ملک بھر میں ایل پی جی کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد مہنگائی کی ایک نئی لہر نے عوام کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔ مختلف شہروں میں ایل پی جی کی قیمت ساڑھے پانچ سو سے ساڑھے چھ سو روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے، جس کے باعث کئی مقامات پر دکانیں بند ہونے کی اطلاعات ہیں۔
ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات دیگر اشیائے ضروریہ پر بھی مرتب ہوئے ہیں۔ ملک کے مختلف حصوں میں آٹا، دالیں، گوشت اور سبزیوں کی قیمتوں میں غیر معمولی تیزی دیکھنے میں آئی ہے، جس سے عام آدمی کی قوت خرید بری طرح متاثر ہوئی ہے۔
لاہور سمیت کئی بڑے شہروں میں دالوں اور آٹے کی قیمتوں میں پچاس روپے فی کلو تک کا اضافہ ہوا ہے، جبکہ مرغی کے گوشت کی قیمت میں بھی سو روپے فی کلو تک کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ شہریوں نے حکام سے قیمتوں میں کمی کا مطالبہ کیا ہے۔
صوبہ بلوچستان میں صورتحال خاص طور پر تشویشناک ہے جہاں گندم کا بحران شدت اختیار کر گیا ہے۔ خضدار، چاغی، واشک اور کیچ سمیت دیگر اضلاع میں پچاس کلو آٹے کی بوری کی قیمت آٹھ ہزار روپے کی سطح سے تجاوز کر گئی ہے، جو عوام کے لیے پریشانی کا باعث ہے۔
کوئٹہ میں بھی اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں بیس فیصد تک اضافہ دیکھا گیا ہے۔ دودھ، سبزیوں اور گوشت کی قیمتوں میں اضافے کے بعد شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مارکیٹ میں قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے فوری اقدامات کرے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ توانائی کی قیمتوں میں اضافے کا براہ راست اثر ٹرانسپورٹ اور پیداواری لاگت پر پڑتا ہے، جس کے نتیجے میں اشیاء کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں۔ موجودہ صورتحال میں عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے انتظامی اقدامات کی ضرورت ہے۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے دعوے کیے جاتے رہے ہیں، تاہم زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ مارکیٹ میں قیمتوں کا تعین کرنے والے عوامل اور سپلائی چین میں رکاوٹیں مہنگائی میں اضافے کا بنیادی سبب بن رہی ہیں۔
صارفین کا کہنا ہے کہ روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں میں اچانک اضافے نے ان کے ماہانہ بجٹ کو درہم برہم کر دیا ہے۔ متوسط اور غریب طبقے کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول بھی ایک بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے۔
بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں گندم کی قلت کے باعث آٹے کی قیمتوں میں اضافہ وہاں کے رہائشیوں کے لیے سنگین مسئلہ ہے۔ حکومتی سطح پر گندم کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ بحران پر قابو پایا جا سکے۔
ملک بھر میں جاری مہنگائی کی اس لہر نے تاجروں اور صارفین دونوں کو پریشان کر رکھا ہے۔ تاجروں کا موقف ہے کہ انہیں خود مہنگی اشیاء مل رہی ہیں، جبکہ صارفین کا کہنا ہے کہ وہ بڑھتی ہوئی قیمتوں کے بوجھ تلے دب چکے ہیں۔
حکومت کی جانب سے مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے لیے مختلف پالیسیاں اپنائی جاتی ہیں، تاہم ان کے ثمرات عام آدمی تک پہنچنے میں وقت لگتا ہے۔ موجودہ صورتحال میں عوام کی نظریں حکومتی اقدامات پر مرکوز ہیں تاکہ انہیں ریلیف مل سکے۔
مستقبل قریب میں اگر قیمتوں کو کنٹرول نہ کیا گیا تو معاشی مشکلات میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔ ضروری ہے کہ متعلقہ ادارے مارکیٹ کی نگرانی کریں اور ذخیرہ اندوزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔
عوام نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت فوری طور پر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں استحکام لانے کے لیے ٹھوس اقدامات کرے تاکہ غریب عوام کو ریلیف مل سکے۔ مہنگائی کا یہ طوفان ملک کے ہر کونے میں محسوس کیا جا رہا ہے۔





اپنی رائے دیں