لاہور میں ٹریفک کے نظام کو بہتر بنانے اور قوانین کی سخت پابندی کو یقینی بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے ایک انتہائی اہم اور سخت ترین لائحہ عمل اپنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسٹریٹ کرائمز اور ٹریفک کی روزمرہ خلاف ورزیوں پر قابو پانے کے تناظر میں اب سنگین نوعیت کی غلطیوں پر صرف چالان کرنے پر اکتفا نہیں کیا جائے گا۔
ٹریفک پولیس حکام کی جانب سے جاری کردہ ہدایات کے مطابق شہر بھر میں ٹریفک قوانین کی اکیس مخصوص اور سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث پائے جانے والے ڈرائیورز کے خلاف فوجداری مقدمات درج کیے جائیں گے۔ اس نئی حکمت عملی کا بنیادی مقصد سڑکوں پر نظم و ضبط قائم کرنا اور شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنانا ہے۔
سی ٹی او لاہور سید عبدالرحیم شیرازی نے اس حوالے سے واضح کیا ہے کہ سڑکوں پر انسانی جانوں کو خطرے میں ڈالنے والے عناصر کے ساتھ اب سختی سے نمٹا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹریفک قوانین کی سنگین خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل درآمد شروع کر دیا گیا ہے تاکہ روڈ سیٹس کے معیار کو بلند کیا جا سکے۔
نئی پالیسی کے تحت گاڑیوں پر غیر قانونی طور پر پولیس فلیشر لائٹس، سرکاری یا حاکمانہ پروٹوکول والی نیلی بتیاں اور سبز رنگ کی نمبر پلیٹس لگانے والے افراد کسی رعایت کے مستحق نہیں ہوں گے۔ ایسے تمام عناصر کے خلاف محض جرمانوں کی رسیدیں کاٹنے کے بجائے متعلقہ تھانوں میں باقاعدہ ایف آئی آر درج کی جائے گی۔
حکام کے مطابق گاڑیوں کی نمبر پلیٹس کو جان بوجھ کر چھپانے، ان کے ہندسوں میں ردوبدل کرنے یا گاڑی کی اصل شناخت کو مسخ کرنے کی کوشش کرنے والوں کے خلاف بھی فوری طور پر مقدمات درج ہوں گے۔ شناخت چھپانے کے ایسے ہتھکنڈے اب قانون کی گرفت سے نہیں بچ سکیں گے۔
ٹریفک پولیس کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق شاہراہوں پر بلاوجہ روڈ بلاک کرنے، سڑکوں کو بند کرنے اور عام شہریوں کے لیے رکاوٹیں پیدا کرنے والوں کو بھی قانونی کٹہرے میں لایا جائے گا۔ ٹریفک کی روانی متاثر کرنے والے کسی بھی شخص کو اب معاف نہیں کیا جائے گا۔
شہر کی اہم سڑکوں اور شاہراہوں پر غیر ذمہ دارانہ رویے کا مظاہرہ کرتے ہوئے تیز رفتاری سے گاڑیاں دوڑانے والے ڈرائیورز کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ تیز رفتاری کے جنون میں مبتلا افراد کو اب جیل کی ہوا بھی کھانا پڑ سکتی ہے۔
خطرناک طریقے سے زگ زیگ ڈرائیونگ کرنے اور سڑکوں پر خطرناک اسٹنٹس یعنی ڈرفٹنگ کرنے والوں کے خلاف بھی مقدمات درج کیے جائیں گے۔ اس قسم کی لاپرواہی سے نہ صرف ڈرائیور بلکہ دوسرے معصوم شہری بھی شدید خطرے سے دوچار ہوتے ہیں۔
ٹریفک پولیس کے مطابق انتہائی غفلت، لاپرواہی اور ہلڑ بازی سے گاڑیاں چلانے والوں کو بھی اب چالان کی بجائے براہ راست مقدمات کا سامنا کرنا ہوگا۔ گاڑیوں کے ذریعے ہلڑ بازی کرنے والوں کے خلاف پولیس نے گھیرا تنگ کرنے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔
شہر کے مختلف حصوں میں ٹریفک پولیس کی خصوصی ٹیمیں ان اکیس خلاف ورزیوں پر نظر رکھیں گی تاکہ قانون ششکنی کرنے والوں کو فوری طور پر قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔ پولیس کا ماننا ہے کہ صرف روایتی چالان ٹکٹ مجرمانہ غفلت کے تدارک کے لیے ناکافی ثابت ہو رہے تھے۔
شہری حلقوں کی جانب سے ٹریفک پولیس کے اس اقدام کو سراہا جا رہا ہے کیونکہ لاپرواہ ڈرائیونگ کی وجہ سے روزانہ کی بنیاد پر قیمتی انسانی جانیں ضائع ہو رہی ہیں۔ ٹریفک حادثات میں کمی لانے کے لیے اس قسم کے سخت اقدامات کی اشد ضرورت محسوس کی جا رہی تھی۔
سی ٹی او لاہور نے تمام والدین اور گاڑی مالکان سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ اپنے بچوں اور ڈرائیورز کو ٹریفک قوانین کی مکمل پاسداری کی تلقین کریں۔ قانون شکنی کی صورت میں کسی سفارش کو خاطر میں نہیں لایا جائے گا اور کارروائی بلاتفریق جاری رہے گی۔
شہر میں بڑھتے ہوئے حادثات اور ٹریفک مسائل کے تناظر میں یہ اقدام انتہائی بروقت قرار دیا جا رہا ہے تاکہ قانون کی بالادستی قائم ہو۔ پولیس نے واضح کیا ہے کہ سڑکوں پر قانون شکنی کرنے والوں کے خلاف یہ مہم بھرپور طریقے سے جاری رکھی جائے گی۔





اپنی رائے دیں