ملک کے مختلف شہروں میں ایل پی جی کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے جس کے باعث گھریلو صارفین کو کھانا پکانے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ گیس کی عدم دستیابی اور لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے چولہے ٹھنڈے پڑ چکے ہیں اور عوام متبادل ذرائع تلاش کرنے پر مجبور ہیں۔
شہروں میں گیس کی قلت کے باعث ایل پی جی کی مانگ میں اچانک اضافہ ہوا ہے، تاہم سپلائی چین متاثر ہونے سے مارکیٹ میں ایل پی جی نایاب ہو گئی ہے۔ دکانداروں کا کہنا ہے کہ انہیں گیس کی سپلائی نہیں مل رہی جس کی وجہ سے بحران سنگین ہو رہا ہے۔
گھریلو صارفین کا کہنا ہے کہ گیس کی لوڈ شیڈنگ نے ان کے معمولات زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ صبح اور شام کے اوقات میں گیس پریشر نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے جس سے ناشتہ اور رات کا کھانا تیار کرنا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔
ماہرین کے مطابق سردیوں کے موسم میں گیس کی کھپت میں اضافہ ہو جاتا ہے، جس سے سسٹم پر دباؤ بڑھتا ہے۔ گیس کے ذخائر میں کمی اور درآمدی گیس کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ بھی اس بحران کی بڑی وجوہات میں شامل ہیں۔
صارفین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ گیس کی بلاتعطل فراہمی کو یقینی بنایا جائے اور ایل پی جی کی مصنوعی قلت پیدا کرنے والے عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے۔ عوام کا کہنا ہے کہ گیس کی عدم دستیابی سے نچلے طبقے کے لیے زندگی گزارنا مشکل ہو گیا ہے۔
دوسری جانب ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے بروقت اقدامات نہ کیے تو صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔ ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ اس کی دستیابی کو یقینی بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
انتظامیہ کی جانب سے بھی گیس کی صورتحال پر نظر رکھی جا رہی ہے تاکہ ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائی کی جا سکے۔ حکومتی سطح پر گیس کے متبادل ذرائع کی فراہمی کے لیے بھی مختلف تجاویز پر غور کیا جا رہا ہے۔
گیس کی قلت کا یہ مسئلہ ملک کے کئی حصوں میں درپیش ہے۔ سردی کی شدت بڑھنے کے ساتھ ہی گیس کی طلب میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ گیس کمپنیوں کو ہدایت کی جائے کہ وہ لوڈ شیڈنگ کے شیڈول پر سختی سے عمل درآمد کریں تاکہ عوام کو پیشگی اطلاع مل سکے۔ غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ سے گھریلو خواتین کو سب سے زیادہ مشکلات کا سامنا ہے۔
حکومت کی جانب سے گیس کے شعبے میں اصلاحات لانے کے دعوے کیے جاتے رہے ہیں، تاہم زمینی حقائق بتاتے ہیں کہ عوام کو اب بھی بنیادی سہولیات کے حصول کے لیے جدوجہد کرنی پڑ رہی ہے۔
ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافے سے عام آدمی کی قوت خرید بھی متاثر ہوئی ہے۔ مہنگائی کے اس دور میں گیس کے بلوں کے ساتھ ساتھ ایل پی جی کی خریداری بھی ایک اضافی بوجھ بن چکی ہے۔
امید کی جا رہی ہے کہ متعلقہ حکام جلد ہی اس بحران پر قابو پانے کے لیے عملی اقدامات اٹھائیں گے۔ گیس کی فراہمی کو معمول پر لانا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہونا چاہیے تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے۔
مستقبل میں گیس کے بحران سے بچنے کے لیے توانائی کے متبادل ذرائع اور شمسی توانائی کے استعمال کو فروغ دینا بھی ضروری ہے۔ اس سے نہ صرف گیس پر انحصار کم ہوگا بلکہ توانائی کے شعبے میں خود کفالت بھی حاصل کی جا سکے گی۔



اپنی رائے دیں