سعودی عرب میں سزائے موت پانے والے ایک بنگلادیشی مرد اور خاتون کے واقعے سے منسوب سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی تصاویر اور ویڈیوز کی حقیقت سامنے آ گئی ہے، جنہیں تحقیقات کے بعد جعلی اور پرانے واقعات سے جوڑا ہوا قرار دیا گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق سولہ اکتوبر سے سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر کچھ تصاویر اور ویڈیوز مسلسل شیئر کی جا رہی تھیں، جن میں یہ دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ یہ مواد مکہ مکرمہ میں غیر اخلاقی فعل کے الزام میں سزائے موت پانے والے بنگلادیشی جوڑے کا ہے۔
تاہم تحقیقاتی اداروں اور فیکٹ چیکنگ پلیٹ فارمز کی جانب سے کی گئی پڑتال سے یہ بات واضح ہو گئی کہ ان میں سے بعض تصاویر مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کے ذریعے تیار کی گئی تھیں جبکہ کئی ویڈیوز بالکل پرانی اور غیر متعلقہ تھیں۔
سعودی وزارت داخلہ کے مطابق چودہ اکتوبر دو ہزار چھبیس کو ایک بنگلادیشی مرد اور خاتون کو سزا دی گئی تھی، تاہم وزارت کی جانب سے اس واقعے کے حوالے سے تمام تفصیلات یا تصاویر جاری نہیں کی گئی تھیں جس کا فائدہ اٹھا کر افواہیں پھیلائی گئیں۔
فیکٹ چیک ادارے آئی ویریفائی پاکستان کی تحقیقات میں یہکشاں انکشاف ہوا کہ وائرل ہونے والی تصویر میں تابوت پر روتا ہوا شخص دراصل دو ہزار انیس میں ملائیشیا میں انتقال کرنے والے ایک بنگلادیشی مزدور کی خبر کا حصہ تھا۔
اسی طرح مرد اور خاتون کے چہروں کو ظاہر کرنے والی تصویر کو جدید مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کے ذریعے تیار کیا گیا تھا، جبکہ زیرِ حراست دکھائے جانے والے افراد کی تصاویر بھی ترمیم شدہ پائی گئیں۔
سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی ویڈیوز کے حوالے سے بھی یہ انکشاف ہوا کہ وہ اس واقعے سے قطعی تعلق نہیں رکھتی تھیں، بلکہ خانہ کعبہ کے قریب مرد اور خاتون کی وائرل ہونے والی ویڈیو فروری دو ہزار چھبیس کی پرانی ویڈیو تھی۔
سزائے موت پانے والے افراد کی مبینہ بیٹی کی حیثیت سے وائرل ہونے والی ویڈیو بھی مئی دو ہزار چھبیس سے انٹرنیٹ پر پہلے ہی موجود تھی، جس کا اس حالیہ واقعے سے کوئی تعلق نہیں بنتا تھا۔
علاوہ ازیں، ایک خاتون کو سزائے موت دینے کے حوالے سے گردش کرنے والی ویڈیو دراصل دو ہزار پندرہ کے ایک بالکل مختلف واقعے کی نکلی جسے غلط رنگ دے کر اب دوبارہ شیئر کیا جا رہا تھا۔
آئی ویریفائی پاکستان نے اپنی حتمی رپورٹ میں اس امر کی مکمل تصدیق کی ہے کہ سعودی عرب میں سزائے موت پانے والے بنگلادیشی شہریوں سے منسوب تمام تر وائرل تصاویر اور ویڈیوز سراسر غلط تناظر میں سوشل میڈیا پر پھیلائی گئیں۔
ادارے نے ان تمام مناظر اور ویڈیوز کو مذکورہ واقعے سے جوڑنے کے تمام دعوؤں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا ہے اور صارفین سے اپیل کی ہے کہ وہ بغیر تحقیق کے ایسی چیزیں آگے نہ پھیلائیں۔
سوشل میڈیا کے اس دور میں اس قسم کی جعلی اور من گھڑت مواد کی اشاعت عام لوگوں میں سراسر ابہام اور غلط فہمیاں پیدا کرتی ہے، جس پر قابو پانے کے لیے فیکٹ چیکنگ اداروں کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہو چکا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی حساس نوعیت کے واقعے پر سوشل میڈیا پر آنے والی ہر تصویر یا ویڈیو کو آنکھیں بند کر کے تسلیم نہیں کرنا چاہیے بلکہ مستند خبر رساں اداروں اور سرکاری اعلانات کا انتظار کرنا چاہیے۔
سعودی عرب کے متعلقہ حکام کی جانب سے بھی ہمیشہ اس بات پر زور دیا جاتا ہے کہ قانونی کارروائیوں اور سزاؤں کے بارے میں صرف سرکاری بیانات پر انحصار کیا جائے تاکہ کسی بھی قسم کے پروپیگنڈے یا غلط فہمی کی گنجائش باقی نہ رہے۔
اس تازہ واقعے نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ انٹرنیٹ اور مصنوعی ذہانت کے دور میں ڈیجیٹل شواہد کی جانچ پڑتال کتنی ضروری ہے تاکہ معاشرے میں افواہوں اور جعلی خبروں کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔





اپنی رائے دیں