اسکردو میں ایک ہی خاندان کے چار افراد کے ہولناک قتل کے واقعے میں بڑی پیشرفت سامنے آئی ہے جہاں پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے مرکزی ملزم کو اس کے ایک ساتھی سمیت حراست میں لے لیا ہے۔
ابتدائی تحقیقاتی اطلاعات کے مطابق ملزمان اس گھنائونے جرم کے بعد ضلع کرم میں روپوش ہو گئے تھے جنہیں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بروقت کارروائی کر کے قابو کیا۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اس اندمناک واقعے میں مجموعی طور پر پانچ افراد کے ملوث ہونے کے شواہد ملے ہیں جن میں سے اب تک دو ملزمان کو گرفتار کیا جا چکا ہے جبکہ باقی فرار ملزمان کی تلاش جاری ہے۔
تفتیشی ٹیموں کے مطابق مقتول شوہر کا تعلق اسکردو جبکہ ان کی اہلیہ کا تعلق پارا چنار سے تھا، اور اس خونی حملے میں چار سالہ بچے اور دو سالہ بچی کو بھی بے دردی سے نشانہ بنایا گیا تھا۔
ڈی آئی جی گلگت بلتستان آصف مہمند نے میڈیا کو بتایا کہ واقعے کی تمام زاویوں سے تفتیش کی جا رہی ہے اور پسند کی شادی کے پہلو سمیت دیگر تمام محرکات کا گہرائی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔
ڈی آئی جی نے مزید واضح کیا کہ مجرموں کو کٹہرے میں لانے اور متاثرہ خاندان کو انصاف کی فراہمی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔
پولیس ریکارڈ کے مطابق یہ دلخراش واقعہ اسکردو کی مدنیہ کالونی میں پیش آیا جہاں گھر میں گھس کر محمد اسلم، ان کی اہلیہ ہانیہ اسلم اور دو بچوں کو تیز دھار آلے کی مدد سے گلے کاٹ کر قتل کیا گیا تھا۔
اس المناک واقعے میں جاں بحق ہونے والے بچوں میں چار سالہ مہدی اور دو سالہ زہرا شامل تھے جن کی ناگہانی موت نے پورے علاقے کو سوگوار کر دیا۔
مقدمے کے مدعی نے پولیس کو دیے گئے بیان میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ پسند کی شادی کی وجہ سے مقتول محمد اسلم کو ماضی میں بھی سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جاتی رہی تھیں۔
اس ہولناک واقعے کے بعد اسکردو کے مقامی شہریوں کی جانب سے شدید احتجاجی مظاہرے بھی کیے گئے تھے جن میں ملزمان کی فوری گرفتاری اور کڑی سزا کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ اس سے قبل بھی اس واقعے کے سلسلے میں مقدمہ درج کر کے مختلف افراد کو حراست میں لیا گیا تھا اور اب مرکزی ملزم کی گرفتاری کے بعد کیس میں اہم حقائق سامنے آنے کی توقع ہے۔

اپنی رائے دیں