راولپنڈی کے تھانہ مورگاہ کی حدود میں پیش آنے والے ایک انتہائی افسوسناک واقعے کے دوران مبینہ طور پر غلط انجکشن لگنے کے نتیجے میں پانچ سالہ معصوم بچی جان کی بازی ہار گئی ہے۔ اس المناک واقعے کے بعد پولیس نے فوری طور پر حرکت میں آتے ہوئے نام نہاد ڈاکٹر کو حراست میں لے لیا ہے اور متعلقہ کلینک کو سیل کرنے کے لیے محکمانہ کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
پولیس حکام کی جانب سے اس ضمن میں باضابطہ طور پر مقدمہ درج کر لیا گیا ہے تاکہ واقعے کے محرکات کو مکمل طور پر سامنے لایا جا سکے اور قانونی تقاضے پورے کیے جا سکیں۔ اس نوعیت کے واقعات معاشرے کے لیے لمحہ فکریہ ہیں جہاں انسانی زندگیوں سے سنگین کھیلا جاتا ہے۔
متاثرہ بچی کے چچا توقیر احمد کی جانب سے تھانے میں جمع کرائی گئی ابتدائی درخواست میں تفصیلات بیان کی گئی ہیں کہ ان کی پانچ سالہ بھتیجی جنت فاطمہ کی طبیعت اچانک خراب ہوئی تھی۔ بچی کی نازک حالت کو دیکھتے ہوئے فوری طبی امداد کی غرض سے خاندان کے افراد نے اسے قریبی کلینک منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
درخواست گزار کے مطابق وہ اور اس کے والد بچی کو چیک اپ کے لیے جھامرہ مورگاہ میں قائم ایک طبی مرکز پر لے کر گئے جہاں ایک شخص موجود تھا جو خود کو ڈاکٹر ظاہر کرتا تھا۔ متاثرہ خاندان کو یہ اندازہ نہیں تھا کہ یہ نام نہاد علاج معصوم بچی کی زندگی کے لیے اتنا بڑا خطرہ ثابت ہوگا۔
کلینک پر موجود مبینہ ڈاکٹر یونس نے بچی کا ابتدائی معائنہ کرنے کے بعد بغیر کسی سوچے سمجھے اسے فوری طور پر ایک انجکشن لگا دیا۔ عینی شاہدین اور ورثا کے بیانات کے مطابق یہ انجکشن لگتے ہی بچی کی حالت بگڑ گئی اور وہ فوری طور پر زمین پر گر پڑی۔
انجکشن کے شدید ردعمل کے آثار فوراً ظاہر ہونا شروع ہو گئے کیونکہ بچی کے چہرے کا رنگ تیزی سے سیاہ پڑنے لگا اور اس کے منہ سے جھاگ نکلنے لگی۔ یہ ہولناک صورتحال دیکھ کر اہل خانہ شدید پریشان ہو گئے اور انہوں نے وہاں موجود نام نہاد ڈاکٹر سے بازپرس شروع کی۔
بچی کی حالت انتہائی تشویشناک ہونے پر مبینہ ڈاکٹر یونس خود بھی گھبرا گیا اور اس نے ورثا کو مشورہ دیا کہ وہ اسے فوری طور پر کسی بڑے اسپتال منتقل کریں۔ اس نااہل شخص کی غفلت کی وجہ سے معصوم بچی کی زندگی پہلے ہی خطرے میں پڑ چکی تھی۔
اہل خانہ نے بغیر کسی مزید تاخیر کے انتہائی کسمپرسی کے عالم میں بچی کو راولپنڈی کے معروف سرکاری ادارے بے نظیر بھٹو اسپتال پہنچایا۔ ان کا مقصد کسی نہ کسی طرح بچی کی سانس بحال کرنا اور اسے طبی ماہرین کی نگرانی میں دینا تھا۔
بے نظیر بھٹو اسپتال کے شعبہ حادثات اور ایمرجنسی وارڈ میں ڈیوٹی پر مامور ڈاکٹروں نے بچی کی زندگی بچانے کے لیے تمام تر ممکنہ طبی کوششیں بروئے کار لائیں۔ طبی ٹیم نے مصنوعی تنفس اور دیگر ہنگامی اقدامات کیے تاکہ بچی کی سانس کی نالی کو کھولا جا سکے اور زہر کا اثر زائل ہو۔
بدقسمتی سے زہر آلودگی اور انجکشن کے شدید ری ایکشن کے باعث بچی کی بگڑتی ہوئی حالت سنبھل نہ سکی۔ تمام تر کوششوں کے باوجود معصوم جنت فاطمہ جانبر نہ ہو سکی اور اسپتال کے بستر پر ہی دم توڑ گئی۔
اسپتال کی طبی انتظامیہ نے قانونی ضابطے پورے کرتے ہوئے بچی کی موت کی تصدیق کی اور جاری کردہ سرکاری ڈیتھ سرٹیفکیٹ میں واضح طور پر تحریر کیا کہ موت کی اصل وجہ غلط انجکشن کا ردعمل ہے۔ یہ دستاویز اس سانحے میں اہم ترین قانونی ثبوت کی حیثیت رکھتی ہے۔
ڈیتھ سرٹیفکیٹ موصول ہونے کے بعد پولیس نے فوری کارروائی کو مزید تیز کر دیا اور متوفیہ بچی کا پوسٹ مارٹم کرانے کا فیصلہ کیا گیا۔ پوسٹ مارٹم کے ذریعے موت کی حتمی طبی وجوہات سائنسی بنیادوں پر ریکارڈ کا حصہ بنائی جا رہی ہیں۔
پولیس کی ابتدائی تفتیش میں یہ انتہائی تشویشناک انکشاف بھی سامنے آیا ہے کہ گرفتار ملزم یونس دراصل کوئی مستند ڈاکٹر نہیں ہے بلکہ محض ایک کمپاؤنڈر ہے۔ یہ شخص غیر قانونی طور پر لوگوں کی صحت سے کھیل رہا تھا اور بغیر کسی قابلیت کے کلینک چلا رہا تھا۔
محکمہ صحت کی ضلعی ٹیموں کو بھی اس کارروائی میں باضابطہ طور پر شامل کر لیا گیا ہے تاکہ اس غیر قانونی کلینک کو فوری طور پر سیل کیا جا سکے۔ محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ عطائیوں کے خلاف صوبے بھر میں مہم مزید سخت کی جائے گی۔
پولیس حکام نے تصدیق کی ہے کہ ملزم اس وقت جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں ہے اور اس سے تفتیش جاری ہے۔ تفتیش کے دوران ملزم سے وہ انجکشن بھی برآمد کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو بچی کو لگایا گیا تھا تاکہ فرانزک تجزیہ کیا جا سکے۔


اپنی رائے دیں