مواد پر جائیں
پیر، 2 نومبر 2026 22 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ:
تازہ
افغان کرکٹ ٹیم نے ون ڈے رینکنگ میں چھٹی پوزیشن حاصل کر لیپاکستان میں پہلی بار کلر گریڈنگ کی جدید تربیت دینے کا فیصلہانسٹاگرام کی دوستی شادی میں تبدیل، اطالوی دلہن لاہور پہنچ گئیچائنا کمیونسٹ پارٹی کا عوام سے جڑے رہنے کا ماڈل قابلِ تقلید ہے: اسحاق ڈارلاہور میں سموگ اور وائرسز کا حملہ، 7 روز میں 35 ہزار سے زائد مریض رپورٹکراچی میں غیرت کے نام پر شوہر اور بھائی کی فائرنگ سے بیوی اور اس کا دوست قتللاہور پولیس کا کریک ڈاؤن، 242 ملزمان گرفتار اور سامان برآمدپی ٹی آئی کارکنوں کی تھری ایم پی او گرفتاریوں کا معاملہ آئینی عدالت میںکراچی میں مختلف مبینہ پولیس مقابلوں کے دوران 6 زخمیوں سمیت 9 ڈاکو گرفتارامریکہ: فلوریڈا میں کاروباری طیارہ گرنے سے 9 افراد ہلاکسعودی عرب کی جانب سے پاکستانی افرادی قوت کی خدمات حاصل کرنے میں اضافہدماغی سرطان کے علاج میں اہم پیشرفت، نئی تجرباتی تکنیک تیارکیمی اینٹونیلی فارمولا ون کے کم عمر ترین عالمی چیمپئن بن گئےامریکی ریاست فلوریڈا میں نجی طیارہ گر کر تباہ، 9 افراد ہلاکمیکائیل علی بیگ نے آئی ٹی ایف جے 100 ٹینس ٹورنامنٹ کا ٹائٹل جیت لیاکراچی میں ترقیاتی منصوبوں کی سست روی پر پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کا اظہارِ تشویشگلگت بلتستان کا 79 واں یومِ آزادی، سیاسی قیادت کا خراجِ تحسینفرانس: پولیس پر پیٹرول بم حملے کی تحقیقات شروع، اقدامِ قتل کا مقدمہ درجایم کیو ایم پاکستان کا نئے صوبوں کے قیام کیلئے تحریک چلانے کا اعلانکوئٹہ میں گیس بلوں میں اضافے کی وجوہات اور شکایات کے ازالے کیلئے اقدامات
لاہور

لاہور کے علاقے گرین ٹاؤن میں وکیل کے دفتر پر فائرنگ سے ایک شخص قتل

پولیس نے مقتول کے بھائی کی مدعیت میں نامعلوم ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔

لاہور کے علاقے گرین ٹاؤن میں پیش آنے والے فائرنگ کے ایک واقعے نے علاقے میں خوف و ہراس پھیلادیا ہے۔ عمر چوک کے قریب ایک نجی دفتر میں پیش آنے والے اس واقعہ میں ایک شہری کو نشانہ بنایا گیا۔ پولیس اور ریسکیو اداروں کو اس افسوسناک صورتحال کی اطلاع فوری طور پر دی گئی۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق فائرنگ کا یہ واقعہ معروف وکیل ایڈووکیٹ عرفان کے دفتر کے اندر پیش آیا۔ اس ناخوشگوار واقعے کی زد میں آکر ایک قیمتی انسانی جان ضائع ہو گئی جس کے بعد علاقے میں سنسنی پھیل گئی۔

جاں بحق ہونے والے بدقسمت شخص کی شناخت 46 سالہ عابد کے نام سے کی گئی ہے۔ مقتول کا تعلق بھی مبینہ طور پر لاہور کے اسی علاقے سے بتایا گیا ہے جو کسی ذاتی یا کاروباری سلسلے میں اس دفتر میں موجود تھا۔

موصولہ تفصیلات کے مطابق 46 سالہ عابد جب ایڈووکیٹ عرفان کے دفتر میں موجود تھا تو نامعلوم افراد نے وہاں اچانک دھاوا بول دیا۔ حملہ آوروں نے اندر داخل ہوتے ہی اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی جس کے نتیجے میں عابد کو گولیاں لگیں۔

فائرنگ کے اس شدید حملے کے بعد عابد شدید زخمی ہو کر موقع پر ہی گر پڑا۔ ملزمان موقع سے باآسانی فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے جبکہ زخمی شخص کو فوری طبی امداد بھی میسر نہ آ سکی۔

واقعے کی اطلاع ملتے ہی مقامی تھانے کی پولیس نفری فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئی۔ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے لیا اور شواہد اکٹھے کرنے کا آغاز کر دیا۔

پولیس حکام نے موقع پر پہنچ کر مقتول کی لاش کو اپنی تحویل میں لے لیا۔ لاش کو قانونی کارروائی اور پوسٹ مارٹم کے لیے قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا تاکہ موت کے حتمی حقائق سامنے آ سکیں۔

اس دلخراش واقعے کا مقدمہ مقتول کے قریبی رشتہ دار کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔ پولیس نے مقتول کے بھائی راشد اقبال کی مدعیت میں نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کر کے قانونی کارروائی آگے بڑھائی ہے۔

تھانہ گرین ٹاؤن میں درج کی جانے والی ایف آئی آر کے مطابق مدعی راشد اقبال نے نامعلوم ملزمان کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی درخواست دی تھی۔ پولیس نے اس درخواست پر فوری طور پر مقدمہ درج کر لیا ہے۔

مقدمہ درج کیے جانے کے بعد تفتیشی ٹیموں نے اس اندوہناک قتل کے محرکات جاننے کے لیے کام شروع کر دیا ہے۔ پولیس کے تفتیشی افسران مختلف زاویوں سے اس بات کی جانچ کر رہے ہیں کہ اس قتل کے پیچھے اصل وجوہات کیا تھیں۔

پولیس کے مطابق عابد کا ایڈووکیٹ عرفان کے دفتر میں موجود ہونا اور وہاں اس پر فائرنگ ہونا ایک اہم نکتہ ہے۔ پولیس وکیل صاحب اور ان کے دیگر عملے سے بھی اس حوالے سے معلومات حاصل کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔

ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ حملہ آور پہلے سے اس کی تاک میں تھے یا یہ کوئی اچانک پیش آنے والا تنازع تھا۔ پولیس تمام پہلوؤں کا احاطہ کرتے ہوئے سائنسی بنیادوں پر تفتیش کو آگے بڑھا رہی ہے۔

علاقے کے مکینوں اور جیف کے مطابق اس طرح دن دہاڑے دفتر میں گھس کر قتل کی واردات نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔ شہریوں نے حکام سے فوری انصاف کا مطالبہ کیا ہے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ وہ جلد ہی اس اندوہناک واردات کے اصل حقائق تک پہنچ جائیں گے۔ سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے ملزمان کے فرار ہونے والے راستوں کا تعین کیا جا رہا ہے تاکہ انہیں جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔

اس موضوع پر مزید خبریں

لاہور کی تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
چیف ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر صحافی جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی ادارتی پالیسی، خبروں کی تصدیق اور معیار ان کی نگرانی میں ہے۔

  • نیوز ڈیسک — قومی، بین الاقوامی، عدالت اور جرم و سزا کی خبریں

ہمیں فالو کریں