مواد پر جائیں
جمعرات، 5 نومبر 2026 25 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ:
تازہ
اسلام آباد میں ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو کا قانونی قبضہ لے لیا گیا، فائیو سٹار ہوٹل بنے گا: محسن نقویعوام تنگ آئے تو اسرائیل کا وزیراعظم بن جاؤں گا، ڈونلڈ ٹرمپ کا بیانامریکی وسط المدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک جماعت کی کامیابی سے عالمی سطح پر ہلچلنائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور سعودی وزیر خارجہ کا ٹیلیفونک رابطہشین ڈائٹ پاکستان ویمن کرکٹ ٹیم کے نئے ہیڈ کوچ مقررسالک حسین کرپشن کے ثبوت دیں یا معافی مانگیں: عظمیٰ بخاری کا مطالبہامریکہ میں مڈٹرم انتخابات: ڈیموکریٹس کی کانگریس پر شاندار کامیابیایران جنگ امریکی مڈ ٹرم انتخابات میں شکست کی بنیادی وجہ بنی: نائب صدر جے ڈی وینسامریکی مڈٹرم انتخابات میں ڈیموکریٹس نے کانگریس کا کنٹرول حاصل کر لیاسعودی عرب کے ساتھ تین ارب ڈالر کا قرض رول اوور ہو چکا ہے: وزیر خزانہسری لنکا کے خلاف ٹیسٹ سیریز: پاکستان کی جانب سے تیز پچز تیار کرنے کا فیصلہوفاقی کابینہ نے 10 روپے کا سکہ جاری کرنے اور نئے کرنسی ڈیزائن کی منظوری دیدیکوٹ لکھپت جیل میں شاہ محمود قریشی کی طبیعت ناساز، گر کر زخمینیب اور ایف آئی اے کا اسعد محمود کو غیر قانونی بھرتیوں کے معاملے پر طلبدبئی میں باکسنگ مقابلے سے قبل فیس آف کے دوران بھارتی فائیٹر نے پاکستانی حریف کو تھپڑ جڑ دیااقبال ڈے پر عام تعطیل: ملک بھر کے بینک مسلسل تین روز بند رہیں گےایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی معاہدے پر اختلافات برقرار ہیںامریکی ریاست ٹیکساس میں ڈیموکریٹک پارٹی نے تاریخی کامیابی حاصل کر لیوزیراعظم شہباز شریف کا پیٹرول پر ریلیف نہ دینے والے پمپس کے خلاف کارروائی کا حکمسوی سدرن گیس کمپنی نے موسم سرما کے لیے گیس فراہمی کا شیڈول جاری کر دیا
پاکستان

پشاور: یکہ توت میں نامعلوم افراد کی رکشے پر فائرنگ سے دو خواتین جاں بحق

گلدرہ روڈ پر پیش آنے والے افسوسناک واقعے کے بعد ملزمان موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے، پولیس نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

پشاور کے گنجان آباد علاقے یکہ توت میں نامعلوم مسلح افراد نے ایک رکشے کو نشانہ بناتے ہوئے اندھا دھند فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں رکشے میں سوار دو خواتین موقع پر ہی جاں بحق ہو گئیں۔ یہ افسوسناک واقعہ تھانہ آغا میرجانی شاہ کی حدود میں گلدرہ روڈ پر پیش آیا۔

عینی شاہدین کے مطابق رکشہ معمول کے مطابق سڑک سے گزر رہا تھا کہ اچانک نامعلوم افراد نے اس پر گولیاں برسا دیں۔ فائرنگ کے بعد حملہ آور تیزی سے جائے وقوعہ سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے، جس سے علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا اور لوگ خوفزدہ ہو گئے۔

واقعے کی اطلاع ملتے ہی یکہ توت پولیس کی بھاری نفری ایس ایچ او ریاض کی قیادت میں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئی۔ پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیے ہیں جبکہ لاشوں کو ضروری قانونی کارروائی کے لیے قریبی ہسپتال کے مردہ خانے منتقل کر دیا گیا ہے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ تاحال جاں بحق ہونے والی دونوں خواتین کی شناخت نہیں ہو سکی ہے۔ پولیس شناخت کا عمل مکمل کرنے کے لیے نادرا اور دیگر ذرائع کی مدد لینے پر غور کر رہی ہے تاکہ ان کے لواحقین تک رسائی حاصل کی جا سکے اور واقعے کے محرکات کا تعین کیا جا سکے۔

ابتدائی تحقیقات کے مطابق پولیس اس پہلو پر بھی غور کر رہی ہے کہ آیا یہ واقعہ ذاتی دشمنی کا نتیجہ ہے یا اس کے پیچھے کوئی اور محرک کارفرما ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ورثاء کے پہنچنے کے بعد ہی اصل حقائق سامنے آ سکیں گے اور قانونی کارروائی کو آگے بڑھایا جائے گا۔

واقعے کے بعد جائے وقوعہ پر لوگوں کی بڑی تعداد جمع ہو گئی جس کے باعث ٹریفک کی روانی بھی کچھ دیر کے لیے متاثر رہی۔ پولیس نے جائے وقوعہ سے گولیوں کے خول اور دیگر اہم شواہد قبضے میں لے لیے ہیں جنہیں فرانزک تجزیے کے لیے لیبارٹری بھجوایا جائے گا۔

علاقے میں موجود سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج حاصل کرنے کی کوششیں بھی کی جا رہی ہیں تاکہ حملہ آوروں کی شناخت اور ان کی نقل و حرکت کا سراغ لگایا جا سکے۔ پولیس نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ملزمان کو جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

پشاور پولیس کی جانب سے شہر کے داخلی اور خارجی راستوں پر بھی چیکنگ سخت کر دی گئی ہے تاکہ ملزمان کو شہر سے باہر نکلنے سے روکا جا سکے۔ پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ اگر کسی کو اس واقعے کے بارے میں کوئی معلومات حاصل ہوں تو وہ فوری طور پر قریبی تھانے سے رابطہ کریں۔

اس قسم کے واقعات کی روک تھام کے لیے پولیس کی جانب سے گشت کے نظام کو مزید بہتر بنانے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنا اولین ترجیح ہے اور کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

واقعے کے بعد علاقے میں سوگ کی فضا ہے اور مقامی افراد نے مطالبہ کیا ہے کہ ملزمان کو جلد از جلد گرفتار کر کے قرار واقعی سزا دی جائے۔ پولیس نے یقین دلایا ہے کہ تحقیقات کو شفاف طریقے سے مکمل کیا جائے گا اور انصاف کے تمام تقاضے پورے کیے جائیں گے۔

مزید تفتیش کے لیے ایک خصوصی ٹیم بھی تشکیل دی جا رہی ہے جو اس کیس کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لے گی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ جیسے ہی مقتولین کی شناخت ہو گی، تفتیش کا دائرہ کار مزید وسیع کر دیا جائے گا تاکہ ملوث عناصر تک پہنچا جا سکے۔

پشاور میں امن و امان کے قیام کے لیے پولیس مسلسل کوشاں ہے اور اس واقعے کو ایک بڑی سیکیورٹی لیپس کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔ اعلیٰ پولیس حکام نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے جلد رپورٹ طلب کر لی ہے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔

پولیس کے مطابق تاحال یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ خواتین کو کس نے اور کیوں نشانہ بنایا ہے۔ پولیس نے واضح کیا ہے کہ ورثاء کے آنے کے بعد ہی مزید قانونی کارروائی آگے بڑھائی جائے گی اور حقائق کی روشنی میں مقدمہ درج کیا جائے گا۔

اس موضوع پر مزید خبریں

پاکستان کی تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
چیف ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر صحافی جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی ادارتی پالیسی، خبروں کی تصدیق اور معیار ان کی نگرانی میں ہے۔

  • نیوز ڈیسک — قومی، بین الاقوامی، عدالت اور جرم و سزا کی خبریں

ہمیں فالو کریں