اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت میں پولیس سے جھگڑے کے مقدمے کی اہم سماعت ہوئی جس دوران عدالت نے ملزمان کی درخواستِ ضمانت پر اپنا فیصلہ سنا دیا۔
انسداد دہشت گردی عدالت کے جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے اس مقدمے کی باقاعدہ سماعت کی اور عدالتی کارروائی کو آگے بڑھایا۔
سماعت کے دوران پولیس کی جانب سے مقدمے کا مطلوبہ ریکارڈ آخر کار عدالت میں پیش کر دیا گیا جسے جج کے سامنے رکھا گیا۔
ریاستی وکیل علی آزاد نے عدالت کو آگاہ کیا کہ متعلقہ ریکارڈ آج عدالت میں پیش کر دیا گیا ہے جس پر کارروائی کی جائے۔
پولیس کی طرف سے ریکارڈ پیش کیے جانے پر عدالت کے جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے اپنے ریمارکس میں سخت برہمی کا اظہار کیا۔
جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین کا کہنا تھا کہ اگر آج بھی ریکارڈ عدالت میں پیش نہ کیا جاتا تو پھر اس کے نتائج سے آگاہ کیا جاتا۔
عدالت نے کارروائی کے دوران ملزمان کے وکلا سے استفسار کیا کہ اس معاملے کے حوالے سے انہوں نے کچھ مزید کہنا ہے یا نہیں۔
ملزمان کے وکلا سے پوچھنے کے فوری بعد جج نے خود ہی کہا کہ اب مزید کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے اور فیصلہ سنا دیا جاتا ہے۔
انسداد دہشت گردی عدالت نے تمام قانونی پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی ضمانت منظور کرنے کا حکم دے دیا۔
عدالت کی جانب سے منظور کی جانے والی ضمانت کے لیے پانچ، پانچ ہزار روپے کے مچلکے جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔
عدالت نے اس مقدمے کی کارروائی کے دوران پولیس کو شوکاز نوٹس سے متعلقہ معاملے پر بھی غور کرنے اور اسے دیکھنے کی ہدایت کی۔
مذکورہ بالا قانونی کارروائی اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت میں انجام پائی جہاں فریقین کے وکلا اور نمائندے موجود تھے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل ہونے والی مختلف سماعتوں میں پولیس کی جانب سے ریکارڈ پیش نہ کیے جانے کی وجہ سے کیس میں التوا آ رہا تھا۔
عدالت نے ریکارڈ کی عدم دستیابی پر ماضی میں بھی سخت برہمی کا اظہار کیا تھا اور آج ریکارڈ آنے پر کارروائی مکمل کی گئی۔
ریاستی وکیل علی آزاد نے عدالت کے اندر ریکارڈ پیش کیے جانے کی تصدیق کی جس کے بعد ضمانت کا یہ فیصلہ سامنے آیا۔
عدالت کی جانب سے جاری کردہ حکم کے مطابق دونوں ملزمان کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مقررہ ضمانتی مچلکے عدالت میں جمع کروائیں۔
اس قانونی کارروائی کے دوران عدالت کے اندر سیکیورٹی اور دیگر انتظامی امور معمول کے مطابق جاری رہے اور عدالتی عملہ موجود رہا۔
آنے والے دنوں میں اس مقدمے کی مزید کارروائی عدالتی احکامات کی روشنی میں آگے بڑھائی جائے گی جس کی تفصیلات بعد میں سامنے آئیں گی۔



اپنی رائے دیں