قومی ایئرلائن پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز نے اپنے فضائی آپریشن میں ایک نمایاں سنگ میل عبور کر لیا ہے، جس کے تحت ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ جدید ترین بوئنگ 787 ڈریم لائنر طیارے پاکستانی فضائی حدود میں پروازوں کے لیے استعمال کیے جائیں گے۔
ذرائع کے مطابق قومی ایئرلائن نے یہ جدید طیارے نورس اٹلانٹک ایئرلائن سے حاصل کیے ہیں، جنہیں بنیادی طور پر برطانیہ اور یورپ کے طویل المدتی روٹس پر چلایا جائے گا تاکہ مسافروں کو بہترین فضائی سفری سہولیات میسر آ سکیں۔
پاکستان آمد اور باقاعدہ آپریشنل کرنے سے قبل پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی نے ان طیاروں کی تکنیکی جانچ پڑتال کا عمل شروع کیا، جس کے دوران حفاظتی معیارات اور عالمی قوانین کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔
پہلے حاصل کردہ طیارے کی تمام تر انسپیکشن کا عمل کامیابی کے ساتھ مکمل کر لیا گیا ہے، جس کے بعد سول ایوی ایشن اتھارٹی کی جانب سے اس جدید ترین طیارے کو پاکستانی فضائی آپریشن کے لیے باضابطہ اجازت نامہ جاری کر دیا گیا ہے۔
معائنہ کرنے والے وفد کی قیادت پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل نادر شفیع ڈار نے خود کی، جنہوں نے اوسلو ایئرپورٹ پر جا کر اس طیارے کے مختلف حصوں اور حفاظتی نظام کا تفصیلی جائزہ لیا۔
ذرائع نے مزید بتایا ہے کہ دوسرے طیارے کی انسپیکشن کا عمل پیر کے روز اوسلو ایئرپورٹ پر مکمل کیا جائے گا، جہاں اتھارٹی کے ماہرین اس کی تکنیکی صلاحیتوں اور اندرونی انتظامات کی جانچ پڑتال کریں گے۔
دونوں جدید طیاروں کی جانچ پڑتال اور تمام قانونی تقاضے پورے ہونے کے بعد انہیں فوری طور پر لندن روانہ کر دیا جائے گا، جہاں سے وہ مسافروں کو لے کر پاکستان کے لیے اپنی پہلی تاریخ ساز پروازیں شروع کریں گے۔
قومی ایئرلائن کی جانب سے طے شدہ شیڈول کے مطابق 31 اکتوبر کو بوئنگ 787 ڈریم لائنر کے ذریعے لندن سے اسلام آباد کے لیے پہلی پرواز پی کے 786 آپریٹ کی جائے گی، جو مسافروں کو لے کر یکم نومبر کو اسلام آباد پہنچے گی۔
اس جدید ترین بوئنگ 787 ڈریم لائنر طیارے کے اندر ایک ہی وقت میں مجموعی طور پر 358 مسافروں کے آرام سے بیٹھنے کی شاندار گنجائش موجود ہے، جو مسافر بردار صلاحیت میں اضافے کی جانب ایک بڑا قدم ہے۔
ایوی ایشن ذرائع کا کہنا ہے کہ اس جدید طیارے کی فلیٹ میں شمولیت سے مسافروں کو بین الاقوامی معیار کی جدید سفری سہولتیں، بہتر ان انٹرٹینمنٹ اور کشادہ نشستیں فراہم کرنے میں بڑی مدد ملے گی۔
اس اہم ترین موقع پر قومی ایئرلائن کی انتظامیہ کی طرف سے اپنے عملے کے لیے نئے اور دلکش یونیفارم بھی متعارف کرائے جا رہے ہیں، جو 31 اکتوبر کو پہلی پرواز کے موقع پر منظر عام پر لائے جائیں گے۔
ذرائع کے مطابق قومی ایئرلائن نے یہ دونوں جدید ترین طیارے ابتدائی طور پر چھ ماہ کے لیے ویٹ لیز پر حاصل کیے ہیں، جن کی مدد سے یورپ اور برطانیہ کے روٹس پر سروس کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔
حالیہ چند سالوں کے دوران قومی ایئرلائن کی کارکردگی اور مسافروں کی سہولت کے لیے یہ اقدام انتہائی اہمیت کا حامل سمجھا جا رہا ہے، جس سے مسافروں کا قومی ادارے پر اعتماد مزید بحال ہونے کی توقع ہے۔
مساحفر بردار طیاروں میں اس قسم کے جدید اضافے سے نہ صرف مسافروں کا سفر پر سکون ہو گا بلکہ یہ قومی ایئرلائن کی تجارتی ترقی اور روٹس کی بحالی کے لیے بھی ایک مثبت پیش رفت ثابت ہو گی۔





اپنی رائے دیں