امریکہ کے دارالحکومت واشنگٹن میں واقع وائٹ ہاؤس کی جانب سے منگل کے روز باضابطہ طور پر اعلان کیا گیا کہ ملک کی خاتونِ اول میل ان یا ٹرمپ روس اور یوکرین کے مابین امن مذاکرات کی میزبان ہوں گی۔ اس اعلیٰ سطحی تقریب میں دونوں متحارب ممالک کے نمائندے شریک ہوں گے تاکہ باہمی تنازع کے حل پر بات چیت کی جا سکےتی۔
وائٹ ہاؤس کے جاری کردہ بیان کے مطابق فریقین کی یہ ملاقات واشنگٹن میں منعقد کی جائے گی، جسے امریکی تاریخ کا ایک غیر معمولی لمحہ قرار دیا گیا ہے۔ بیان میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ یہ ملاقات کس تاریخ کو ہوگی اور اس میں کون کون سے اعلیٰ حکام یا افراد شرکت کریں گے۔
روس کی جانب سے بھی نئے یوکرین امن مذاکرات کی تصدیق کی گئی ہے جبکہ ماسکو حکومت نے جنگ بندی کے لیے ہونے والی اس نئی بیٹھک کے حوالے سے تیاریوں کا عندیہ دیا ہے۔ امریکی خاتونِ اول کو اس سے قبل اویلشکی میں ہونے والی امدادی جنگ بندی پر بھی خراجِ تحسین پیش کیا جا چکا ہے۔
دوسری جانب روس کے حملے کے نتیجے میں یوکرین کے مسافروں کو بھی نشانہ بنائے جانے کے واقعات سامنے آتے رہے ہیں جن پر بین الاقوامی سطح پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ مبصرین کے نزدیک وائٹ ہاؤس کی اس نئی سفارتی پہل کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے جاری خونریز تنازع کے خاتمے کی راہ ہموار کرنا ہے۔
ملاقات کے شرکا اور ان کے ناموں کے حوالے سے انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی حتمی فہرست یا تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس تقریب کے انتظامات کو حتمی شکل دی جا رہی ہے اور جلد ہی مزید تفصیلات کا اعلان کیا جائے گا۔
روس اور یوکرین کے درمیان یہ سفارتی پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عالمی طاقتیں اس تنازع کا کوئی پرامن حل تلاش کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ اس سے قبل بھی مختلف ممالک کی جانب سے جنگ بندی کی کوششیں کی گئی ہیں جن کے نتائج مخلوط رہے ہیں۔
وائٹ ہاؤس کے اس اعلان کے بعد عالمی میڈیا اور سفارتی حلقوں میں اس ملاقات کو انتہائی اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ دونوں ممالک کے نمائندے اس پلیٹ فارم سے کس حد تک امن کے قیام میں کامیاب ہو پاتے ہیں۔
روس اور یوکرین کے مابین تعلقات گذشتہ چند برسوں سے انتہائی کشیدہ چلے آ رہے ہیں اور دونوں ملکوں کے درمیان متعدد بار مذاکرات کے دور ناکام بھی ہو چکے ہیں۔ حالیہ ملاقات کے انعقاد سے خطے میں دیرپا امن کے قیام کی نئی امیدیں وابستہ کی جا رہی ہیں۔
اس تمام صورتحال کے تناظر میں بین الاقوامی برادری اور مختلف ممالک کے رہنما اس پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ وائٹ ہاؤس نے اس بات پر زور دیا ہے کہ امریکی قیادت تنازع کے پرامن حل کے لیے تمام ممکنہ سفارتی ذرائع بروئے کار لاتی رہے گی۔


اپنی رائے دیں