مواد پر جائیں
اتوار، 11 اکتوبر 2026 30 ربیع الثانی 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: صبح 8:17
بریکنگ
پنجاب میں بارشوں اور تیز ہواؤں کا سلسلہ، پی ڈی ایم اے کی جانب سے الرٹ جاری
دلچسپ و عجیب

بلوٹوتھ ٹیکنالوجی کا نام ایک ہزار سال پرانے وائیکنگ بادشاہ سے منسوب

جدید دور کی وائرلیس ٹیکنالوجی کا نام ڈنمارک کے قدیم بادشاہ ہیرالڈ بلوٹوتھ کی یادگاروں اور تاریخ سے متاثر ہو کر رکھا گیا ہے۔

بلوٹوتھ ٹیکنالوجی کا نام ایک ہزار سال پرانے وائیکنگ بادشاہ سے منسوب

آج کے جدید دور میں جب ہم اپنے اسمارٹ فونز، لیپ ٹاپس اور ہیڈ فونز کو بغیر کسی تار کے آپس میں منسلک کرتے ہیں تو 'بلوٹوتھ' کا نام ہمارے سامنے آتا ہے۔ بہت کم لوگ اس حقیقت سے واقف ہیں کہ یہ جدید ٹیکنالوجی ایک ایسے وائیکنگ بادشاہ کے نام سے منسوب ہے جو ایک ہزار سال سے بھی زائد عرصہ قبل دنیا سے رخصت ہو چکے تھے۔

اس قدیم بادشاہ کا نام ہیرالڈ گورمسن تھا، جنہیں تاریخ میں 'بلوٹوتھ' کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔ قدیم نورس زبان میں اس لقب کو 'بلاتون' (Blátǫnn) کہا جاتا تھا، جس کے بارے میں ماہرین کا خیال ہے کہ یہ ان کے کسی نیلے یا گلے سڑے ہوئے دانت کی طرف اشارہ ہو سکتا ہے۔ ان کی حکمرانی دسویں صدی عیسوی میں ڈنمارک پر محیط تھی۔

ہیرالڈ بلوٹوتھ کی یادگاریں آج بھی ڈنمارک کے قصبے جیلنگ میں موجود ہیں، جو کوپن ہیگن سے تقریباً 250 کلومیٹر (155 میل) مغرب میں واقع ہے۔ جیلنگ میں نصب دو قدیم پتھر اس بادشاہ کے دورِ حکومت کی کہانی سناتے ہیں، جو آج بھی تاریخ دانوں کے لیے تحقیق کا مرکز ہیں۔

ان پتھروں میں سے بڑے پتھر پر کندہ تحریر کے مطابق ہیرالڈ نے پورے ڈنمارک اور ناروے کو فتح کیا اور ڈنمارک کے لوگوں کو عیسائی بنایا۔ اس دور میں شمالی یورپ چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں تقسیم تھا، تاہم ہیرالڈ نے مسیحیت کو اپنا کر اور ایک متحد ریاست قائم کر کے خطے کی تاریخ بدل دی تھی۔

جیلنگ کو ڈنمارک کی 'جائے پیدائش' بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہاں موجود پتھروں پر پہلی بار ملک کا نام تحریری شکل میں درج کیا گیا تھا۔ ماہرین کے مطابق ہیرالڈ کا دور ایک پرانے نظام سے نئے اور منظم سیاسی نظام کی طرف منتقلی کا اہم سنگ میل ثابت ہوا تھا۔

اس مقام پر موجود دو تدفینی ٹیلے، ایک قدیم چرچ اور دیگر آثار اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ جیلنگ کبھی اقتدار کا مرکز تھا۔ 1994 میں یونیسکو نے جیلنگ کے ان تاریخی آثار، رون پتھروں اور چرچ کو عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کیا تھا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ بلوٹوتھ ٹیکنالوجی کا مشہور لوگو بھی اسی بادشاہ کے نام سے جڑا ہے۔ یہ نشان قدیم نورس رسم الخط کے حروف 'ایچ' اور 'بی' کو ملا کر تشکیل دیا گیا ہے، جو ہیرالڈ بلوٹوتھ کے نام کی نمائندگی کرتے ہیں اور دنیا بھر میں پہچانے جاتے ہیں۔

جب 2023 میں اس ٹیکنالوجی کی 25 ویں سالگرہ منائی گئی تو اس کے بانیوں نے جیلنگ کا دورہ کیا اور ہیرالڈ کا نام اجازت کے بغیر استعمال کرنے پر خوشگوار انداز میں معذرت کی۔ میوزیم انتظامیہ نے یہ معذرت قبول کرتے ہوئے انہیں اگلے ایک ہزار برس تک یہ نام استعمال کرنے کی اجازت دے دی۔

ایڈم باک، جو کونگیرنس جیلنگ میوزیم کے نگران ہیں، کا کہنا ہے کہ ہیرالڈ اپنی کامیابیوں پر بہت فخر محسوس کرتے تھے۔ ان کا ماننا ہے کہ اگر آج ہیرالڈ زندہ ہوتے تو یہ جان کر بے حد خوش ہوتے کہ دنیا بھر میں اربوں لوگ روزانہ ان کا نام استعمال کر رہے ہیں۔

آج کا جیلنگ قصبہ اپنی قدیم تاریخ اور جدید ٹیکنالوجی کے اس انوکھے ملاپ کی وجہ سے دنیا بھر کے سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہے۔ یہاں موجود انٹرایکٹو نمائشیں وائیکنگ عقائد سے عیسائیت تک کے سفر کو نہایت خوبصورتی سے اجاگر کرتی ہیں۔

ہیرالڈ کے والد گورم نے بھی جیلنگ میں اپنی اہلیہ تھیرا کی یاد میں ایک پتھر نصب کروایا تھا، جسے ڈنمارک کا پیدائشی سرٹیفکیٹ سمجھا جاتا ہے۔ یہ مقامات صرف جنگجوؤں کی کہانیاں نہیں بلکہ ایک قوم کے ارتقاء اور سیاسی تبدیلیوں کی عکاسی کرتے ہیں۔

بلوٹوتھ ٹیکنالوجی کی کامیابی نے نہ صرف مواصلاتی نظام کو آسان بنایا بلکہ تاریخ کے ایک گمشدہ باب کو بھی دوبارہ زندہ کر دیا ہے۔ آج یہ نام صرف ایک تکنیکی اصطلاح نہیں بلکہ ایک قدیم بادشاہ کی میراث کا حصہ بن چکا ہے۔

اس طرح ایک ہزار سال پرانی تاریخ اور جدید سائنسی ایجادات کا یہ حسین امتزاج ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ماضی کے کردار کس طرح آج کی جدید دنیا پر اپنے اثرات چھوڑ سکتے ہیں۔ جیلنگ کے یہ پتھر آج بھی تاریخ کے اس راز کو محفوظ رکھے ہوئے ہیں۔

یہ خبر ڈیلی پاکستان آن لائن کے نیوز روم نے اصل رپورٹنگ کی بنیاد پر اپنے الفاظ میں لکھی ہے۔

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیلوں کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں