مواد پر جائیں
اتوار، 18 اکتوبر 2026 7 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: صبح 6:17
بریکنگ
مصر کا سعودی عرب کے دفاع کیلئے ہر ممکن اقدامات اٹھانے کا اعلانجدہ ایئرپورٹ پر پروازوں کا آپریشن 45 منٹ کی معطلی کے بعد بحالفرانس اور البانیہ میں حکومت مخالف مظاہرے، متعدد عمارتیں نذرِ آتشبھارت: کولکتہ میں مذہبی تہوار کے دوران بھگدڑ، 17 افراد ہلاکسعودی عرب: امریکا اور برطانیہ کی اپنے شہریوں کو سکیورٹی الرٹ جاریپشاور: یکہ توت میں نامعلوم افراد کی رکشے پر فائرنگ سے دو خواتین جاں بحقمشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی: امریکی فضائیہ کا ری فیولنگ طیارہ مشن کے لیے تیاراپر کرم اور غوز گڑھی میں پاک فوج کا افغان طالبان کی اشتعال انگیزی کا منہ توڑ جوابمغربی کنارے میں یہودی آباد کاروں کا یورپی سفارت کاروں کے وفد پر حملہپاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی فائرنگ، پاک فوج کا بھرپور جوابی وارامریکی وزیر دفاع کی ایران کو جوہری عزائم ترک کرنے یا فوجی کارروائی کی دھمکییوکرین کا روسی آئل ریفائنریز پر حملے دوبارہ شروع کرنے کا اعلانکراچی میں ٹریفک کے دو مختلف حادثات، ایک راہگیر جاں بحق اور ایک زخمیکراچی: نامعلوم سمت سے آنے والی گولیوں کا شکار ہو کر کمسن بچی سمیت 2 افراد زخمیایف بی آر کی تنظیم نو کے خلاف ہڑتال کی کال واپس، افسران معمول کے مطابق کام کریں گےلندن میں بھارتی ہائی کمیشن کے باہر مودی حکومت کے خلاف نوجوانوں کا شدید احتجاجچیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم کا دورہ ملتان، متعدد منصوبوں کا افتتاح کریں گیاسرائیلی کمپنیوں کا صحافیوں کی جاسوسی کا نیا اسکینڈل سامنے آ گیامشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی، پاکستان کا سعودی عرب کی سلامتی کے لیے عزم کا اعادہلاہور میں پولیس افسران کے بڑے پیمانے پر تبادلے، متعدد ایس ایچ اوز تعینات
پاکستان

صرف رجسٹری اور انتقال سے ملکیت ثابت نہیں ہوتی، لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ

لاہور ہائیکورٹ نے جائیداد کی تقسیم سے متعلق اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ انتقالِ اراضی محض مالی ریکارڈ ہے۔

صرف رجسٹری اور انتقال سے ملکیت ثابت نہیں ہوتی، لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ

لاہور ہائیکورٹ نے جائیداد کی تقسیم کے ایک مقدمے میں اہم ترین قانونی نکتہ واضح کرتے ہوئے فیصلہ جاری کیا ہے کہ صرف رجسٹری ہونے سے ہر بات ثابت نہیں ہو جاتی۔ عدالتی فیصلے میں یہ بھی قرار دیا گیا ہے کہ انتقالِ اراضی صرف ایک مالی ریکارڈ ہے اور محض اس کی بنیاد پر کسی جائیداد کی ملکیت قائم نہیں ہوتی۔

یہ فیصلہ لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس محمد ساجد محمود سیٹھی نے عبد الوحید خان کی طرف سے دائر کی جانے والی نظرثانی درخواست پر سماعت کے بعد جاری کیا۔ گیارہ صفحات پر مشتمل اس تحریری فیصلے کو عدالت کی طرف سے ایک اہم عدالتی نظیر بھی قرار دیا گیا ہے جو مستقبل کے مقدمات میں رہنمائی فراہم کرے گی۔

عدالت عالیہ نے اپنے اس فیصلے کے ذریعے خانیوال کی ماتحت عدالتوں کے وہ فیصلے کالعدم قرار دے دیے جو اس معاملے میں پہلے جاری کیے گئے تھے۔ اس کے ساتھ ہی ہائیکورٹ نے متعلقہ عدالت کو یہ مقدمہ دوبارہ سن کر اس پر نئے سرے سے کارروائی کرنے کا حکم بھی صادر کیا ہے۔

عدالتی حکم کے مطابق متنازع جائیدادوں میں سے ایک جائیداد کے بارے میں معاملے کا دوبارہ فیصلہ کیا جائے گا جبکہ باقی چار جائیدادوں سے متعلق ماتحت عدالت کے فیصلے اپنی جگہ برقرار رہیں گے۔ ہائیکورٹ نے نشاندہی کی کہ اپیلیٹ کورٹ نے اپنے فیصلے میں عدالتی دستاویزات کا ذکر تو کیا لیکن ان کی بنیاد پر کوئی ٹھوس قانونی وجوہات بیان نہیں کیں۔

فیصلے کے متن میں چند اہم قانونی اصولوں کو اجاگر کیا گیا ہے جن میں واضح کیا گیا ہے کہ تیس سال پرانی دستاویزات پر قانونی قیاس کا اطلاق ہو سکتا ہے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ اگر فریقین کی شناخت واضح نہ ہو تو اس مقصد کے لیے موقع پر لوکل کمیشن بھیجا جا سکتا ہے۔

عدالت نے اس امر پر بھی زور دیا کہ اگر کسی مقدمے میں کوئی ضروری فریق شامل نہ ہو تو محض اس بنیاد پر مقدمہ خارج کرنے کی بجائے اس فریق کو مقدمے میں شامل ہونے اور اپنا موقف دینے کا مناسب موقع فراہم کیا جانا چاہیے۔ اس کے علاوہ دعویٰ دائر کرنے والے شخص پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ عدالت میں اپنا حق خود ثابت کرے کیونکہ دعوے کا اثبات مدعی کی ذمہ داری ہے۔

لاہور ہائیکورٹ نے اس کیس کے تمام فریقین کو ہدایت کی ہے کہ وہ چھبیس اکتوبر دو ہزار چھبیس کو متعلقہ اپیلیٹ کورٹ کے روبرو پیش ہوں۔ عدالت نے اپیلیٹ کورٹ کو یہ بھی حکم دیا ہے کہ وہ اس زیر التواء کیس کا فیصلہ میرٹ کی بنیاد پر تین ماہ کے اندر اندر مکمل کرنے کی کوشش کرے۔

اس فیصلے سے جائیداد کے تنازعات اور ملکیتی مقدمات کی پیروی کرنے والے سائلین کو اہم قانونی رہنمائی ملے گی، کیونکہ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ محض انتقال اور رجسٹری ہی جائیداد کی ملکیت کا حتمی ثبوت ہوتے ہیں۔ لاہور ہائیکورٹ کے اس فیصلے نے واضح کر دیا ہے کہ ملکیتی دعوے کے لیے ٹھوس شواہد اور قانونی تقاضوں کو پورا کرنا ناگزیر ہوتا ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں مزید یہ بھی واضح کیا ہے کہ مالی ریکارڈ یا انتقال نامہ جات بنیادی طور پر محصول کی وصولی اور مالی معاملات کے لیے مرتب کیے جاتے ہیں، جنہیں جائیداد کے ٹائٹل کا حتمی اور ناقابل تردید ثبوت نہیں سمجھا جا سکتا۔ قانونی ماہرین کے نزدیک اس فیصلے سے ماتحت عدالتوں کو بھی اراضی کے تنازعات نمٹانے میں بہتر سمت ملے گی۔

نظرثانی کی اس درخواست میں درخواست گزار کی جانب سے متعدد قانونی نکات اٹھائے گئے تھے جن پر عدالت نے تفصیلی غور کیا۔ جسٹس محمد ساجد محمود سیٹھی کی عدالت کی طرف سے جاری کردہ یہ گیارہ صفحات پر مشتمل فیصلہ اس لحاظ سے بھی نمایاں ہے کہ اس میں عدالتی کارروائی کے دوران دستاویزات کی جانچ پڑتال کے اصولوں پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔

ماتحت عدالتوں کے فیصلوں کا جائزہ لیتے ہوئے ہائیکورٹ نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ اپیلیٹ سطح پر فیصلوں میں قانونی تقاضوں کو نظر انداز کیا گیا اور صرف سرسری طور پر دستاویزات کا تذکرہ کر کے مقدمات کو نمٹا دیا گیا، جو انصاف کے تقاضوں کے عین مطابق نہیں ہے۔ اسی وجہ سے عدالت نے خانیوال کی حد تک اس کیس کو ری منڈ بیک کرتے ہوئے دوبارہ سماعت کا حکم دیا ہے۔

جائیداد کے تنازعات پاکستان کے دیہی اور شہری علاقوں میں ایک عام مسئلہ ہیں جہاں اکثر افراد رجسٹری اور انتقال کو ہی سب کچھ سمجھ بیٹھتے ہیں۔ لاہور ہائیکورٹ کا یہ فیصلہ اس نوعیت کے غلط تصورات کی اصلاح کرتا ہے اور فریقین کو یہ باور کراتا ہے کہ انہیں عدالت کے اندر اپنے حقوق کے دفاع کے لیے دستویزاتی شواہد کے ساتھ ساتھ ٹھوس قانونی دلائل بھی پیش کرنا ہوں گے۔

عدالت عالیہ کی جانب سے دی گئی تین ماہ کی یہ مہلت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ عدالتیں اب مقدمات کے جلد از جلد فیصلے چاہتی ہیں تاکہ سائلین کی سالوں پر محیط پریشانیوں کا مداوا ہو سکے۔ تمام متعلقہ فریقین کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ مقررہ تاریخ پر عدالت میں حاضر ہوں۔

پاکستان کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں