کولمبیا کے دارالحکومت بوگوٹا میں بین الاقوامی پولیس (انٹرپول) نے ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے دبئی میں کروڑوں ڈالر کے بینک فراڈ میں ملوث ایک اسرائیلی شہری کو گرفتار کر لیا ہے۔ ملزم کو ال ڈوراڈو بین الاقوامی ایئرپورٹ پر اس وقت حراست میں لیا گیا جب وہ ملک میں داخل ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔
گرفتار ہونے والے شخص کی شناخت 61 سالہ مائیکل مزراحی کے نام سے ہوئی ہے، جو میکسیکو کی شہریت بھی رکھتا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ملزم مبینہ طور پر ایک بین الاقوامی گروہ کا حصہ تھا جس نے دبئی میں واقع بینک آف خرطوم کو بھاری رقم کا نقصان پہنچایا تھا۔
تفتیشی اداروں کے مطابق اس فراڈ کی مالیت تقریباً 16 ملین امریکی ڈالر (تقریباً 61.4 ملین درہم) بتائی جاتی ہے۔ ملزمان نے انتہائی مہارت سے جعلی مالیاتی دستاویزات اور فرضی سرمایہ کاری کے منصوبوں کا سہارا لے کر بینک حکام کو دھوکہ دیا اور رقم حاصل کی۔
ملزم مائیکل مزراحی، جسے تفتیشی حلقوں میں 'بینکر' کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے، پر الزام ہے کہ اس نے خود کو ایک دولت مند سرمایہ کار اور کاروباری شخصیت کے طور پر پیش کیا۔ اس نے بینک سے حاصل کردہ رقم کا ایک بڑا حصہ اپنی کمپنیوں میں منتقل کیا۔
کولمبیا میں انٹرپول کے سربراہ کرنل ایلور ویسینتے الفونسو نے اس گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ یہ کارروائی دبئی کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ قریبی تعاون اور انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر عمل میں لائی گئی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ ملزم کو متحدہ عرب امارات کے حوالے کرنے کے لیے قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ کولمبیا کے استغاثہ اس حوالے سے تمام تر ضروری اقدامات مکمل کر رہے ہیں تاکہ ملزم کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔
قانونی ماہرین کے مطابق اگر ملزم مائیکل مزراحی اپنی حوالگی کے عمل کو عدالت میں چیلنج کرتا ہے تو اس قانونی پیچیدگی کے باعث اسے متحدہ عرب امارات منتقل کرنے میں کئی ہفتوں کی تاخیر ہو سکتی ہے۔
دبئی حکام اس کیس کو انتہائی اہمیت دے رہے ہیں کیونکہ یہ ایک منظم بین الاقوامی مالیاتی جرم کا حصہ ہے۔ اس گرفتاری سے اس گروہ کے دیگر ارکان تک پہنچنے میں بھی مدد ملنے کی توقع کی جا رہی ہے جو اس فراڈ میں ملوث تھے۔
اسرائیلی میڈیا نے بھی اس واقعے کی تصدیق کی ہے اور بتایا ہے کہ ملزم طویل عرصے سے حکام کو مطلوب تھا۔ کولمبیا کی پولیس نے ایئرپورٹ پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کے دوران ملزم کو حراست میں لیا جس کے بعد اسے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا۔
بینکنگ سیکٹر میں اس طرح کے بڑے فراڈ کے واقعات کے بعد متحدہ عرب امارات میں سیکیورٹی اور مالیاتی جانچ پڑتال کے نظام کو مزید سخت کر دیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ کسی بھی قسم کی مالیاتی بدعنوانی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
کولمبیا اور متحدہ عرب امارات کے درمیان قیدیوں کی حوالگی کے معاہدوں کے تحت اس کیس کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر مالیاتی جرائم کے خلاف یہ ایک بڑی کامیابی قرار دی جا رہی ہے جس سے عالمی سطح پر نیٹ ورک کو توڑنے میں مدد ملے گی۔
مزید تفتیش کے دوران یہ بھی دیکھا جا رہا ہے کہ آیا اس گروہ نے دیگر ممالک میں بھی اسی طرح کے فراڈ کیے ہیں۔ مائیکل مزراحی کی گرفتاری سے اس نیٹ ورک کے دیگر سہولت کاروں اور ان کے طریقہ کار کے بارے میں اہم انکشافات متوقع ہیں۔
فی الحال ملزم کولمبیا کی تحویل میں ہے اور اسے جلد ہی عدالت میں پیش کیا جائے گا تاکہ اس کی حوالگی کے قانونی مراحل کو حتمی شکل دی جا سکے۔ عالمی سطح پر انٹرپول کی یہ کارروائی مالیاتی جرائم میں ملوث عناصر کے لیے ایک سخت پیغام ہے۔





اپنی رائے دیں