پاکستان میں سردیوں کے دوران گیس کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کے لیے تقریباً 2 ارب ڈالر مالیت کی مائع قدرتی گیس (ایل این جی) درآمد کرنے کا فیصلہ تاحال التواء کا شکار ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن نے گیس کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے کے لیے اکتوبر کے اوائل میں ہی درآمدی عمل شروع کرنے کی تجویز دی تھی۔
کابینہ کمیٹی برائے توانائی کی جانب سے پیٹرولیم ڈویژن کی پیش کردہ گیس لوڈ مینجمنٹ سمری پر تاحال غور نہیں کیا گیا ہے۔ اس سمری میں مجموعی طور پر 22 ایل این جی کارگوز درآمد کرنے کی اجازت مانگی گئی تھی، جن میں سے کچھ کارگوز امریکا اور آذربائیجان سے بھی منگوائے جانے تھے۔
منصوبے کے تحت 12 کارگوز کی درآمد کے انتظامات 7 سے 10 اکتوبر کے درمیان شروع کیے جانے تھے، تاہم مقررہ مدت گزر جانے کے باوجود اس حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہو سکا۔ وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کا کہنا ہے کہ معاملہ کابینہ کمیٹی کے فیصلے کا منتظر ہے۔
حکومت کو طویل مدتی معاہدے کے تحت قطر سے 11 ایل این جی کارگوز ملنے کی توقع تھی، تاہم مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال کے باعث قطر نے نومبر تک فورس میجر کی مدت میں توسیع کر دی ہے۔ اس پیش رفت سے طے شدہ گیس کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
حکام کے مطابق اگرچہ 22 کارگوز درآمد کرنے کی ضرورت پر اتفاق پایا جاتا ہے، تاہم ایک رائے یہ بھی ہے کہ صرف 15 کارگوز درآمد کیے جائیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر درآمدی مقدار کم رکھی گئی تو سردیوں کے عروج پر گیس کی قلت مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔
فیصلے میں تاخیر کی ایک بڑی وجہ درآمدی گیس کی بھاری لاگت ہے۔ فی کارگو اوسطاً 8 کروڑ 70 لاکھ ڈالر لاگت آنے کے باعث نومبر سے فروری تک گیس کی ضروریات پوری کرنے کے لیے تقریباً 2 ارب ڈالر درکار ہوں گے۔ حکومت نے ابتدائی طور پر اس کا تخمینہ ڈیڑھ ارب ڈالر لگایا تھا۔
قطر سے فراہمی غیر یقینی ہونے کے باعث اب اسپاٹ مارکیٹ سے مہنگی گیس خریدنے کا امکان بڑھ گیا ہے، جس سے ملکی زرمبادلہ پر بوجھ پڑے گا۔ پاکستان کے سرکاری زرمبادلہ کے ذخائر 21 ارب ڈالر کے قریب ہیں، تاہم بڑی قرض ادائیگیوں کے پیش نظر وسائل کا انتظام ایک بڑا چیلنج ہے۔
اقتصادی امور ڈویژن کی رپورٹ کے مطابق جولائی سے ستمبر کے دوران پاکستان کو بیرونی قرضوں کی مد میں 4.5 ارب ڈالر موصول ہوئے، جن میں یورو بانڈز بھی شامل ہیں۔ دیگر ذرائع سے مالی معاونت محدود ہونے کے باعث ایل این جی کی درآمدی ادائیگیوں کے لیے حکمت عملی مرتب کی جا رہی ہے۔
پیٹرولیم ڈویژن نے سفارش کی ہے کہ گھریلو صارفین کو صبح 5 بجے سے رات 10 بجے تک گیس کی مسلسل فراہمی ترجیحی بنیادوں پر یقینی بنائی جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ کھانا پکانے کے اوقات میں گیس کا مناسب پریشر برقرار رکھنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
وزیراعظم کی زیر صدارت بھی گیس کی ضروریات اور درآمدی مقدار کا تعین کرنے کے لیے متعدد اجلاس منعقد ہو چکے ہیں۔ حکومت کا عزم ہے کہ سردیوں میں عوام کو گیس کی قلت سے بچانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے تاکہ عوامی بے چینی کو روکا جا سکے۔
ملک میں گیس کے ذخائر میں کمی کے باعث درآمدی ایل این جی پر انحصار بڑھ گیا ہے۔ پاور سیکٹر اصلاحات ٹاسک فورس اور نیشنل کوآرڈینیشن اینڈ مینجمنٹ کونسل سے مشاورت کے بعد پیٹرولیم ڈویژن نے یہ سمری تیار کی تھی تاکہ توانائی کے شعبے کو مستحکم رکھا جا سکے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بروقت فیصلے نہ کیے گئے تو صنعتی اور گھریلو صارفین دونوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ حکومت اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ کس طرح کم سے کم مالی بوجھ کے ساتھ گیس کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔
آئندہ چند روز میں کابینہ کمیٹی برائے توانائی کا اجلاس متوقع ہے جس میں ایل این جی درآمد کے حوالے سے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔ اس فیصلے پر ہی سردیوں میں گیس کی لوڈ شیڈنگ کی صورتحال کا انحصار ہوگا، جس پر عوام کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔





اپنی رائے دیں