اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ملک سے چینی کی برآمد کے حوالے سے ایک نیا سرکلر جاری کیا ہے جس میں برآمد کنندگان کے لیے واضح ہدایات اور ضوابط وضع کیے گئے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد چینی کی برآمد کے عمل کو شفاف بنانا اور ملکی معاشی مفادات کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔
نئے جاری کردہ سرکلر کے مطابق مجموعی طور پر دو لاکھ ٹن چینی برآمد کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ اس ضمن میں پنجاب اور سندھ کے لیے مختص کردہ کوٹے کی باقاعدہ منظوری دے دی گئی ہے، جبکہ خیبر پختونخوا کے کوٹے کی منظوری کا عمل تاحال زیر غور ہے۔
مرکزی بینک کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ چینی کی برآمد صرف ایڈوانس پیمنٹ یا لیٹر آف کریڈٹ (ایل سی) کے ذریعے ہی ممکن ہوگی۔ اس کے علاوہ برآمدی کھیپ کو صرف بحری جہازوں کے ذریعے بیرون ملک بھیجنے کی پابندی عائد کی گئی ہے۔
سرکلر میں یہ بھی درج ہے کہ چینی کی برآمد کے لیے کوئی حتمی تاریخ مقرر نہیں کی گئی ہے، جس سے برآمد کنندگان کو اپنی سہولت کے مطابق عمل مکمل کرنے کا موقع ملے گا۔ تاہم، تمام متعلقہ بینکوں کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ ہر ہفتے برآمدات کی تفصیلی رپورٹ اسٹیٹ بینک کو جمع کرائیں۔
حکومت اور اسٹیٹ بینک کی جانب سے یہ اقدامات ملکی ذخائر اور مقامی مارکیٹ میں چینی کی دستیابی کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے گئے ہیں۔ اس پالیسی کا بنیادی مقصد برآمدات کے عمل کو منظم کرنا ہے تاکہ قومی معیشت پر اس کے مثبت اثرات مرتب ہوں۔
ماہرین کے مطابق چینی کی برآمد کے لیے سخت ضوابط کا نفاذ اس بات کو یقینی بنائے گا کہ برآمدی عمل میں شفافیت برقرار رہے۔ بینکوں کو دی گئی ہدایات سے برآمدات کے اعداد و شمار کی نگرانی میں بھی مدد ملے گی، جس سے حکومتی پالیسیوں پر عمل درآمد آسان ہوگا۔
اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری کردہ یہ ہدایات فوری طور پر نافذ العمل ہوں گی۔ بینکوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے متعلقہ برآمد کنندگان کو ان ضوابط سے آگاہ کریں تاکہ برآمدی عمل میں کسی بھی قسم کی تکنیکی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
خیبر پختونخوا کے کوٹے کے حوالے سے حکام کا کہنا ہے کہ اس پر کام جاری ہے اور جلد ہی اس کی منظوری کا عمل بھی مکمل کر لیا جائے گا۔ اس کے بعد صوبے کے برآمد کنندگان بھی اپنی کھیپ بیرون ملک بھیجنے کے اہل ہو جائیں گے۔
چینی کی برآمد کے اس عمل سے نہ صرف زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے کی توقع ہے بلکہ بین الاقوامی منڈی میں پاکستانی مصنوعات کی رسائی بھی بہتر ہوگی۔ حکومت اس بات کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے کہ برآمدات سے مقامی مارکیٹ میں قلت پیدا نہ ہو۔
اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری کردہ یہ سرکلر ملکی برآمدی پالیسی کا ایک اہم حصہ ہے، جس کا مقصد معاشی استحکام اور برآمد کنندگان کو سہولت فراہم کرنا ہے۔ تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ان ہدایات پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنائیں۔
یاد رہے کہ اس سے قبل بھی حکومت چینی کی برآمد کے حوالے سے مختلف اوقات میں پالیسیاں تشکیل دیتی رہی ہے۔ موجودہ سرکلر کا مقصد ماضی کے تجربات کی روشنی میں برآمدی طریقہ کار کو مزید بہتر اور محفوظ بنانا ہے۔
ملکی معیشت کی بہتری کے لیے ایسی پالیسیاں انتہائی اہمیت کی حامل ہیں جن سے برآمدات میں اضافہ ہو سکے۔ اسٹیٹ بینک کا یہ اقدام اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جس سے ملکی برآمدی شعبے کو مستحکم کرنے میں مدد ملے گی۔
آخر میں، تمام برآمد کنندگان کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری کردہ تمام شرائط کو بغور پڑھیں اور ان پر مکمل عمل درآمد کو یقینی بنائیں تاکہ کسی بھی قانونی پیچیدگی سے بچا جا سکے۔





اپنی رائے دیں