ڈیرہ اسماعیل خان میں سکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاع پر ایک کامیاب آپریشن کرتے ہوئے 6 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا ہے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق یہ کارروائی علاقے میں خوارج کی موجودگی کی مصدقہ اطلاعات پر کی گئی۔
آپریشن کے دوران سکیورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے مابین فائرنگ کا شدید تبادلہ ہوا، جس میں فورسز نے اپنی پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہنچایا۔ ہلاک ہونے والے دہشت گرد سکیورٹی فورسز اور معصوم شہریوں پر حملوں میں ملوث تھے۔
اس بہادرانہ کارروائی کے دوران پاک فوج کے دو جوانوں نے وطن کی حفاظت کرتے ہوئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔ جام شہادت نوش کرنے والوں میں ضلع گجرات سے تعلق رکھنے والے 36 سالہ نائیک غلام مرتضیٰ اور ضلع تلہ گنگ کے 30 سالہ سپاہی تاثیر احمد شامل ہیں۔
آئی ایس پی آر کے ترجمان نے بتایا کہ ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا ہے۔ یہ عناصر ملک میں بدامنی پھیلانے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو نشانہ بنانے کی مذموم کوششوں میں مصروف تھے۔
علاقے میں موجود دیگر دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے سکیورٹی فورسز کا کلیئرنس آپریشن تاحال جاری ہے۔ فورسز کا عزم ہے کہ ملک کے ہر کونے سے دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے گا اور امن و امان کی بحالی کو یقینی بنایا جائے گا۔
پاک فوج کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وفاقی ایپکس کمیٹی کی جانب سے منظور کردہ قومی ایکشن پلان اور وژن 'عزمِ استحکام' کے تحت انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیاں پوری قوت اور رفتار کے ساتھ جاری رکھی جائیں گی۔
ترجمان نے مزید کہا کہ ملک دشمن عناصر کی بیرونی حمایت یافتہ دہشت گردی کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ملک کی خودمختاری اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر وقت چوکس اور مستعد ہیں۔
وطن کے دفاع میں جان قربان کرنے والے جوانوں کی یہ قربانیاں پوری قوم کے لیے باعث فخر ہیں۔ ان واقعات سے سکیورٹی فورسز کا دہشت گردی کے مکمل خاتمے کا عزم مزید مضبوط ہوتا ہے اور قوم اپنے محافظوں کے ساتھ کھڑی ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ کچھ عرصے سے سکیورٹی فورسز نے ملک بھر میں دہشت گردوں کے خلاف گھیرا تنگ کر رکھا ہے۔ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے ذریعے دہشت گردوں کے نیٹ ورکس کو توڑا جا رہا ہے تاکہ عوام کو پرامن ماحول فراہم کیا جا سکے۔
حکومتِ پاکستان اور عسکری قیادت نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ملک میں کسی بھی قسم کی غیر قانونی سرگرمیوں کو پنپنے نہیں دیا جائے گا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دی جانے والی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔
سکیورٹی اداروں کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق عوام کا تعاون بھی اس جنگ میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع فوری طور پر متعلقہ اداروں کو دیں۔
ڈیرہ اسماعیل خان میں ہونے والا یہ آپریشن اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جس کا مقصد علاقے کو دہشت گردوں کے اثر سے پاک کرنا ہے۔ کلیئرنس آپریشن کے مکمل ہونے کے بعد علاقے میں معمولاتِ زندگی مکمل طور پر بحال ہو جائیں گے۔
پاکستان کی مسلح افواج ملک کی جغرافیائی سرحدوں اور نظریاتی سرحدوں کے تحفظ کے لیے پرعزم ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جاری اس جنگ میں کامیابی تک سکیورٹی فورسز اپنی ذمہ داریاں پوری تندہی اور جذبے کے ساتھ سرانجام دیتی رہیں گی۔





اپنی رائے دیں