مواد پر جائیں
ہفتہ، 24 اکتوبر 2026 13 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: صبح 6:37
بریکنگ
دہشت گردی قومی مسئلہ ہے، سیاسی اختلافات بالائے طاق رکھ کر تعاون کیا جائے: وفاقی وزراءکراچی میں آن لائن فحش مواد کی تیاری اور فراڈ میں ملوث 3 کمپنیاں بے نقابپاک بھارت جنگ رکوانا میرے لیے اعزاز ہے، ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰایران کا کسی بھی جارحیت کی صورت میں زیرِ سمندر کیبلز کو نشانہ بنانے کا انتباہاردن کے علاقے کرک میں چرچ پر حملہ، جنازے کے دوران فائرنگ سے 7 افراد جاں بحقلاہور: مزنگ میں طالبہ پر تشدد کرنے والا ملزم گرفتار، مقدمہ درجماسکو: ڈرون حملوں کے خطرے کے باعث فضائی آپریشن متاثر، پابندیاں ختمحکومت نے پیٹرول کی قیمت برقرار، ڈیزل مہنگا کر دیاملتان: شوہر اور بچوں کے ہمراہ سفر کرنے والی خاتون سے زیادتی کا واقعہٹھٹھہ کا تاریخی مکلی قبرستان: سندھ کی تہذیب و ثقافت کا عظیم ورثہڈیانا زیادتی کیس: ملزم تنویر کی عبوری ضمانت میں 27 اکتوبر تک توسیعکراچی میں جائیدادوں پر قبضے اور جعلی وکلاء کا بڑھتا ہوا رجحان تشویشناککراچی: مائی کلاچی روڈ پر ٹرالر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار مرد و خاتون جاں بحقبنگلہ دیشی اسپنر الِس الاسلام کا باؤلنگ ایکشن ایک بار پھر مشکوک قراربھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ کو لاہور میں عالمی پنجابی کانفرنس میں شرکت کی دعوتزمینی حملے کی صورت میں دشمن کا قبرستان بن جائیں گے: پاسداران انقلابروس اور یوکرین کے درمیان 540 جنگی قیدیوں کا تبادلہمغربی ممالک میں مظاہرین احتساب کے مطالبے پر قائم رہیں: باقر قالیبافمشرقِ وسطیٰ میں نئی سکیورٹی ساخت: ترکی، پاکستان اور سعودی عرب کا مکہ اتحادبرفانی چیتے کا تحفظ قومی ذمہ داری ہے: عطا تارڑ
پاکستان

کراچی میں جائیدادوں پر قبضے اور جعلی وکلاء کا بڑھتا ہوا رجحان تشویشناک

کراچی سمیت سندھ بھر میں جعلی ڈگریوں کے حامل افراد کی جانب سے جائیدادوں پر قبضے اور شہریوں کو بلیک میل کرنے کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

کراچی میں جائیدادوں پر قبضے اور جعلی وکلاء کا بڑھتا ہوا رجحان تشویشناک

کراچی کے رہائشی علاقوں میں جائیدادوں پر ناجائز قبضے ایک سنگین مسئلہ بن کر ابھرے ہیں، جس میں مبینہ طور پر قانون کے پیشے سے وابستہ کچھ عناصر بھی ملوث پائے گئے ہیں۔ متعدد خاندان اپنی قانونی ملکیت کے باوجود ایسے افراد کے ہاتھوں ذہنی اذیت اور مالی نقصان کا شکار ہو رہے ہیں جو خود کو وکیل ظاہر کر کے جائیدادوں پر دعویدار بن جاتے ہیں۔

متاثرہ افراد کا کہنا ہے کہ یہ عناصر اکثر جعلی ایف آئی آر کے ذریعے مالکان کو ہراساں کرتے ہیں اور مقامی پولیس پر دباؤ ڈال کر انہیں اپنے گھروں سے بے دخل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس صورتحال نے عام شہریوں میں عدم تحفظ کا احساس پیدا کر دیا ہے، کیونکہ قانونی جنگ لڑنا ان کے لیے ایک طویل اور صبر آزما عمل بن چکا ہے۔

اس حوالے سے سامنے آنے والے انکشافات کے مطابق، ایسے دھندوں میں ملوث افراد کی ایک بڑی تعداد جعلی ڈگریوں کی حامل ہے۔ شاہ عبدالطیف یونیورسٹی خیرپور نے حال ہی میں ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے اپنی یونیورسٹی سے جاری ہونے والی قانون کی ڈگریوں کی جانچ پڑتال کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی تھی۔

تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق، جانچ پڑتال کے بعد ایک ہزار 184 امیدواروں کی ڈگریاں جعلی قرار دی گئی ہیں، جبکہ صرف 64 امیدواروں کی اسناد کو مستند پایا گیا۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے ان جعلی ڈگریوں کے حامل افراد کی فہرست اپنی ویب سائٹ پر جاری کر دی ہے اور اس کی نقول ہائر ایجوکیشن کمیشن اور سندھ بار کونسل کو بھی بھجوا دی ہیں۔

ماہرین قانون کا ماننا ہے کہ وکلاء برادری میں اس طرح کے عناصر کا داخلہ عدلیہ کے وقار کے لیے نقصان دہ ہے۔ ماضی میں وکلاء نے جمہوریت اور آزاد عدلیہ کے لیے تاریخی جدوجہد کی ہے، تاہم حالیہ برسوں میں کچھ حلقوں کی جانب سے تشدد اور ہڑتالوں کے رجحان نے اس مقدس پیشے کی ساکھ کو متاثر کیا ہے۔

سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ظفر راجپوت نے بھی حال ہی میں حیدرآباد بار ایسوسی ایشن سے خطاب کرتے ہوئے وکلاء پر زور دیا ہے کہ وہ 'وکلاء گردی' کے خاتمے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ کالے کوٹ اور کالی ٹائی کا احترام تب ہی ممکن ہے جب وکلاء تشدد اور غیر قانونی سرگرمیوں سے دور رہیں۔

بار کونسلز اور ایسوسی ایشنز پر اب یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے ممبران کی کڑی نگرانی کریں اور جعلی ڈگریوں یا غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث افراد کے خلاف سخت تادیبی کارروائی عمل میں لائیں۔ صرف فوجداری کارروائی اس مسئلے کا مکمل حل نہیں، بلکہ ادارہ جاتی اصلاحات ناگزیر ہیں۔

برطانیہ سمیت دیگر ممالک کی مثالیں سامنے ہیں جہاں بار کونسلز اپنے ممبران کے پیشہ ورانہ رویے کی کڑی نگرانی کرتی ہیں اور کسی بھی غیر اخلاقی یا غیر قانونی عمل پر فوری رکنیت معطل کر دی جاتی ہے۔ پاکستان میں بھی اسی طرز پر سخت احتسابی عمل کی ضرورت ہے۔

شہریوں کا مطالبہ ہے کہ حکومت اور متعلقہ ادارے جائیدادوں پر قبضے کرنے والے مافیا کے خلاف بلا تفریق کارروائی کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ عدالتی نظام کو مزید فعال بنانے کی ضرورت ہے تاکہ متاثرہ خاندانوں کو فوری انصاف کی فراہمی ممکن ہو سکے اور وہ اپنی جائیدادوں سے محروم نہ ہوں۔

تعلیمی اداروں کو بھی اپنی ڈگریوں کے ریکارڈ کو شفاف بنانے اور جعلی اسناد کے اجراء کو روکنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور بائیومیٹرک نظام کا استعمال کرنا ہوگا۔ اس سے نہ صرف تعلیمی معیار بہتر ہوگا بلکہ جعلی ڈگریوں کی بنیاد پر پیشے میں داخل ہونے والوں کا راستہ بھی بند ہو سکے گا۔

کراچی بار ایسوسی ایشن نے گزشتہ برس اپنے انتخابات کے دوران بائیومیٹرک تصدیق کا عمل شروع کر کے ایک مثبت مثال قائم کی تھی۔ اس طرح کے اقدامات کو دیگر اضلاع کی بار کونسلز میں بھی رائج کیا جانا چاہیے تاکہ وکلاء کی فہرستیں مستند اور شفاف رہیں۔

مستقبل میں اس صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے سول سوسائٹی، میڈیا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ جب تک معاشرے کے ہر طبقے کی جانب سے اس رجحان کی حوصلہ شکنی نہیں کی جائے گی، تب تک شہریوں کے حقوق کا تحفظ ایک چیلنج رہے گا۔

آخر میں، قانون کی حکمرانی ہی وہ واحد راستہ ہے جس سے معاشرے میں انصاف کا بول بالا ہو سکتا ہے۔ وکلاء، جو قانون کے محافظ سمجھے جاتے ہیں، ان پر یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے پیشے کے تقدس کو ہر صورت برقرار رکھیں۔

پاکستان کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں