لندن میں واقع ایون فیلڈ اپارٹمنٹس کے باہر سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نواز شریف کی گاڑی کو نشانہ بنانے کا واقعہ پیش آیا ہے۔ نامعلوم نقاب پوش افراد نے گاڑی کے شیشے اور سائیڈ ویو مررز توڑ دیے۔
اطلاعات کے مطابق یہ واقعہ ہفتے کی شام پیش آیا۔ نقاب پوش ہونے کے باعث ملزمان کی فوری شناخت ممکن نہیں ہو سکی، تاہم مقامی پولیس نے واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج اپنی تحویل میں لے لی ہے اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ نواز شریف کی گاڑیوں کو نشانہ بنانے کا یہ تیسرا واقعہ ہے۔ اس سے قبل بھی ایون فیلڈ کے باہر اس طرح کی توڑ پھوڑ کے واقعات پیش آ چکے ہیں، جس پر سیکیورٹی کے حوالے سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
واقعے کے بعد گاڑی کی مرمت کروا دی گئی ہے اور نواز شریف نے اتوار کے روز اسی گاڑی میں سفر بھی کیا۔ ایون فیلڈ آمد پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے واقعے پر کسی قسم کی تشویش کا اظہار کرنے کے بجائے دیگر امور پر بات کی۔
نواز شریف نے پشاور میں اسکول کی چھت گرنے کے المناک واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے واقعات انتہائی تکلیف دہ ہیں اور ان پر پوری قوم کو صدمہ پہنچا ہے۔
نجی اسکولوں کی حالت زار سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں نواز شریف نے بتایا کہ پنجاب میں اس معاملے پر وزیراعلیٰ مریم نواز پہلے ہی کام کر رہی ہیں اور بہتری کے لیے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔
ملک میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشت گردی کے مسئلے کی سنگینی کو بخوبی سمجھتا ہے۔ حکومت اور ادارے اس صورتحال کا مکمل نوٹس لے رہے ہیں۔
اپنی صحت سے متعلق سوال پر نواز شریف نے کہا کہ اللہ کا شکر ہے کہ اب ان کی طبیعت بہتر ہے۔ اس موقع پر ان کے معالج ڈاکٹر عدنان بھی ان کے ہمراہ موجود تھے جو مسلسل ان کی صحت کی نگرانی کر رہے ہیں۔
لندن پولیس کی جانب سے واقعے کی تحقیقات جاری ہیں تاکہ ملوث افراد کا سراغ لگایا جا سکے۔ تاحال کسی گروپ یا فرد نے اس کارروائی کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے اور نہ ہی کوئی گرفتاری عمل میں آئی ہے۔
واقعے کے بعد ایون فیلڈ کے باہر سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے مقامی رہنماؤں نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے برطانوی حکام سے ملزمان کی جلد گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔
واضح رہے کہ نواز شریف طویل عرصے سے لندن میں مقیم ہیں اور وہاں ان کی رہائش گاہ کے باہر ماضی میں بھی سیاسی مخالفین کی جانب سے احتجاج اور ہنگامہ آرائی کے واقعات ہوتے رہے ہیں۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ سی سی ٹی وی ویڈیوز کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔ فوٹیج میں دو افراد کو گاڑی کے قریب آتے اور توڑ پھوڑ کرتے ہوئے واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
واقعے کے باوجود نواز شریف کے معمولات متاثر نہیں ہوئے اور وہ اپنی مصروفیات جاری رکھے ہوئے ہیں۔ لیگی کارکنوں کی جانب سے اس واقعے کو سیاسی انتقام کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔





اپنی رائے دیں