سعودی عرب کے سرکاری گزٹ ’ام القریٰ‘ میں شائع ہونے والے شاہی فرمان کے مطابق، خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود نے دفاعی شعبے میں اہم تبدیلیاں کرتے ہوئے نئی تقرریوں کا اعلان کیا ہے۔
اس شاہی فرمان کے تحت سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان بن عبدالعزیز کو جنرل اتھارٹی فار ڈیفنس ڈویلپمنٹ کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کا چیئرمین مقرر کر دیا گیا ہے۔ یہ ادارہ مملکت میں دفاعی ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔
اسی فرمان کے ذریعے ڈاکٹر مساعد بن محمد العیبان کو جنرل اتھارٹی فار ڈیفنس ڈویلپمنٹ کے بورڈ کا ڈپٹی چیئرمین مقرر کیا گیا ہے۔ یہ تقرریاں سعودی عرب کے دفاعی ڈھانچے کو مزید مستحکم کرنے اور جدید ٹیکنالوجی کے حصول کے عزم کا حصہ ہیں۔
جنرل اتھارٹی فار ڈیفنس ڈویلپمنٹ سعودی عرب میں دفاعی ترقی، تحقیق اور جدید دفاعی ٹیکنالوجیز کے فروغ سے متعلق امور کی نگرانی کرتی ہے۔ اس ادارے کا مقصد مملکت کی دفاعی صلاحیتوں کو عالمی معیار کے مطابق جدید خطوط پر استوار کرنا ہے۔
شہزادہ خالد بن سلمان بن عبدالعزیز کی بطور چیئرمین تقرری کو دفاعی شعبے میں سعودی عرب کی خود انحصاری کی پالیسی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ وہ اس سے قبل بھی سعودی وزارت دفاع میں اہم ذمہ داریاں سرانجام دے چکے ہیں۔
ڈاکٹر مساعد بن محمد العیبان کی بطور ڈپٹی چیئرمین تقرری بھی اس ادارے کے انتظامی امور کو بہتر بنانے اور دفاعی ترقی کے اہداف کے حصول میں معاون ثابت ہوگی۔ دونوں شخصیات کی تقرری شاہی فرمان کے ذریعے عمل میں آئی ہے۔
سعودی عرب اپنے ویژن 2030 کے تحت دفاعی صنعت میں مقامی سطح پر پیداوار بڑھانے اور جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی پر خصوصی توجہ دے رہا ہے۔ اس مقصد کے لیے مختلف دفاعی اداروں کو فعال اور جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے۔
جنرل اتھارٹی فار ڈیفنس ڈویلپمنٹ کا کردار سعودی عرب کی دفاعی حکمت عملی میں انتہائی اہم ہے، کیونکہ یہ ادارہ نہ صرف تحقیق و ترقی بلکہ دفاعی سازوسامان کی تیاری میں بھی کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔
اس ادارے کے ذریعے سعودی عرب اپنی دفاعی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے مقامی ٹیکنالوجی اور مہارت کو فروغ دے رہا ہے۔ نئی قیادت کے آنے سے ان اہداف کے حصول میں مزید تیزی آنے کی توقع کی جا رہی ہے۔
سعودی عرب کی حکومت نے حالیہ برسوں میں دفاعی شعبے میں سرمایہ کاری اور تحقیق پر خاص توجہ دی ہے۔ اس کا مقصد مملکت کے دفاعی نظام کو جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس کرنا اور بیرونی انحصار کو کم کرنا ہے۔
شاہی فرمان کے بعد اب یہ تقرریاں فوری طور پر نافذ العمل ہو گئی ہیں۔ سعودی میڈیا کے مطابق، ان تقرریوں کا مقصد دفاعی ترقی کے عمل کو مزید شفاف اور مؤثر بنانا ہے تاکہ ملکی سلامتی کے اہداف کو بہتر طریقے سے حاصل کیا جا سکے۔
سعودی عرب کے دفاعی ادارے خطے میں امن و استحکام کے لیے بھی اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ جدید دفاعی ٹیکنالوجی کا حصول سعودی عرب کی طویل مدتی دفاعی پالیسی کا ایک اہم ستون ہے جس پر تسلسل کے ساتھ کام جاری ہے۔
اس تقرری کے بعد توقع ہے کہ جنرل اتھارٹی فار ڈیفنس ڈویلپمنٹ اپنے نئے بورڈ کی سربراہی میں دفاعی تحقیق کے شعبے میں مزید کامیابیاں حاصل کرے گی۔ سعودی قیادت کا یہ اقدام دفاعی خود انحصاری کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔





اپنی رائے دیں