پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے ملکی سیاسی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے حکومتی اقدامات پر کڑی تنقید کی ہے۔ انہوں نے ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ حکومت کی جانب سے اپوزیشن کے ساتھ کیے جانے والے مذاکرات محض ایک دکھاوا تھے۔
اسد قیصر کا کہنا تھا کہ گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کا فیصلہ بہت پہلے ہی کیا جا چکا تھا، جس کا مقصد سیاسی مخالفین کو دیوار سے لگانا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ مذاکرات کا ڈرامہ صرف وقت گزارنے اور عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانے کے لیے رچایا گیا تھا۔
پی ٹی آئی رہنما نے لانگ مارچ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کی جانب سے ایک فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی بنانے پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔ اس کمیٹی کا مقصد لانگ مارچ کے دوران پیش آنے والے واقعات اور ان کے محرکات کا حقیقت پسندانہ جائزہ لینا ہوگا۔
انہوں نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی افواہوں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا کہ کور کمیٹی کے اجلاس میں سلمان اکرم راجا نے سہیل آفریدی کو کسی بھی ناکامی کا ذمہ دار قرار نہیں دیا ہے۔ اس طرح کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے اور یہ محض قیاس آرائیاں ہیں۔
اسد قیصر نے واضح کیا کہ کور کمیٹی کے اجلاس میں خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور بھی موجود تھے اور تمام فیصلے مشاورت کے ساتھ کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کے اندر کسی قسم کے اختلافات کی خبریں بے بنیاد ہیں اور قیادت مکمل طور پر متحد ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اسد قیصر کے یہ بیانات موجودہ سیاسی کشیدگی میں مزید اضافے کا باعث بن سکتے ہیں۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جاری تلخیاں ملک میں سیاسی عدم استحکام کو جنم دے رہی ہیں جس پر عوامی حلقوں میں بھی تشویش پائی جاتی ہے۔
پی ٹی آئی کی جانب سے گورنر راج کے دعوے پر حکومتی حلقوں کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ تاہم سیاسی ماہرین کا ماننا ہے کہ آنے والے دنوں میں سیاسی محاذ آرائی میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے جس کے اثرات ملکی معیشت پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
اسد قیصر نے مزید کہا کہ تحریک انصاف اپنے مطالبات پر قائم ہے اور کسی بھی غیر آئینی اقدام کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں جمہوریت کی بحالی اور آئین کی بالادستی کے لیے پارٹی اپنی جدوجہد جاری رکھے گی اور کسی دباؤ میں نہیں آئے گی۔
پارٹی کی حکمت عملی کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم تمام قانونی اور آئینی راستے اختیار کریں گے۔ لانگ مارچ کے حوالے سے جو بھی فیصلہ ہوگا وہ کور کمیٹی کی مشاورت سے کیا جائے گا اور اس میں تمام تر پہلوؤں کو مدنظر رکھا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی گمراہ کن اطلاعات کا مقصد پارٹی کے کارکنوں میں انتشار پیدا کرنا ہے۔ کارکنوں کو چاہیے کہ وہ صرف پارٹی قیادت کے باضابطہ بیانات پر یقین رکھیں اور افواہوں پر کان نہ دھریں۔
اسد قیصر نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ حکومت کو عوامی مینڈیٹ کے مطابق فیصلے کرنے چاہئیں اور اپوزیشن کے ساتھ محاذ آرائی کے بجائے ملکی مسائل پر توجہ دینی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات کا دروازہ تبھی کھل سکتا ہے جب حکومت سنجیدگی کا مظاہرہ کرے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسد قیصر کے بیانات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی حکومت کے ساتھ کسی بھی قسم کے سمجھوتے کے لیے تیار نہیں ہے۔ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے درمیان خلیج مزید گہری ہوتی جا رہی ہے جس کے اثرات پارلیمانی کارروائی پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔
آخر میں اسد قیصر نے کہا کہ تحریک انصاف اپنی سیاسی سرگرمیوں کو تیز کرے گی اور عوام کو موجودہ صورتحال سے آگاہ رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں شفاف انتخابات ہی واحد راستہ ہیں جس سے بحرانوں کا خاتمہ ممکن ہے اور جمہوریت مستحکم ہو سکتی ہے۔



اپنی رائے دیں