یورپی ممالک میں مسافر پروازوں اور نشریاتی اداروں کو بم کی جھوٹی دھمکیوں کا سلسلہ تیسرے روز بھی جاری رہا جس کے باعث فضائی سفر شدید متاثر ہوا۔ بلغاریہ اور آئرلینڈ کے میڈیا اداروں کو موصول ہونے والی دھمکی آمیز ای میلز میں یورپ بھر کے ٹرانسپورٹ ذرائع کو نشانہ بنانے کی وارننگ دی گئی۔
آئرلینڈ کے سرکاری نشریاتی ادارے آر ٹی ای نے عمارت کو خالی کروا کے نشریات معطل کر دیں جبکہ بلغاریہ کے نووا ٹی وی کو بھی اسی قسم کی ای میل موصول ہوئی۔ برطانوی نشریاتی ادارے اسکائی نے بھی ایک سکیورٹی خطرے کی تصدیق کی ہے۔
یہ ای میلز میخائل اندروبوف کے نام سے بھیجی گئیں اور ان پر پیغام برائے مغرب کی سرخی درج تھی۔ سکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ تمام طیارے بحفاظت اتر گئے اور کسی قسم کا دھماکا خیز مواد نہیں ملا۔
اطلاعات کے مطابق جمعہ کے روز جمعرات کے مقابلے میں خلل کم رہا تاہم ایک اطالوی ایئرپورٹ اتھارٹی نے بتایا کہ پراگ سے روم جانے والی وزر ایئر کی پرواز کا رخ وینس کی طرف موڑ دیا گیا۔ ہنگری کے لڑاکا طیاروں نے برسلز سے صوفیہ، پراگ سے بخارست اور قبرص جانے والے طیاروں کو اپنی فضائی حدود میں گھیرے میں رکھا۔
ہنگری کے وزیر دفاع کے مطابق نیٹو نے اس خطے میں فضائی گشت کا حکم دیا جو اس عسکری اتحاد کی اس معاملے میں پہلی بار ظاہری شمولیت ہے۔ ہسپانوی وزیر خارجہ خوسے مینوئل الباریس نے ان واقعات کو ظاہری ہائبرڈ جارحیت اور نفسیاتی جنگ کی ایک شکل قرار دیا۔
یورپی حکام نے ایسے آپریشنز کے لیے روس کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے تاہم ماسکو نے اس میں کسی بھی قسم کے ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔ یورپی یونین کی ٹیکنالوجی کمشنر ہینا ویرکونن نے بتایا کہ روس کی جانب سے یوکرین پر حملے کے بعد سے یورپ کو سبوٹاج، ڈرون دراندازی اور سائبر حملوں کا سامنا رہا ہے۔
روس کی پابندیوں کا شکار انتہائی دائیں بازو کی تنظیم میل سٹیٹ کے بانی ولادیسلاو پوزدنیاکوف نے دھمکیوں میں کسی بھی قسم کے تعلق سے انکار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ روسی حکام کی جانب سے انتہا پسندانہ سرگرمیوں پر پابندی عائد کرنے کے بعد یہ گروپ 2021 میں ہی ختم ہو چکا تھا۔



اپنی رائے دیں