مواد پر جائیں
جمعرات، 22 اکتوبر 2026 11 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: سہ پہر 3:57
بریکنگ
خواتین اور بچوں کے خلاف جرائم پر مریم نواز برہم، پولیس افسران کو چار ہفتوں کی مہلتسیالکوٹ موٹروے پر ایلیٹ فورس کی گاڑی کو حادثہ، ایک اہلکار شہید، 5 زخمییوکرین کے دارالحکومت کیف پر روسی میزائل حملہ، امن مذاکرات کی کوششوں کو دھچکاملک بھر میں انسداد پولیو مہم کا آغاز 2 نومبر سے ہوگاامریکا کا سعودی عرب میں موجود سفارتی عملے اور اہل خانہ کو انخلا کا حکمپاکستان، ترکیہ، قطر اور انڈونیشیا کے درمیان دفاعی تعاون کا اہم معاہدہبالی وڈ اداکار ٹائیگر شروف پر حملہ، تین ملزمان راجستھان سے گرفتارمالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو کی فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقاتوفاقی حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدلعمان کے سلطان کا 44 سال بعد برطانیہ کا دورہ، شاہ چارلس نے حدیث سنا دیبالی ووڈ اداکار ٹائیگر شروف پر حملے سے قبل دیگر فنکاروں کی ریکی کا انکشافآسٹریلوی فاسٹ بولر میگن شٹ طبی ضوابط کی خلاف ورزی پر دو میچوں کیلئے معطلجعلی اور ٹیمپرڈ نمبر پلیٹس کیخلاف کریک ڈاؤن، سات روز میں دو ہزار مقدمات درجریلوے پٹریوں پر پتھر اور میٹرو ٹریک پر کنکریٹ کیوں استعمال ہوتی ہے؟پاکستان سٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا مثبت آغاز، ہنڈرڈ انڈیکس میں اضافہامریکا میں شوہر نے سکون سے فٹبال میچ دیکھنے کی خاطر بیوی کو باندھ دیاآسٹریلوی ویمنز کرکٹ ٹیم کی فاسٹ بولر میگن شٹ پر پابندی عائدسرکاری ملازمین کی غیر ملکی شہریت سے متعلق نئے ڈیکلریشن رولز جاریامیتابھ بچن کی طبیعت ناساز، سوشل میڈیا سے عارضی دوری کا اعلانسعودی عرب میں سزائے موت پانے والے بنگلادیشی جوڑے کی تصاویر جعلی نکلیں
جرم و سزا

حافظ آباد میں جائیداد کے تنازع پر بیٹوں نے والد اور صلح کرانے والے کو قتل کر دیا

کولو تارڑ کے علاقے میں دیرینہ زمین کے تنازع پر ملزمان کلہاڑیوں کے وار کے بعد موقع سے فرار ہو گئے۔

حافظ آباد میں جائیداد کے تنازع پر بیٹوں نے والد اور صلح کرانے والے کو قتل کر دیا

حافظ آباد کے نواحی علاقے کولو تارڑ میں جائیداد کے مبینہ تنازع پر ایک دلخراش اور افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں دو حقیقی بیٹوں نے مبینہ طور پر اپنے ہی والد اور صلح صفائی کی غرض سے موجود ایک معزز شخص کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔

اطلاعات کے مطابق اس ہولناک واردات میں مقتولین کی شناخت محمد صدیق اور نذیر احمد کے ناموں سے ہوئی ہے جو کہ ایک مقامی ڈیرے پر باہمی امور کو طے کرنے کی غرض سے موجود تھے۔

ابتدائی پولیس رپورٹس سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ مقتول محمد صدیق کا اپنے ہی بیٹوں قاسم اور آصف کے ساتھ کافی عرصے سے زمین کے معاملے پر سخت تنازع چلا آ رہا تھا جسے حل کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی۔

معاملات کو خوش اسلوبی سے طے کرنے کے لیے علاقے کے ایک مقامی ڈیرے پر باقاعدہ ملاقات کا اہتمام کیا گیا تھا جہاں فریقین کے درمیان بات چیت کا سلسلہ جاری تھا تاکہ کسی پرامن نتیجے تک پہنچا جا سکے۔

ملاقات کے دوران اچانک حالات کشیدہ ہو گئے اور فریقین کے درمیان تلخ کلامی نے شدید شدت اختیار کر لی جس کے بعد ملزم بیٹوں نے مبینہ طور پر طیش میں آ کر انتہائی قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا۔

پولیس کے مطابق ملزمان قاسم اور آصف نے مبینہ طور پر تیز دھار کلہاڑیوں کے پے در پے وار کر کے اپنے ہی والد محمد صدیق کو شدید زخمی کر دیا جو موقع پر ہی گر پڑے۔

اسی دوران جھگڑے میں بیچ بچاؤ کرانے اور فریقین کے درمیان صلح کرانے کی غرض سے موجود نذیر احمد پر بھی ملزمان نے کلہاڑیوں کے وحشیانہ وار کیے جس سے وہ بھی شدید زخمی ہو گئے۔

حملے کی اس سفاکانہ نوعیت کے باعث دونوں شدید زخمی افراد زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے جبکہ ملزمان اس دہرے قتل کی واردات کو انجام دینے کے بعد آسانی سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

اس اندوہناک دہرے قتل کی اطلاع ملتے ہی مقامی پولیس کی بھاری نفری فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئی اور دونوں مقتولین کی لاشوں کو اپنی تحویل میں لے کر قانونی کارروائی کے لیے ہسپتال روانہ کر دیا۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی شواہد اور موقع پر موجود افراد کے بیانات کی روشنی میں قتل کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور مفرور ملزمان قاسم اور آصف کی تلاش کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دی جا چکی ہیں۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے ملزمان کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں اور تمام ممکنہ راستوں کو بند کر کے ان کی دھرپڑ کے لیے سخت ناکہ بندی بھی کر دی گئی ہے۔

اس دلخراش واقعے کے بعد پورے علاقے میں شدید خوف و ہراس اور غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے جبکہ مقامی شہریوں اور سماجی حلقوں نے اس سفاکانہ عمل کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔

معاشرتی ماہرین اور مقامی معززین کا کہنا ہے کہ خاندانی تنازعات اور جائیداد کے مسائل کو باہمی مشاورت یا عدالتوں کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے تاکہ معاشرے میں اس قسم کے ہولناک سانحات کی روک تھام کو یقینی بنایا جا سکے۔

پولیس کا اس حوالے سے مزید کہنا ہے کہ اس تمام معاملے کے پس منظر میں موجود دیگر حقائق کا بھی احاطہ کیا جا رہا ہے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ اس اندوہناک جرم میں کوئی اور محرک یا فرد تو ملوث نہیں تھا۔

جرم و سزا کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں