امریکی وسط مدتی انتخابات کے نتائج کے بعد ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے وابستہ کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔ اس گراوٹ کے نتیجے میں بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی مارکیٹ ویلیو میں اربوں ڈالرز کا نقصان ہوا ہے۔
نازڈیک کمپوزٹ انڈیکس میں 5.5 فیصد سے زائد کی تنزلی ریکارڈ کی گئی، جس سے مارکیٹ کیپٹلائزیشن میں تقریباً 2.5 ٹریلین ڈالرز کا خسارہ ہوا۔ یہ 2025 کے بعد سے امریکی اسٹاک مارکیٹ کے لیے بدترین دنوں میں سے ایک ثابت ہوا ہے۔
اس گراوٹ کی بنیادی وجہ ڈیموکریٹس کی کانگریس میں کامیابی ہے، جنہوں نے اپنی انتخابی مہم کے دوران ڈیٹا سینٹرز کے پھیلاؤ اور اے آئی ٹیکنالوجی پر سخت نگرانی اور پابندیوں کا وعدہ کیا تھا۔ ڈیموکریٹک سینیٹر برنی سینڈرز نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں ڈیٹا سینٹرز پر فوری پابندی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ عوام بگ ٹیک کمپنیوں کی جانب سے ماحولیاتی نقصانات اور ملازمتوں کے خاتمے کو قبول نہیں کریں گے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسٹاک مارکیٹ کی اس صورتحال کا ذمہ دار اپنے سیاسی مخالفین کو قرار دیا ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ انتخابات کے نتائج کے باعث مارکیٹ تاریخ کے بدترین دنوں میں سے ایک سے گزری ہے، تاہم انہوں نے مستقبل میں بہتری کی امید ظاہر کی۔
چپ بنانے والی معروف کمپنیوں کے حصص میں بھی بڑی کمی دیکھی گئی۔ اینویڈیا کے حصص 9 فیصد سے زائد گر گئے جس سے کمپنی کی مارکیٹ ویلیو میں 400 ارب ڈالرز سے زیادہ کی کمی ہوئی۔ اسی طرح اے ایم ڈی اور مائیکرون کے حصص میں 17 فیصد سے زائد کی گراوٹ ریکارڈ کی گئی۔
ایلون مسک کی کمپنیوں اسپیس ایکس اور ٹیسلا کے حصص میں بھی بالترتیب 8 اور 11 فیصد تک کی کمی ہوئی، جس سے ان کمپنیوں کی مارکیٹ ویلیو میں 300 ارب ڈالرز سے زائد کا نقصان ہوا۔
اوپن اے آئی کے صدر گریگ بروک مین نے تسلیم کیا کہ ڈیٹا سینٹرز کے حوالے سے عوامی ردعمل نے ٹیکنالوجی کمپنیوں کو حیران کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب کمپنیوں کو مقامی برادریوں کے ساتھ بہتر روابط قائم کرنے کی ضرورت ہے۔
میٹا کی صدر ڈینا پاول میک کارمک نے بھی اس بات پر زور دیا کہ انڈسٹری کو مصنوعی ذہانت کے فوائد کو بہتر انداز میں عوام تک پہنچانے کے لیے مزید کوششیں کرنی ہوں گی۔
اس صورتحال نے ایس اینڈ پی 500 اور ڈاؤ جونز انڈسٹریل ایوریج سمیت دیگر اہم امریکی انڈیکسز کو بھی متاثر کیا ہے۔ مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق نازڈیک انڈیکس اب 'کریکشن' کے زون میں داخل ہو چکا ہے، جہاں قیمتیں اپنے حالیہ بلند ترین سطح سے 10 فیصد نیچے آ گئی ہیں۔



اپنی رائے دیں