وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب عظمیٰ بخاری نے وفاقی وزیر سالک حسین کے حالیہ بیان پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔
صوبائی دارالحکومت لاہور سے جاری ہونے والے اپنے ایک بیان میں عظمیٰ بخاری نے کہا کہ سالک حسین وزیراعلیٰ پنجاب کے نوٹس کا باضابطہ جواب دیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ وفاقی وزیر یا تو اپنے الزامات کے حق میں ٹھوس شواہد پیش کریں بصورت دیگر قوم سے معافی مانگیں۔
عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ سالک حسین خود وفاقی حکومت کا ایک اہم حصہ ہیں اور اس عہدے پر فائز ہو کر بغیر ثبوت کے الزامات عائد کرنا انہیں ہرگز زیب نہیں دیتا۔
انہوں نے یاد دلایا کہ گزشتہ روز ہی وفاقی وزیر نے خود ڈپٹی کمشنر گجرات کی تعیناتی کے لیے باقاعدہ سفارش کرنے کا اعتراف کیا تھا۔
صوبائی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ اب موصوف اپنے ہی اس بیان سے یوٹرن لینے کی کوشش کر رہے ہیں جو کہ ناقابل قبول ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایک طرف سرکاری عہدے اور اس کے تمام مراعات اور اسٹیٹس سے مکمل لطف اندوز ہوا جائے اور دوسری طرف الزام تراشی کی جائے، ایسا اب نہیں چلے گا۔
عظمیٰ بخاری نے اس امر پر بھی روشنی ڈالی کہ سالک حسین کے اپنے بھائی بھی گزشتہ روز ان کے ان بے بنیاد اور جھوٹے الزامات کو سرے سے مسترد کر چکے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اب صرف یوٹرن لے کر اس معاملے سے جان چھڑائی نہیں جا سکتی بلکہ سالک حسین کو اپنے بیانات کا جواب دینا ہوگا۔
صوبائی وزیر نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے ترقیاتی ویژن کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنے دو سالہ دورِ حکومت میں کھربوں روپے کے ریکارڈ ترقیاتی منصوبے شروع کیے اور کامیابی سے مکمل بھی کیے۔
ان کا دعویٰ تھا کہ کوئی بھی سیاسی ناقد یا مخالف بھی ان اربوں روپے کے شفاف ترقیاتی منصوبوں میں ایک دھیلے کی بھی بدعنوانی یا کرپشن کا الزام ثابت کرنے کی سکت نہیں رکھتا۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ ایک طرف سالک حسین خود یہ اعتراف کر رہے ہیں کہ ان کے پاس اپنے لگائے گئے الزامات کے حق میں کوئی شواہد موجود نہیں ہیں۔
انہوں نے اس بات پر بھی حیرت کا اظہار کیا کہ شواہد نہ ہونے کے اعتراف کے باوجود دوسری طرف الماریاں بھرنے جیسے سنگین اور بے بنیاد الزامات بھی عائد کیے جا رہے ہیں۔
آخر میں صوبائی وزیر اطلاعات نے واضح کیا کہ وفاقی وزیر کو اپنے ان تضاد بیانات، بے بنیاد الزامات اور عائد کردہ اتهامات کا ہر صورت جواب دینا ہوگا۔


اپنی رائے دیں