سابق وزیراعظم اور پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر محمد نواز شریف نے لندن میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے خیبر پختونخوا کی مجموعی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے کے اندر امن و امان کے معاملات بگڑتے جا رہے تھے اور انتظامی امور تیزی سے گرفت سے باہر ہو رہے تھے۔
نواز شریف کا یہ بھی ماننا تھا کہ صوبائی سطح پر ایمرجنسی نافذ کرنے کا فیصلہ تاخیر کا شکار ہوا اور یہ قدم بہت پہلے اٹھایا جانا چاہیے تھا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے برطانوی دارالحکومت میں صحافیوں کے ساتھ غیر رسمی گفتگو کے دوران کیا۔
مسلم لیگ ن کے سربراہ کا کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف نے گزشتہ تیرہ برس کے طویل عرصے کے دوران خیبر پختونخوا کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ صوبے کے وسائل کو اس کی ترقی پر خرچ کرنے کے بجائے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا۔
سیاسی حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے سوال اٹھایا کہ دنیا کے کس مہذب ملک میں کوئی صوبائی وزیر اعلیٰ اپنے منصب اور سرکاری وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے وفاقی دارالحکومت پر حملہ آور ہوتا ہے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ سرکاری مشینری کا اسلام آباد اور دیگر صوبوں کے خلاف استعمال کسی بھی آئینی اور جمہوری ضابطے کا حصہ نہیں ہے۔
سابق وزیراعظم نے دعویٰ کیا کہ اب خیبر پختونخوا کے غیور عوام تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کے اثر و رسوخ اور مبینہ جکڑبندی سے آزاد ہو چکے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ عوام اب صوبے میں حقیقی ترقی اور بہتری کے خواہاں ہیں۔
گفتگو کے دوران انہوں نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ وفاقی اور صوبائی سطح پر موجود ذمہ دار حکومتیں عام آدمی کے معیار زندگی کو بلند کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ ان کے مطابق حکومت کا بنیادی ہدف عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور پائیدار ترقی ہے۔
سابق وزیر اعظم کے ان خیالات سے ملکی سیاسی حلقوں میں ایک نئی بحث کا آغاز ہو گیا ہے جہاں مختلف جماعتیں صوبائی امور اور امن و امان کی صورتحال پر اپنے اپنے مؤقف کا اظہار کر رہی ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ حالات میں سیاسی قائدین کے بیانات اہمیت کے حامل ہیں۔
پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنماؤں کا یہ موقف رہا ہے کہ صوبوں میں آئین اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنایا جائے تاکہ عوام بلا کسی خوف و خطر اپنے روزمرہ کے امور انجام دے سکیں۔ پارٹی قیادت کا اصرار ہے کہ قانون شکنی کی کسی بھی کوشش کو برداشت نہیں کیا جانا چاہیے۔
خیبر پختونخوا میں حالیہ سیاسی تبدیلیوں اور انتظامی فیصلوں کے بعد وفاقی حکومت اور دیگر سیاسی جماعتوں کے درمیان لفظی جنگ میں بھی تیزی آئی ہے۔ مسلم لیگ ن چاہتی ہے کہ صوبے کے عوام کو درپیش مسائل کا فوری حل نکالا جائے اور انتظامی گرفت مضبوط کی جائے۔
لندن میں ہونے والی اس ملاقات میں ملکی سیاسی منظر نامے، معاشی چیلنجز اور آئندہ کی حکمت عملی پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ نواز شریف نے پارٹی رہنماؤں کو ہدایت کی ہے کہ وہ عوام کے ساتھ قریبی رابطہ رکھیں اور ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے آواز اٹھاتے رہیں۔
حکومتی ترجمانوں کا بھی کہنا ہے کہ ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے والے عناصر کے ساتھ قانون کے مطابق نمٹا جائے گا اور کسی کو بھی ملکی امن خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ صوبائی اور وفاقی سطح پر ہم آہنگی کو بہتر بنانے پر بھی زور دیا جا رہا ہے۔
ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے نواز شریف کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت نے ہمیشہ عوامی فلاح کے منصوبوں کو ترجیح دی ہے اور آئندہ بھی ملک کے ہر کونے میں بلا امتیاز ترقیاتی کام کروائے جائیں گے۔ عوام کی بہتری کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات کو مزید تیز کیا جائے گا۔
آخر میں انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ تمام جمہوری قوتیں مل کر ملک کو موجودہ مشکلات سے باہر نکالیں گی اور آئین و قانون کی بالادستی کو ہر صورت برقرار رکھا جائے گا۔ انہوں نے پاکستانی قوم کو صبر اور اتحاد کے ساتھ حالات کا مقابلہ کرنے کی تلقین کی۔

اپنی رائے دیں