راولپنڈی سمیت ملک بھر میں ایل پی جی کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے نے چھوٹے کاروباری طبقے اور ہوٹل مالکان کی کمر توڑ دی ہے۔ گیس کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث روزمرہ کے کاروباری اخراجات میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
متاثرہ افراد کے مطابق ایل پی جی کی فی کلو قیمت 400 روپے سے بڑھ کر اب 600 روپے سے تجاوز کر گئی ہے۔ قیمتوں میں اس اچانک اور بے تحاشا اضافے نے عام آدمی کے لیے مشکلات کے نئے دروازے کھول دیے ہیں۔
ہوٹل مالکان کا کہنا ہے کہ گیس سلنڈر جو پہلے 18 ہزار روپے میں دستیاب تھا، اب اس کی قیمت 25 سے 26 ہزار روپے تک پہنچ چکی ہے۔ اس صورتحال میں ہوٹلوں کا کاروبار چلانا انتہائی مشکل اور مہنگا ہو گیا ہے۔
ملک کے مختلف حصوں میں گیس لوڈشیڈنگ کے باعث ایل پی جی کی طلب میں اچانک اضافہ ہوا ہے، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مارکیٹ میں قیمتوں کو من مانی سطح پر بڑھا دیا گیا ہے۔ یہ صورتحال چھوٹے تاجروں کے لیے ناقابل برداشت ہے۔
کاروباری حلقوں کا کہنا ہے کہ پہلے ہی مہنگائی کی وجہ سے عوام کی قوتِ خرید متاثر ہے، اب گیس کی قیمتوں میں اضافے نے ان پر مزید مالی بوجھ ڈال دیا ہے۔ ہوٹل مالکان اپنے اخراجات پورے کرنے سے قاصر دکھائی دے رہے ہیں۔
متاثرہ کاروباری افراد نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافے کا فوری نوٹس لیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ قیمتوں پر نظرثانی کرکے انہیں مناسب سطح پر لانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
حکومتی سطح پر قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے اقدامات نہ کیے گئے تو چھوٹے کاروبار مزید بحران کا شکار ہو سکتے ہیں۔ ہوٹل مالکان نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو بہت سے کاروبار بند ہونے کا خطرہ ہے۔
عوامی حلقوں نے بھی ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ گیس کی قلت اور مہنگائی نے ان کی زندگی کو اجیرن بنا دیا ہے اور حکومت کو اس مسئلے کا فوری حل نکالنا چاہیے۔
ماہرین کے مطابق توانائی کے بحران اور طلب و رسد میں توازن نہ ہونے کی وجہ سے قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ایل پی جی کی سپلائی چین کو بہتر بنانا قیمتوں میں استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔
حکومت کی جانب سے ابھی تک قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے کوئی حتمی حکمت عملی سامنے نہیں آئی ہے۔ تاجروں نے امید ظاہر کی ہے کہ متعلقہ حکام جلد اس معاملے پر غور کریں گے تاکہ عام آدمی کو ریلیف مل سکے۔
ملک بھر میں جاری اس صورتحال کے تناظر میں ہوٹل مالکان نے احتجاج کا عندیہ بھی دیا ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ ایل پی جی کی قیمتوں کو سرکاری نرخ نامے کے مطابق یقینی بنایا جائے تاکہ کاروبار کا پہیہ چلتا رہے۔
مستقبل قریب میں اگر گیس کی قیمتوں میں کمی نہ آئی تو ہوٹل انڈسٹری سے وابستہ ہزاروں افراد کے روزگار پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ حکومت کو اس معاملے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی ضرورت ہے۔
پاکستان میں توانائی کے شعبے میں اصلاحات کی ضرورت شدت سے محسوس کی جا رہی ہے۔ ایل پی جی کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ معاشی مشکلات میں اضافے کا ایک اور سبب بن کر سامنے آیا ہے جس پر فوری توجہ درکار ہے۔





اپنی رائے دیں