وفاقی وزارتِ بحری امور کی جانب سے بحری جہازوں اور کشتیوں کی رجسٹریشن کے لیے آن لائن سسٹم کا باضابطہ آغاز کر دیا گیا ہے۔
اس نئے ڈیجیٹل نظام کے فعال ہونے کے بعد بحری جہازوں اور کشتیوں کے مالکان کو رجسٹریشن کے لیے اب سرکاری دفاتر کے چکر نہیں لگانا پڑیں گے۔
مالکان اب گھر بیٹھے الیکٹرانک طریقے سے اپنی رجسٹریشن کی درخواستیں جمع کرانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
اسلام آباد سے جاری ہونے والے ایک بیان میں وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انور چوہدری نے اس پیشرفت کا باضابطہ اعلان کیا۔
وفاقی وزیر محمد جنید انور چوہدری کے مطابق اس اقدام سے ملک میں میری ٹائم انتظامیہ کے امور میں جدیدیت آئے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس نئے نظام سے دفتری کاغذی کارروائی میں نمایاں کمی واقع ہوگی۔
اس ڈیجیٹل عمل سے درخواست گزاروں کے قیمتی وقت اور مالی اخراجات دونوں کی بچت ہوگی۔
وزارت کے مطابق اس نظام سے انتظامی شفافیت کو فروغ ملے گا اور تمام امور میں بہتری آئے گی۔
اس کے علاوہ اس اقدام کی بدولت رجسٹرڈ بحری جہازوں کا قومی ڈیٹا بیس ہمیشہ اپ ڈیٹ حالت میں رہے گا۔
وزارتِ بحری امور کے ماتحت کام کرنے والا مرکنٹائل میرین ڈیپارٹمنٹ اس تمام عمل کا نگران ادارہ ہے۔
مرکنٹائل میرین ڈیپارٹمنٹ مرچنٹ شپنگ آرڈیننس اور دیگر متعلقہ قوانین کے تحت اپنے فرائض انجام دیتا ہے۔
یہ محکمہ تجارتی بحری جہازوں، ماہی گیروں کی کشتیوں، سیلنگ ویسلز اور ہاربر کرافٹس کی رجسٹریشن کا ذمہ دار ہے۔
درخواست گزاروں کو مزید ریلیف فراہم کرنے کے لیے وزارتِ بحری امور آن لائن ادائیگیاں متعارف کرانے پر بھی کام کر رہی ہے۔
اس سلسلے میں مرکنٹائل میرین ڈیپارٹمنٹ اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے حکام کے درمیان رابطے طے کیے گئے ہیں۔
دونوں اداروں کے حکام کے درمیان سسٹم میں الیکٹرانک پیمنٹ میکانزم کو ضم کرنے کے امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
متعلقہ حکام کی جانب سے توقع ظاہر کی گئی ہے کہ آن لائن ادائیگیاں بھی بہت جلد فعال کر دی جائیں گی۔
یہ تمام اقدامات میری ٹائم سیکٹر کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی حکومتی کوششوں کا حصہ ہیں۔
اس نظام کی کامیابی سے سمندری سفر اور ماہی پروری سے وابستہ افراد کو براہ راست سہولت ملے گی۔
حکام کا ماننا ہے کہ اس ڈیجیٹل تبدیلی سے مجموعی کارکردگی میں بھی خاطر خواہ بہتری آئے گی۔


اپنی رائے دیں