مواد پر جائیں
جمعرات، 22 اکتوبر 2026 11 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: سہ پہر 4:37
بریکنگ
خواتین اور بچوں کے خلاف جرائم پر مریم نواز برہم، پولیس افسران کو چار ہفتوں کی مہلتسیالکوٹ موٹروے پر ایلیٹ فورس کی گاڑی کو حادثہ، ایک اہلکار شہید، 5 زخمییوکرین کے دارالحکومت کیف پر روسی میزائل حملہ، امن مذاکرات کی کوششوں کو دھچکاملک بھر میں انسداد پولیو مہم کا آغاز 2 نومبر سے ہوگاامریکا کا سعودی عرب میں موجود سفارتی عملے اور اہل خانہ کو انخلا کا حکمپاکستان، ترکیہ، قطر اور انڈونیشیا کے درمیان دفاعی تعاون کا اہم معاہدہبالی وڈ اداکار ٹائیگر شروف پر حملہ، تین ملزمان راجستھان سے گرفتارمالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو کی فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقاتفرانسیسی صدر میکرون کے نئے دفاتر کی تیاری کے لیے 23 لاکھ یورو مختصکراچی میں ایف آئی اے کا کریک ڈاؤن، ہنڈی حوالہ میں ملوث دو ملزمان گرفتارکراچی میں مشترکہ کارروائی، بدنام زمانہ منشیات فروش قاسم عرف قاسو گرفتارخیبرپختونخوا کے سرکاری گوداموں سے زہریلی گندم کی سپلائی کا انکشافپنجاب کے پرائیویٹ میڈیکل اور ڈینٹل کالجز میں داخلوں کا شیڈول جاریعمان کے سلطان کا 44 سال بعد برطانیہ کا دورہ، شاہ چارلس نے حدیث سنا دیبالی ووڈ اداکار ٹائیگر شروف پر حملے سے قبل دیگر فنکاروں کی ریکی کا انکشافآسٹریلوی فاسٹ بولر میگن شٹ طبی ضوابط کی خلاف ورزی پر دو میچوں کیلئے معطلجعلی اور ٹیمپرڈ نمبر پلیٹس کیخلاف کریک ڈاؤن، سات روز میں دو ہزار مقدمات درجریلوے پٹریوں پر پتھر اور میٹرو ٹریک پر کنکریٹ کیوں استعمال ہوتی ہے؟پاکستان سٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا مثبت آغاز، ہنڈرڈ انڈیکس میں اضافہامریکا میں شوہر نے سکون سے فٹبال میچ دیکھنے کی خاطر بیوی کو باندھ دیا
سائنس و ٹیکنالوجی

جعلی اور ٹیمپرڈ نمبر پلیٹس کیخلاف کریک ڈاؤن، سات روز میں دو ہزار مقدمات درج

سیف سٹیز اتھارٹی اور پولیس نے سکیورٹی خدشات کے پیش نظر جعلی اور کلون نمبر پلیٹس کے استعمال پر کارروائیاں مزید تیز کر دی ہیں۔

جعلی اور ٹیمپرڈ نمبر پلیٹس کیخلاف کریک ڈاؤن، سات روز میں دو ہزار مقدمات درج

لاہور سمیت پنجاب بھر میں جعلی، کلون اور ٹیمپرڈ نمبر پلیٹس کے استعمال کے خلاف جاری مہم کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کارروائیاں مزید سخت کر دی ہیں۔ سکیورٹی خدشات اور روڈ سیفٹی کو یقینی بنانے کی خاطر حکام نے غیر قانونی نمبر پلیٹس لگانے والے عناصر کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔ اسی سلسلے میں محکمہ پولیس اور متعلقہ اداروں نے قانون شکنی کرنے والے عناصر کے سدباب کے لیے گھیرا تنگ کر دیا ہے۔

حالیہ کارروائیوں کے دوران صوبائی دارالحکومت سمیت مختلف اضلاع میں بڑے پیمانے پر چھاپے مارے گئے ہیں اور مشکوک گاڑیوں کی جانچ پڑتال کی جا رہی ہے۔ حکام کے مطابق گزشتہ سات روز کے مختصر ترین عرصے کے دوران ایسی گاڑیوں کے مالکان کے خلاف مجموعی طور پر دو ہزار مقدمات درج کیے جا چکے ہیں۔ یہ اقدامات اس امر کے غماز ہیں کہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کو اب کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔

کارروائیوں کے اس نئے دور میں جدید ٹیکنالوجی کا بھرپور استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ قانون شکنی کرنے والی گاڑیوں کو فوری طور پر دبوچا جا سکے۔ صوبے کے بڑے شہروں میں نصب جدید کیمروں کے ذریعے نگرانی کا نظام انتہائی فعال کر دیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ جدید ڈیجیٹل آلات کی مدد سے قانون نافذ کرنے والے ادارے اب ہر مشکوک نقل و حرکت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

ترجمان کے مطابق سیف سٹیز اتھارٹی کے جدید کیمرے سڑکوں پر چلنے والی گاڑیوں کی نمبر پلیٹس کی مسلسل اسکیننگ کر رہے ہیں۔ جیسے ہی کوئی جعلی، کلون یا ٹیمپرڈ نمبر پلیٹ کیمرے کی زد میں آتی ہے، سسٹم فوری طور پر الرٹ جاری کر دیتا ہے۔ اس جدید ٹیکنالوجی کی بدولت مشکوک گاڑیوں کی شناخت کا عمل اب پہلے سے کہیں زیادہ تیز اور مؤثر ہو چکا ہے۔

کیمروں کی مدد سے ملنے والی بروقت اور درست معلومات کو فوری طور پر فیلڈ میں موجود پولیس ٹیموں کو منتقل کیا جاتا ہے۔ اس مربوط نظام کے باعث قانون نافذ کرنے والے اہلکار کم سے کم وقت میں متعلقہ گاڑی تک پہنچنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ پولیس کا یہ فوری رسپانس اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ قانون شکن عناصر موقع سے فرار ہونے میں کامیاب نہ ہو سکیں۔

حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ صرف جعلی نمبر پلیٹس ہی نہیں بلکہ نمبر پلیٹس پر ٹیپ لگانے یا انہیں کسی بھی طریقے سے چھپانے والے افراد بھی مسلسل نگرانی میں ہیں۔ اس طرح کی چالاکیاں کرنے والی گاڑیوں کو بھی ٹیکنالوجی کی مدد سے ٹریس کر کے تحویل میں لیا جا رہا ہے۔ ٹریفک قوانین کی اس قسم کی سنگین خلاف ورزیوں پر اب حکام کی جانب سے سخت ترین لائحہ عمل اپنایا گیا ہے۔

پنجاب بھر میں سیف سٹی کیمروں کی نشاندہی پر متعدد مشکوک اور غیر قانونی گاڑیاں حراست میں لی جا چکی ہیں۔ ان گاڑیوں کے مالکان اور ڈرائیوروں کے خلاف سخت ضابطے کی کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے تاکہ آئندہ کوئی اس قسم کی قانون شکنی کی جرات نہ کر سکے۔ حکام کا عزم ہے کہ شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ایسے اقدامات کا سلسلہ پورے تسلسل کے ساتھ جاری رکھا جائے گا۔

محکمہ پولیس کے اعلیٰ حکام کا دوٹوک مؤقف ہے کہ جعلی، کلون اور ٹیمپرڈ نمبر پلیٹس استعمال کرنے والوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر سختی سے عمل ہو رہا ہے۔ اس ضمن میں کسی بھی سفارش یا دباؤ کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے قانونی تقاضے پورے کیے جا رہے ہیں۔ پولیس کا ماننا ہے کہ جرائم کی روک تھام کے لیے گاڑیوں کی درست شناخت بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔

ماضی میں قانون شکنی کرنے والے عناصر اکثر فرضی نمبر پلیٹس استعمال کر کے قانون کی گرفت سے بچ نکلنے میں کامیاب ہو جاتے۔ تاہم اب جدید مانیٹرنگ سسٹمز کے نفاذ کے بعد ایسے تمام راستے مسدود کر دیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ گاڑیوں کی رجسٹریشن اور نمبر پلیٹس سے متعلق قوانین کا نفاذ اب انتہائی سختی سے کیا جا رہا ہے تاکہ کوئی بھی قانون کی گرفت سے باہر نہ رہے۔

اس موثر کریک ڈاؤن سے نہ صرف مجرمانہ سرگرمیوں میں کمی واقع ہوگی بلکہ ٹریفک کے نظام میں بھی بہتری آئے گی۔ سکیورٹی اداروں کا خیال ہے کہ اس مہم کے مثبت نتائج برآمد ہو رہے ہیں اور عوام کی جانب سے بھی اس کی پذیرائی کی جا رہی ہے۔ شہریوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے اسے امن و امان کی بہتری کے لیے ناگزیر قرار دیا ہے۔

حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے عوام بالخصوص گاڑیوں کے مالکان سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ اپنی گاڑیوں پر صرف محکمہ ایکسائز کی جاری کردہ اصل اور قانونی نمبر پلیٹس ہی آویزاں کریں۔ کسی بھی قسم کی ردوبدل یا جعلی نمبر پلیٹ کا استعمال سنگین قانونی جرم ہے جس پر فوری گرفتاری اور بھاری سزاؤں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

آئندہ آنے والے دنوں میں اس مہم کو مزید وسیع اور سخت کرنے کا عندیہ دیا گیا ہے۔ صوبے کے تمام داخلی اور خارجی راستوں سمیت شہروں کے اندرونی حصوں میں بھی ناکہ بندیوں کو مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے۔ متعلقہ اداروں نے واضح کر دیا ہے کہ عوام کے جان و مال کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور قانون کی عملداری ہر صورت یقینی بنائی جائے گی۔

متعلقہ محکموں کے حکام نے مزید بتایا کہ جعلی اور ٹیمپرڈ نمبر پلیٹس کے خلاف یہ کارروائیاں کسی مخصوص علاقے تک محدود نہیں ہیں بلکہ پورے صوبے میں ان کا دائرہ کار وسیع کر دیا گیا ہے۔ پولیس اور سیف سٹیز اتھارٹی کا مشترکہ لائحہ عمل جرائم پیشہ عناصر کے گرد گھیرا تنگ کرنے میں انتہائی معاون ثابت ہو رہا ہے۔

مختلف مقامات پر ناکوں اور گشت کے دوران بھی گاڑیوں کی باریک بینی سے جانچ پڑتال کی جارہی ہے تاکہ کسی بھی جعل ساز کو قانون سے فرار کا موقع نہ مل سکے۔ اس مربوط اور ہمہ گیر کریک ڈاؤن کے ذریعے سڑکوں پر مکمل نظم و ضبط بحال کرنے کی بھرپور کوشش جاری ہے۔

شہریوں کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے روزمرہ کے سفری امور میں تمام ٹریفک قوانین کی پاسداری کو یقینی بنائیں۔ غیر قانونی نمبر پلیٹس کے استعمال کے سدباب کے لیے شروع کی جانے والی یہ مہم بلا تعطل جاری رکھی جائے گی تاکہ معاشرے کو محفوظ بنایا جا سکے۔

سائنس و ٹیکنالوجی کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں