مواد پر جائیں
ہفتہ، 24 اکتوبر 2026 13 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: صبح 5:38
بریکنگ
کراچی میں آن لائن فحش مواد کی تیاری اور فراڈ میں ملوث 3 کمپنیاں بے نقابپاک بھارت جنگ رکوانا میرے لیے اعزاز ہے، ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰایران کا کسی بھی جارحیت کی صورت میں زیرِ سمندر کیبلز کو نشانہ بنانے کا انتباہاردن کے علاقے کرک میں چرچ پر حملہ، جنازے کے دوران فائرنگ سے 7 افراد جاں بحقلاہور: مزنگ میں طالبہ پر تشدد کرنے والا ملزم گرفتار، مقدمہ درجماسکو: ڈرون حملوں کے خطرے کے باعث فضائی آپریشن متاثر، پابندیاں ختمحکومت نے پیٹرول کی قیمت برقرار، ڈیزل مہنگا کر دیاملتان: شوہر اور بچوں کے ہمراہ سفر کرنے والی خاتون سے زیادتی کا واقعہکراچی میں جائیدادوں پر قبضے اور جعلی وکلاء کا بڑھتا ہوا رجحان تشویشناککراچی: مائی کلاچی روڈ پر ٹرالر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار مرد و خاتون جاں بحقبنگلہ دیشی اسپنر الِس الاسلام کا باؤلنگ ایکشن ایک بار پھر مشکوک قراربھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ کو لاہور میں عالمی پنجابی کانفرنس میں شرکت کی دعوتزمینی حملے کی صورت میں دشمن کا قبرستان بن جائیں گے: پاسداران انقلابروس اور یوکرین کے درمیان 540 جنگی قیدیوں کا تبادلہمغربی ممالک میں مظاہرین احتساب کے مطالبے پر قائم رہیں: باقر قالیبافمشرقِ وسطیٰ میں نئی سکیورٹی ساخت: ترکی، پاکستان اور سعودی عرب کا مکہ اتحادبرفانی چیتے کا تحفظ قومی ذمہ داری ہے: عطا تارڑآر فور ممالک کا اجلاس، سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی حمایت کا اعادہدانتوں کی صحت: صرف برش کرنا کافی نہیں، متوازن غذا کا انتخاب بھی ناگزیربولیویا میں مالک کی وفاداری میں برسوں سے اسپتال کے باہر بیٹھا مرغا
پاکستان

برفانی چیتے کا تحفظ قومی ذمہ داری ہے: عطا تارڑ

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں اور انسانی سرگرمیوں سے نایاب برفانی چیتوں کو خطرات لاحق ہیں، جن کے تحفظ کیلئے کمیٹی قائم کی جائے گی۔

برفانی چیتے کا تحفظ قومی ذمہ داری ہے: عطا تارڑ

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے برفانی چیتے کے عالمی دن کے موقع پر منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ برفانی چیتا پاکستان کے قدرتی ورثے اور حیاتیاتی تنوع کی ایک اہم علامت ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس نایاب جنگلی جانور اور اس کے قدرتی مسکن کا تحفظ نہ صرف حکومتی اداروں بلکہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے تاکہ آنے والی نسلوں کیلئے اس ورثے کو محفوظ بنایا جا سکے۔

عطا تارڑ نے بتایا کہ پاکستان میں برفانی چیتوں کی موجودہ تعداد تقریباً 200 سے 300 کے درمیان ہے، جنہیں غیر قانونی شکار، موسمیاتی تبدیلیوں اور انسانی مداخلت کے باعث مختلف قسم کے سنگین خطرات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ برفانی چیتا صدیوں سے مقامی آبادی کے ساتھ ایک پرامن ہم آہنگی میں رہتا آیا ہے، اس لئے اس کے تحفظ کیلئے اس کے قدرتی مسکن کو محفوظ بنانا اور جنگلی حیات کو درپیش چیلنجز سے نمٹنا انتہائی ضروری ہے۔

اس مقصد کے حصول کیلئے وفاقی حکومت کی سربراہی میں ایک خصوصی کمیٹی قائم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے، جس میں ڈبلیو ڈبلیو ایف، گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا اور آزاد جموں و کشمیر کے نمائندے شامل ہوں گے۔

کمیٹی کا بنیادی مقصد متعلقہ اداروں کے درمیان رابطے اور تعاون کو مؤثر بنانا ہے تاکہ برفانی چیتوں کی نسل کو محفوظ رکھنے کیلئے ایک مربوط حکمت عملی کے تحت عملی اقدامات اٹھائے جا سکیں اور وسائل کا بہتر استعمال ہو۔

عطا تارڑ نے مزید کہا کہ شمالی علاقوں میں سیاحت کے فروغ کے ساتھ ساتھ سیاحوں کو قدرتی ماحول کے تحفظ، مقامی ثقافت اور روایات سے متعلق آگاہی فراہم کرنا بھی ایک اہم ضرورت بن چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سیاحوں کو ان علاقوں کا رخ کرنے سے پہلے مقامی آبادی کے حقوق، ثقافتی حساسیت اور ماحول دوست رویوں کی اہمیت سے آگاہ کیا جانا چاہیے تاکہ سیاحتی سرگرمیاں ماحول کیلئے نقصان دہ نہ ہوں۔

وفاقی وزیر نے نشاندہی کی کہ سیاحتی علاقوں میں شور شرابے، گندگی اور غیر ذمہ دارانہ سرگرمیوں کے باعث قدرتی ماحول بری طرح متاثر ہو رہا ہے، جس کا اثر براہِ راست جنگلی حیات کی بقا پر بھی پڑتا ہے۔

سیاحت کو ذمہ دارانہ بنانے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مقامی آبادی اور سیاحوں کو مل کر قدرتی ماحول اور جنگلی حیات کے تحفظ میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ سیاحت کا شعبہ پائیدار بن سکے۔

عطا تارڑ نے تجویز دی کہ سکردو اور گلگت آنے والی پروازوں میں سیاحوں کی آگاہی کیلئے معلوماتی بروشرز رکھنے کا انتظام کیا جائے گا، جس کیلئے سول ایوی ایشن حکام کو باقاعدہ سفارشات بھیجی جائیں گی۔

ان بروشرز کا مقصد سیاحوں کو شمالی علاقوں میں پہنچنے سے پہلے ہی وہاں کے حساس ماحول، مقامی ثقافت اور روایات کے احترام سے متعلق ضروری معلومات فراہم کرنا ہے تاکہ وہ ذمہ دارانہ سیاحت کو فروغ دیں۔

حکومت کی جانب سے یہ اقدامات برفانی چیتے جیسے نایاب جانوروں کی بقا اور پاکستان کے شمالی علاقوں کے قدرتی حسن کو برقرار رکھنے کیلئے ایک اہم پیش رفت سمجھے جا رہے ہیں جس سے ماحولیاتی تحفظ کو تقویت ملے گی۔

پاکستان کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں