ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے، اشیائے خورونوش کی مہنگائی اور ٹرانسپورٹ کے بڑھتے ہوئے اخراجات کے باعث عام آدمی کی معاشی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ نئے مالی سال کے ابتدائی تقریباً چار ماہ کے دوران پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
پاکستان ادارہ شماریات کے ہفتہ وار حساس قیمتوں کے اشاریے کے مطابق 2 جولائی سے 22 اکتوبر تک 51 ضروری اشیاء کی مجموعی قیمتوں میں 5.81 فیصد اضافہ ہوا۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باعث تنخواہ دار طبقے، دیہاڑی دار مزدوروں، پنشنرز اور کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے گھریلو اخراجات پورے کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق نئے مالی سال کے آغاز میں 2 جولائی کو حساس قیمتوں کا اشاریہ 354.24 پوائنٹس تھا جو 22 اکتوبر کو بڑھ کر 374.84 پوائنٹس تک پہنچ گیا۔ اس طرح تقریباً چار ماہ کے دوران ضروری اشیا کے مجموعی اشاریے میں 20.60 پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے مسافر ٹرانسپورٹ، مال بردار گاڑیوں اور زرعی اجناس کی نقل و حمل کے اخراجات پر بھی دباؤ بڑھا ہے۔ رپورٹ کے مطابق نئے مالی سال کے پہلے چار ماہ کے دوران پٹرول کی قیمت میں 26.11 فیصد جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 26.39 فیصد اضافہ ہوا۔
گزشتہ ماہ کے ان اعداد و شمار کے علاوہ 22 اکتوبر کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران مہنگائی کی شرح میں مزید 0.65 فیصد اضافہ ہوا۔ اس دوران گزشتہ سال کے اسی ہفتے کے مقابلے میں مہنگائی 11.85 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔
زیر جائزہ 51 ضروری اشیا میں سے اس ہفتے کے دوران 19 کی قیمتوں میں اضافہ، 12 میں کمی جبکہ 20 کی قیمتیں مستحکم رہیں۔ اشیائے خورونوش اور دیگر ضروری اشیاء کی قیمتوں میں یکساں رجحان دیکھنے میں نہیں آیا۔
دوسری طرف تمام اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں یکساں اضافہ نہیں ہوا اور بعض سبزیوں، دالوں اور انڈوں کی قیمتوں میں کمی بھی سامنے آئی ہے جو مارکیٹ کے تنوع کو ظاہر کرتی ہے۔
معاشی ماہرین اور متعلقہ حلقوں کے مطابق مہنگائی کی اس صورتحال نے غریب اور متوسط طبقے کے لیے روزمرہ کی زندگی گزارنا دشوار بنا دیا ہے، اور حکومت کی طرف سے جاری کردہ اعداد و شمار اس حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں۔




اپنی رائے دیں