اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان تحریک انصاف کے رکن پارلیمنٹ شیر افضل مروت نے ملکی سیاسی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں جمہوریت اور قانون کے نام پر جو کچھ ہو رہا ہے وہ لمحہ فکریہ ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شیر افضل مروت نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کے فیصلے پر سخت تنقید کی اور سوال اٹھایا کہ کیا یہی قانون کی حکمرانی اور جمہوریت کا اصل مفہوم ہے جس کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ قانون کی بالادستی کا بنیادی مقصد عوام کے حقوق کا تحفظ اور ان کی آواز کو بلند کرنا ہوتا ہے، نہ کہ طاقت کے زور پر عوامی رائے کو دبانا یا سیاسی مخالفین کو دیوار سے لگانے کی کوشش کرنا۔
پی ٹی آئی رہنما نے موجودہ سیاسی حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں لانگ مارچ کے حوالے سے لاکھوں افراد کو سڑکوں پر لانے کے بلند و بانگ دعوے کیے گئے تھے، مگر ان دعووں کا عملی نتیجہ برآمد نہ ہو سکا۔
شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ لانگ مارچ کی ناکامی نے حکومتی حلقوں کو بھی مشکلات میں مبتلا کر دیا ہے، کیونکہ اس سے نہ تو عوامی طاقت کا درست مظاہرہ ہو سکا اور نہ ہی حکومت پر کوئی مؤثر سیاسی دباؤ قائم ہو پایا۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت تب ہی مذاکرات کی میز پر آتی ہے جب اسے عوامی طاقت کے بھرپور مظاہرے کا سامنا ہو، لیکن موجودہ صورتحال میں سیاسی عمل اپنی افادیت کھوتا ہوا دکھائی دے رہا ہے جو کہ ملک کے لیے نقصان دہ ہے۔
سابقہ سیاسی ادوار کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نواز شریف کو 1993، 1999 اور 2017 میں اقتدار سے ہٹانے کے واقعات کا آج تک کسی نے احتساب نہیں کیا اور نہ ہی ان اقدامات کے ذمہ داروں کو کوئی سزا دی گئی۔
انہوں نے زور دیا کہ ملک میں حقیقی جمہوریت کی بحالی کے لیے ضروری ہے کہ قانون کا اطلاق سب کے لیے برابر ہو اور سیاسی فیصلوں میں عوامی امنگوں کو مقدم رکھا جائے تاکہ ملک میں استحکام پیدا ہو سکے۔
شیر افضل مروت نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ موجودہ حکومت کو چاہیے کہ وہ سیاسی انتقام کے بجائے عوامی مسائل کے حل پر توجہ دے، کیونکہ عوام کی طاقت ہی کسی بھی جمہوری حکومت کی اصل بقا کی ضمانت ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر سیاسی جماعتیں عوامی اعتماد کھو دیں تو پھر جمہوریت کا تسلسل برقرار رکھنا مشکل ہو جاتا ہے، اس لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو مل بیٹھ کر ملک کو درپیش بحرانوں سے نکالنے کے لیے سنجیدہ کوششیں کرنی ہوں گی۔
پی ٹی آئی رہنما نے اس بات پر بھی زور دیا کہ خیبر پختونخوا کے عوام کے مینڈیٹ کا احترام کیا جانا چاہیے اور صوبائی معاملات میں مداخلت سے گریز کرنا چاہیے تاکہ وفاق اور صوبوں کے درمیان تعلقات میں بہتری آ سکے۔
انہوں نے آخر میں کہا کہ پاکستان کو اس وقت معاشی اور سیاسی چیلنجز کا سامنا ہے، جن سے نمٹنے کے لیے قومی اتفاق رائے اور آئین و قانون کی بالادستی ناگزیر ہے تاکہ ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکے۔
شیر افضل مروت کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں سیاسی درجہ حرارت بڑھا ہوا ہے اور مختلف سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کے اقدامات پر تنقید کر رہی ہیں، جس سے سیاسی عدم استحکام کے خدشات پیدا ہو رہے ہیں۔





اپنی رائے دیں