اسلام آباد ہائی کورٹ میں سانحہ پمز کے ذمہ داران کے خلاف مقدمہ درج کرنے سے متعلق دائر کی گئی درخواست کو سماعت کے لیے باضابطہ طور پر مقرر کر لیا گیا ہے۔
اس اہم نوعیت کی درخواست پر سماعت آج اسلام آباد ہائی کورٹ کے معزز جج جسٹس خادم حسین سومرو کی عدالت میں ہوگی۔
مذکورہ بالا قانونی چارہ جوئی جیورسٹس فاؤنڈیشن کی طرف سے دائر کی گئی ہے جس کی پیروی وکیل ریاض حنیف راہی کر رہے ہیں۔
دائر کردہ درخواست میں عدالت عالیہ سے استدعا کی گئی ہے کہ سانحہ پمز کے اس پورے واقعے کی غیر جانبدارانہ انکوائری اور مکمل آڈٹ کا حکم جاری کیا جائے۔
درخواست گزار کی جانب سے یہ مؤقف بھی پیش کیا گیا ہے کہ سانحہ پمز کے تمام ذمہ داران کی نشاندہی کر کے ان کے خلاف فوری طور پر مقدمہ درج کیا جائے۔
اس سے قبل یہ قانونی معاملہ سیشن کورٹ میں بھی پیش کیا گیا تھا جہاں عدالت نے اس بات کا نوٹس لیا تھا کہ یہ معاملہ ہائی کورٹ میں زیر التوا ہے۔
سیشن کورٹ نے ہائی کورٹ میں معاملہ زیر التوا ہونے کی بنیاد پر ہی درخواست کو مسترد کر دیا تھا جس کے بعد اسے اعلیٰ عدالت میں دوبارہ دائر کیا گیا۔
دوسری جانب پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز یعنی پمز اسپتال سے متعلق دیگر انتظامی امور پر بھی خبریں سامنے آ چکی ہیں۔
حکومتی ذرائع کے مطابق پمز اسپتال میں مبینہ طور پر رشوت لے کر جعلی میڈیکو لیگل سرٹیفیکیٹ تیار کیے جانے کا انکشاف بھی سامنے آیا تھا۔
پمز اسپتال کے انتظامی امور کو بہتر بنانے اور طبی سہولیات کے معیار کو بلند کرنے کے لیے حکومت کی طرف سے اصلاحاتی عمل جاری ہے۔
پمز اصلاحاتی عمل کے تحت پیشرفت کا جائزہ لینے کے لیے اس کی روزانہ کی بنیاد پر مانیٹرنگ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اسپتال میں زیر علاج مریضوں کے لیے سہولتوں کو خاطر خواہ طور پر بڑھانے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ عوام کو بہتر علاج مل سکے۔
پمز اسپتال میں طبی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے نئے شعبوں کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے اور خصوصی تعلیمی پروگرام بھی شروع کیے جا رہے ہیں۔
اسلام آباد ہائی کورٹ میں آج ہونے والی اس سماعت کے دوران عدالت فریقین کے دلائل سننے کے بعد آئندہ کے لیے کوئی قانونی حکم جاری کر سکتی ہے۔
عدالت کے روبرو پیش کی جانے والی اس درخواست میں پمز اسپتال کے معاملے پر قانون کے مطابق کارروائی کرنے پر زور دیا گیا ہے۔

اپنی رائے دیں