میں ہوتا ہے جو بیک وقت شاہی ذمہ داریوں اور پیشہ ورانہ مہارتوں میں توازن قائم رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے جس انداز میں ہوائی جہاز کی پرواز کے بعد ہوٹل تک خود ڈرائیو کیا، اس کی سادگی کے چرچے بھی ہر سو ہو رہے ہیں۔ دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ میں ان کے اس طویل فضائی سفر اور پائلٹنگ کے جوہر کو نمایاں طور پر شائع اور نشر کیا جا رہا ہے۔
کھیلوں کے فروغ کے لیے بین الاقوامی سطح پر اس نوعیت کے اقدامات شاذ و نادر ہی دیکھنے میں آتے ہیں جہاں کوئی شاہی شخصیت خود پائلٹ بن کر سپورٹس ایونٹ میں شرکت کے لیے پہنچے۔ ملکہ سوتھیدا کا یہ سفر نہ صرف تھائی لینڈ بلکہ پورے ایشیا کے لیے ایک اعزاز ہے جو کھیلوں اور ایوی ایشن دونوں شعبوں میں ان کی گہری وابستگی کو ظاہر کرتا ہے۔ ہوکائیدو میں جاری یہ چیمپئن شپ اب اس تاریخی پرواز کی وجہ سے مزید یادگار بن چکی ہے۔
تھائی شاہی خاندان کی یہ روایت اب ایک نئے دور میں داخل ہو چکی ہے جہاں جدید ٹیکنالوجی اور روایتی اقدار کا حسین امتزاج نظر آتا ہے۔ ملکہ سوتھیدا کی یہ پرواز تاریخ کے صفحات میں ہمیشہ کے لیے درج ہو چکی ہے اور آنے والے وقتوں میں اسے ایک شاندار مثال کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ جاپان میں ان کی مصروفیت کا یہ سلسلہ آئندہ چند روز تک جاری رہے گا جس کے بعد وہ واپس بنکاک روانہ ہوں گی۔





اپنی رائے دیں