کراچی میں بچوں کی سفری حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے صوبائی محکمہ تعلیم نے اہم اقدامات اٹھاتے ہوئے اسکول وینز میں گیس سلینڈرز کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔
اس ضمن میں صوبائی وزیر تعلیم کی ہدایات پر تمام نجی تعلیمی اداروں کو باضابطہ حفاظتی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔
ان ہدایات کا بنیادی مقصد کمسن طالب علموں کی جان و سلامتی کو محفوظ بنانا اور حادثات کے خطرات کو کم کرنا ہے۔
نئے احکامات کے تحت اب کسی بھی اسکول وین میں سی این جی یا ایل پی جی سلینڈر نصب کرنے کی ہرگز اجازت نہیں ہوگی۔
اس کے علاوہ گاڑیوں کے انجن کو بوتلوں یا کین کے ذریعے غیر محفوظ اور خطرناک طریقے سے پیٹرول فراہم کرنے پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔
مراسلے میں اس بات کو واضح کیا گیا ہے کہ اس طرح کے غیر معیاری طریقے بچوں کی زندگیوں کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔
حکومتی احکامات کے مطابق اسکول وینز میں گنجائش سے زائد طلبہ کو بٹھانے کی بھی سختی سے ممانعت کر دی گئی ہے۔
کسی بھی بچے کو گاڑی کے فٹ بورڈ پر کھڑا کرکے سفر کرانے کی اجازت نہیں دی جائے گی تاکہ دورانِ سفر کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آئے۔
محکمہ تعلیم کے جاری کردہ مراسلے کے مطابق تمام اسکول ٹرانسپورٹ کے لیے حکومتِ سندھ کا جاری کردہ فٹنس سرٹیفکیٹ حاصل کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
صرف سرٹیفکیٹ حاصل کرنا ہی کافی نہیں بلکہ ہر وین میں اس فٹنس سرٹیفکیٹ کی ایک نقل کا ہر وقت موجود ہونا بھی لازمی ہوگا تاکہ معائنے کے وقت دکھائی جا سکے۔
حفاظتی ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والے تمام متعلقہ اسکولوں کی انتظامیہ کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
تمام نجی تعلیمی اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ان حفاظتی احکامات پر فوری اور سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔
شہر بھر میں اسکول ٹرانسپورٹ کے معاملات کو بہتر بنانے کے لیے اس قسم کے اقدامات کو انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
حکومت کی جانب سے جاری کردہ یہ پالیسی اسکول جانے والے بچوں کے والدین کے لیے ایک بڑا ریلیف ثابت ہوگی۔
والدین کی جانب سے بھی طویل عرصے سے اسکول وینز میں ناقص سلینڈرز اور اور لوڈنگ کے خلاف شکایات کی جا رہی تھیں۔
محکمہ تعلیم کے مطابق ان احکامات کی مسلسل نگرانی کی جائے گی اور قوانین توڑنے والوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جائے گی۔

اپنی رائے دیں