مواد پر جائیں
اتوار، 11 اکتوبر 2026 30 ربیع الثانی 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: صبح 8:58
بریکنگ
اسلام آباد: نجی یونیورسٹی کی طالبہ کی موت کا معاملہ، ملزم گرفتار
تعلیم

امریکا میں مصنوعی ذہانت کے ذریعے نقل کا رجحان تشویشناک حد تک بڑھ گیا

ایک نئی تحقیق کے مطابق 95 فیصد طلبہ اپنے تعلیمی اسائنمنٹس مکمل کرنے کے لیے اے آئی چیٹ بوٹس کا سہارا لینے لگے ہیں۔

امریکا میں مصنوعی ذہانت کے ذریعے نقل کا رجحان تشویشناک حد تک بڑھ گیا

امریکا کے تعلیمی اداروں میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے بڑھتے ہوئے استعمال نے نقل کے ایک نئے اور سنگین بحران کو جنم دیا ہے، جس سے اساتذہ اور تعلیمی ماہرین شدید تشویش میں مبتلا ہیں۔

حال ہی میں سامنے آنے والی ایک تحقیق کے مطابق، امریکا میں تقریباً 95 فیصد طلبہ اپنے تعلیمی اسائنمنٹس اور تحریری کام مکمل کرنے کے لیے آرٹیفیشل انٹیلی جنس پر مبنی چیٹ بوٹس کا استعمال کر رہے ہیں۔

اس رجحان کے باعث تعلیمی عمل میں شفافیت پر سوالات اٹھ رہے ہیں، کیونکہ طلبہ اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے بجائے ٹیکنالوجی کے ذریعے شارٹ کٹ اختیار کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔

ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ اس صورتحال سے طلبہ میں سیکھنے کے عمل میں کمی آ رہی ہے اور وہ حقیقی علم حاصل کرنے کے بجائے صرف 'سیکھنے کی خوش فہمی' میں مبتلا ہو رہے ہیں۔

تعلیمی اداروں کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ نئے 'ہیومنائزنگ' اے آئی پروگرامز اب ایسی تحریریں تیار کر رہے ہیں جو انتہائی مستند اور فطری معلوم ہوتی ہیں، جنہیں پکڑنا مشکل ہے۔

تحقیق کے مطابق، اساتذہ کی جانب سے استعمال کیے جانے والے ڈیٹیکشن سافٹ ویئرز اب ان جدید ٹولز کے سامنے بے اثر ہو چکے ہیں، جس سے 'ڈیٹیکٹرز بمقابلہ ایویڈرز' کی یہ جنگ اساتذہ ہارتے دکھائی دے رہے ہیں۔

اساتذہ کا ماننا ہے کہ اگر طلبہ نے اپنی تعلیمی ذمہ داریاں خود پوری نہ کیں تو ان کی تنقیدی سوچ اور تجزیاتی صلاحیتیں بری طرح متاثر ہوں گی، جو مستقبل کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔

تعلیمی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس رجحان کو بروقت نہ روکا گیا تو تعلیمی معیار میں نمایاں گراوٹ آ سکتی ہے، جس سے ڈگریوں کی ساکھ اور طلبہ کی قابلیت پر سوالات اٹھیں گے۔

امریکا بھر کی یونیورسٹیاں اور کالجز اب اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کر رہے ہیں تاکہ مصنوعی ذہانت کے غلط استعمال کو محدود کیا جا سکے۔

کچھ تعلیمی ادارے اب اسائنمنٹس کے بجائے کلاس روم میں تحریری امتحانات اور زبانی پریزنٹیشنز پر زیادہ زور دے رہے ہیں تاکہ طلبہ کی حقیقی صلاحیتوں کا اندازہ لگایا جا سکے۔

اس کے علاوہ، اساتذہ کو اے آئی کے استعمال کے حوالے سے خصوصی تربیت دینے کی تجاویز بھی زیر غور ہیں تاکہ وہ جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر طلبہ کی نگرانی کر سکیں۔

والدین اور سماجی حلقوں کی جانب سے بھی اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے، کیونکہ یہ معاملہ صرف نقل تک محدود نہیں بلکہ نسلِ نو کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے۔

ٹیکنالوجی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اے آئی ایک طاقتور ٹول ہے، لیکن اسے تعلیمی معاونت کے لیے استعمال ہونا چاہیے نہ کہ تعلیمی عمل کو مکمل طور پر اس کے سپرد کر دیا جائے۔

آنے والے دنوں میں تعلیمی اداروں کو مصنوعی ذہانت کے اخلاقی استعمال کے لیے سخت ضابطہ اخلاق مرتب کرنے کی ضرورت ہوگی تاکہ تعلیمی دیانت داری کو برقرار رکھا جا سکے۔

یہ خبر ڈیلی پاکستان آن لائن کے نیوز روم نے اصل رپورٹنگ کی بنیاد پر اپنے الفاظ میں لکھی ہے۔

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیلوں کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں