مواد پر جائیں
اتوار، 18 اکتوبر 2026 7 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: صبح 10:37
بریکنگ
مصر کا سعودی عرب کے دفاع کیلئے ہر ممکن اقدامات اٹھانے کا اعلانجدہ ایئرپورٹ پر پروازوں کا آپریشن 45 منٹ کی معطلی کے بعد بحالفرانس اور البانیہ میں حکومت مخالف مظاہرے، متعدد عمارتیں نذرِ آتشبھارت: کولکتہ میں مذہبی تہوار کے دوران بھگدڑ، 17 افراد ہلاکسعودی عرب: امریکا اور برطانیہ کی اپنے شہریوں کو سکیورٹی الرٹ جاریپشاور: یکہ توت میں نامعلوم افراد کی رکشے پر فائرنگ سے دو خواتین جاں بحقمشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی: امریکی فضائیہ کا ری فیولنگ طیارہ مشن کے لیے تیاراپر کرم اور غوز گڑھی میں پاک فوج کا افغان طالبان کی اشتعال انگیزی کا منہ توڑ جوابمغربی کنارے میں یہودی آباد کاروں کا یورپی سفارت کاروں کے وفد پر حملہلائن آف کنٹرول پر پاک فوج اور محکمہ صحت کا فری میڈیکل کیمپلاہور میں چھٹی کا دن، شہریوں کا روایتی ناشتے کے پوائنٹس پر رشاسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر خصوصی افراد کے لیے سن فلاور لین یارڈ پروگرام کا آغازاسلام آباد کے مختلف علاقوں میں گیس کی عارضی بندش کا اعلانخیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال اور وفاقی اقداماتجدہ ایئرپورٹ پر پروازوں کی آمد و رفت عارضی طور پر معطل، 45 منٹ بعد بحالسٹار لنک انٹرنیٹ کی رفتار محدود، یوکرین کا روسی ڈرونز روکنا مشکل ہوگیادبئی میں 16 ملین ڈالر کے بینک فراڈ میں ملوث اسرائیلی شہری کولمبیا سے گرفتارجدہ ایئرپورٹ پر فلائٹ آپریشن عارضی طور پر معطل، 45 منٹ بعد بحالکراچی: مسافر بس سے کروڑوں مالیت کے اسمگل شدہ موبائل فونز اور ٹیبلٹس برآمدایران جوہری معاہدہ یا تباہ کن جنگ میں سے ایک کا انتخاب کرے، امریکی وزیر دفاع
پاکستان

خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال اور وفاقی اقدامات

صوبے میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی اور سیکیورٹی چیلنجز کے پیش نظر وفاقی حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے آئینی اقدامات پر بحث جاری ہے۔

خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال اور وفاقی اقدامات

خیبرپختونخوا میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال اور دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات نے وفاقی حکومت کو غیر معمولی آئینی اقدامات پر غور کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے جس پر کسی قسم کا سمجھوتہ ممکن نہیں۔

گزشتہ چند برسوں کے دوران صوبے میں دہشت گردی کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق 2020 میں دہشت گردی کے واقعات کی تعداد 99 تھی جو 2026 میں 13 اکتوبر تک 851 تک پہنچ چکی ہے، جو کہ ایک سنگین صورتحال کی عکاسی کرتی ہے۔

دہشت گردی کے ان واقعات میں خودکش حملوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے، جس سے نہ صرف عام شہری بلکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار بھی متاثر ہو رہے ہیں۔ دستیاب ریکارڈ کے مطابق 2020 میں 1، 2021 میں 2، 2022 میں 8، 2023 میں 28، 2024 میں 15، 2025 میں 16 اور 2026 میں 13 خودکش حملے ہوئے۔

وفاقی حکومت کا موقف ہے کہ صوبائی قیادت اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کے بجائے سیاسی محاذ آرائی میں مصروف رہی ہے۔ وفاق کا الزام ہے کہ صوبائی وسائل کو امن و امان کے قیام کے بجائے اپنے گرفتار رہنما کی رہائی اور دھرنوں پر خرچ کیا گیا ہے۔

ماضی میں دہشت گردی کے خلاف حاصل ہونے والی کامیابیاں اب خطرے میں پڑتی دکھائی دے رہی ہیں۔ جون 2014 میں شروع کیے گئے آپریشن ضربِ عضب کے بعد امن کی جو فضا قائم ہوئی تھی، اسے برقرار رکھنے کے لیے مستقل حکمت عملی کی ضرورت تھی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے وفاق اور صوبے کے درمیان قریبی تعاون ناگزیر ہے۔ سیاسی کشمکش کی وجہ سے سیکیورٹی اداروں کے درمیان ہم آہنگی متاثر ہوئی ہے، جس کا براہِ راست فائدہ دہشت گرد عناصر کو پہنچ رہا ہے۔

بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو بھی اپنے آبائی علاقوں میں بھتے کی کالز اور دھمکیوں کا سامنا ہے، جو کہ ایک نیا اور سنگین چیلنج بن کر ابھرا ہے۔ یہ صورتحال ملک کی معاشی اور سماجی ساکھ پر بھی منفی اثرات مرتب کر رہی ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف کی حکومت نے اب غیر معمولی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے صوبے میں امن کی بحالی کا عزم ظاہر کیا ہے۔ عوام کی توقع ہے کہ اب عملی اقدامات کے ذریعے دہشت گردی کا خاتمہ کیا جائے گا اور پائیدار امن قائم ہوگا۔

صوبے میں پولیس کی استعداد کار بڑھانے، اسکولوں اور اسپتالوں کو محفوظ بنانے اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ ترقیاتی اہداف کا تعین کر کے ان پر عمل درآمد ہی عوام کا اعتماد بحال کر سکتا ہے۔

خیبرپختونخوا کے عوام گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے سے قربانیاں دے رہے ہیں اور اب وہ ایک پرسکون زندگی کے منتظر ہیں۔ ریاست کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو خوف سے آزاد ماحول فراہم کرے تاکہ وہ معمول کی زندگی گزار سکیں۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے بے پناہ قربانیاں دی ہیں اور لاکھوں شہریوں نے نقل مکانی کا دکھ برداشت کیا ہے۔ ان قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا اور ریاست اپنی رٹ قائم رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔

آئینی طور پر گورنر راج یا ایمرجنسی کا نفاذ ایک سنجیدہ قدم ہے، جس کا مقصد صوبے میں انتظامی امور کو بہتر بنانا اور امن و امان کی صورتحال کو کنٹرول میں لانا ہے۔ اس فیصلے کے نتائج آنے والے دنوں میں واضح ہوں گے۔

حکومت کو چاہیے کہ وہ تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لے کر دہشت گردی کے خلاف ایک قومی بیانیہ تشکیل دے۔ قومی سلامتی کے معاملات پر سیاست سے بالاتر ہو کر فیصلے کرنا ہی ملک و قوم کے وسیع تر مفاد میں ہے۔

پاکستان کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں