وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے قانون بیرسٹر عقیل ملک نے جمیعت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی جانب سے لگائے گئے الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ دعوے بے بنیاد اور حقائق کے منافی ہیں۔
بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان ایک زیرک سیاستدان ہیں، تاہم ان کی جانب سے یہ کہنا کہ ایمرجنسی کا فیصلہ معدنیات کے حصول کے لیے کیا گیا، افسوسناک ہے۔ انہوں نے مولانا کو چیلنج کیا کہ وہ امریکہ کے ساتھ معدنیات کا کوئی بھی لائسنس سامنے لائیں۔
وزیر مملکت نے واضح کیا کہ امریکہ یا کسی بھی دوسرے ملک کے ساتھ معدنیات کا کوئی لائسنس یا معاہدہ نہیں کیا گیا ہے۔ انہوں نے ان الزامات کو من گھڑت قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت اس قسم کی بے بنیاد باتوں کی سختی سے تردید کرتی ہے۔
انہوں نے خیبر پختونخوا کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہی ہے۔ بیرسٹر عقیل نے یاد دلایا کہ مولانا فضل الرحمان خود ماضی میں صوبے کی سیکیورٹی صورتحال پر عدم اطمینان کا اظہار کر چکے ہیں۔
بیرسٹر عقیل ملک نے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے بتایا کہ فروری 2024 تک صوبے میں 3 ہزار 262 مائننگ لائسنس جاری کیے گئے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ 2024 کے بعد اب تک 4 ہزار 917 لائسنس جاری ہو چکے ہیں جو پی ٹی آئی دور حکومت کا تسلسل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی 13 سالہ حکومت رہی ہے اور موجودہ مائننگ لائسنس اسی دورانیے میں دیے گئے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ سیاست میں الزامات کے بجائے حقائق پر بات ہونی چاہیے تاکہ عوام میں غلط فہمیاں پیدا نہ ہوں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت ملک کے وسائل کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے اور کسی بھی غیر ملکی طاقت کو معدنیات کے غیر قانونی لائسنس دینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے بیانات سے قومی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
بیرسٹر عقیل ملک نے پریس کانفرنس کے دوران عالمی سطح پر خوراک کے ضیاع کے حوالے سے اقوام متحدہ کی رپورٹ کا حوالہ بھی دیا۔ انہوں نے بتایا کہ دنیا میں ہر سال ایک ارب ٹن سے زائد خوراک ضائع ہو رہی ہے جبکہ لاکھوں افراد غذائی قلت کا شکار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت ملک میں معاشی استحکام اور شفافیت کے لیے کوشاں ہے اور ایسے غیر ذمہ دارانہ بیانات سے گریز کرنا چاہیے۔ انہوں نے مولانا فضل الرحمان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے الزامات کے حق میں ثبوت فراہم کریں یا ان سے رجوع کریں۔
وزیر مملکت نے مزید کہا کہ ملک کو اس وقت درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے سیاسی ہم آہنگی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت تمام آئینی تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے پرعزم ہے اور کسی بھی قسم کے دباؤ میں نہیں آئے گی۔
انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام کے مسائل کا حل نکالنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ الزامات کی سیاست سے گریز کر کے ملکی ترقی اور خوشحالی کے لیے کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے۔
پریس کانفرنس کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ حکومت اپنی پالیسیوں میں شفافیت پر یقین رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ معدنیات کے شعبے میں اصلاحات لائی جا رہی ہیں تاکہ صوبے کے وسائل سے عوام کو براہ راست فائدہ پہنچایا جا سکے اور معیشت مستحکم ہو۔
بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کے الزامات کا مقصد صرف سیاسی پوائنٹ سکورنگ ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کسی بھی قسم کی بحث کے لیے تیار ہے لیکن حقائق کو مسخ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور نہ ہی بے بنیاد الزامات کو برداشت کیا جائے گا۔



اپنی رائے دیں