پاکستان کی ابھرتی ہوئی ویمن اسکواش کھلاڑی ماہ نور علی نے ملائیشیا کے دارالحکومت کوالالمپور میں جاری ملائیشیا جونیئر اوپن اسکواش چیمپئن شپ 2026 میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کر لیا ہے۔ ان کی اس بڑی کامیابی پر ملک بھر کے کھیلوں کے حلقوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے اور شائقین کی جانب سے انہیں بھرپور داد دی جا رہی ہے۔
کوالالمپور کے نیشنل اسکواش سینٹر میں کھیلے جانے والے اس اہم ٹورنامنٹ میں دنیا بھر سے نامور نوجوان کھلاڑی شرکت کر رہے ہیں اور مقابلے انتہائی سنسنی خیز مراحل میں داخل ہو چکے ہیں۔ ماہ نور علی نے کوارٹر فائنل کے اس اہم اور فیصلہ کن مرحلے میں شاندار کھیل پیش کرتے ہوئے حریف کھلاڑی کو میدان میں ٹکنے کا موقع نہیں دیا۔
اس یادگار مقابلے میں ماہ نور علی کا مقابلہ بھارت کی پانچویں سیڈ کھلاڑی دیویانشی جین کے ساتھ تھا جسے اسکواش کی دنیا میں ایک کڑا حریف سمجھا جاتا ہے۔ تاہم پاکستانی کھلاڑی نے تمام دباؤ کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنی صلاحیتوں کا لوہامنوایا اور کورٹ پر شاندار کھیل کا کھلا مظاہرہ کیا۔
پشاور سے تعلق رکھنے والی علی سسٹرز میں سب سے بڑی بہن ماہ نور علی نے اس میچ کے دوران اپنی بہترین فارم کا بھرپور مظاہرہ کیا اور شاندار حکمت عملی کے تحت حریف کو قابو کیا۔ انہوں نے میچ کے آغاز سے ہی جارحانہ انداز اپنایا اور بھارتی کھلاڑی کو کسی بھی موقع پر سنبھلنے کا موقع فراہم نہیں کیا۔
ملائیشیا جونیئر اوپن اسکواش چیمپئن شپ دنیا کی پہلی ڈائمنڈ کیٹیگری جونیئر اوپن چیمپئن شپ ہے جس میں اعلیٰ معیار کے کھلاڑی مدمقابل آ رہے ہیں۔ ایسے بڑے اور سخت مقابلے میں ماہ نور علی کی طرف سے اس نوعیت کی یکطرفہ فتح حاصل کرنا پاکستان کے لیے ایک بہت بڑا اعزاز ہے۔
میچ کے پہلے گیم میں ماہ نور علی نے اپنے اعصاب پر مکمل قابو رکھا اور حریف پر دباؤ برقرار رکھتے ہوئے گیارہ سات کے اسکور سے کامیابی حاصل کی۔ اس ابتدائی برتری نے ان کے اعتماد میں مزید اضافہ کیا اور انہوں نے میچ پر اپنی گرفت کو مزید مضبوط کر لیا۔
دوسرے گیم میں بھی پاکستانی کھلاڑی کا کھیل شاندار اور تسلسل سے بھرپور رہا جہاں انہوں نے بھارتی کھلاڑی کو ایک بار پھر دفاعی لائن توڑنے پر مجبور کیا۔ ماہ نور نے یہ گیم گیارہ چھ کے واضح مارجن سے اپنے نام کیا اور اپنی برتری کو دوگنا کر دیا۔
تیسرے اور آخری گیم میں بھی کہانی مختلف نہیں رہی اور ماہ نور نے اپنے تمام تر تجربے اور مہارت کا بھرپور استعمال کیا۔ انہوں نے ایک بار پھر گیارہ چھ کے اسکور سے یہ گیم جیتا اور مجموعی طور پر صفر کے مقابلے میں تین گیمز سے میچ اپنے نام کر لیا۔
اس طرح ماہ نور علی نے حریف بھارتی کھلاڑی دیویانشی جین کو ایک بھی گیم جیتنے کا موقع دیے بغیر تین صفر سے کامیابی حاصل کر کے فائنل فور یعنی سیمی فائنل میں شاندار انداز میں رسائی پالی۔ ان کی اس فتح نے ثابت کر دیا کہ وہ ٹورنامنٹ میں ٹائٹل کی مضبوط امیدوار ہیں۔
خیبر پختونخوا کے تاریخی شہر پشاور سے تعلق رکھنے والی اس ہونہار کھلاڑی نے کم عمر میں ہی بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا نام روشن کرنا شروع کر دیا ہے۔ ان کے اس سفر میں ان کے خاندان اور کوچز کی محنت بھی شامل ہے جو انہیں اس مقام تک لائے ہیں۔
ماہ نور علی کی اس شاندار کامیابی پر کھیلوں کے تجزیہ کاروں اور ماہرین کی جانب سے بھی خراج تحسین پیش کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قسم کے بڑے ٹورنامنٹس میں کامیابی حاصل کرنے سے کھلاڑیوں کا مورال بلند ہوتا ہے اور بین الاقوامی تجربہ ملتا ہے۔
ملائیشیا جونیئر اوپن اسکواش چیمپئن شپ کے سیمی فائنل میں رسائی کے بعد اب شائقین اسکواش کو ماہ نور علی سے فائنل میں پہنچنے اور چیمپئن شپ ٹائٹل اپنے نام کرنے کی پرامید توقعات ہیں۔ پورا ملک ان کی اگلی کارکردگی کا بے صبری سے انتظار کر رہا ہے تاکہ وہ مزید فتوحات سمیٹیں۔
پاکستان میں خواتین کے اسکواش کے کھیل کو فروغ دینے کے لیے ایسی کامیابیاں انتہائی اہمیت کی حامل ہیں جو نئی نسل کو اس کھیل کی طرف راغب کرتی ہیں۔ ماہ نور علی کی یہ شاندار فتح آنے والے دنوں میں پاکستانی اسکواش کے روشن مستقبل کی نوید ثابت ہوگی۔





اپنی رائے دیں