مواد پر جائیں
بدھ، 14 اکتوبر 2026 3 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: دوپہر 2:37
بریکنگ
اسلام آباد میں تمام شیشہ کیفے بند کرنے کا فیصلہ، ہائیکورٹ کی سخت ہدایتوفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی واشک میں سکیورٹی فورسز کے کامیاب آپریشن پر خراج تحسینڈیرہ اسماعیل خان میں امن و امان کے پیش نظر دفعہ 144 نافذڈیرہ اسماعیل خان میں دفعہ 144 نافذ، جلسے جلوسوں اور ڈبل سواری پر پابندی عائدڈیرہ اسماعیل خان: والی بال میچ سے واپسی پر فائرنگ، 5 افراد جاں بحقسعودی عرب: ریاض اور جنوبی علاقوں میں حوثیوں کے 3 میزائل اور 2 ڈرون تباہڈیرہ اسماعیل خان میں دفعہ 144 کا نفاذ، ڈبل سواری اور اسلحہ کی نمائش پر پابندیملتان کے قریب رحمان بابا ایکسپریس حادثہ: ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ جاریبحیرہ اسود میں ڈرون حملہ، مال بردار جہاز ڈوبنے سے 11 افراد لاپتاسوات: سیدو شریف ہسپتال میں 6 افغان ڈاکٹرز کی ہاؤس جاب معطل، پاکستان چھوڑنے کا حکمسعودی عرب: حوثی ملیشیا کے میزائل حملے ناکام، ریاض اور ظہران میں نقصاناتاسلام آباد میں خودکشی کیس کا ملزم مانسہرہ میں بھی فراڈ کا اشتہاری نکلاپنجاب: آئی جی جیل خانہ جات کو رشوت دینے کی کوشش کرنے والا سپرنٹنڈنٹ گرفتارکیتھولک مسیحیوں کے مذہبی پیشوا پوپ لیو پھیپھڑوں کے کینسر میں مبتلامقامی اور عالمی صرافہ مارکیٹس میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں نمایاں کمیبالی ووڈ اداکار سلمان خان نے والد بننے کی خواہش ظاہر کر دیمیر رضا کیس: جوڈیشل کمیشن کی انکوائری رپورٹ تیار، کل سندھ حکومت کو پیش ہوگیریاست مخالف مواد کا مقدمہ؛ اقرار الحسن کے جسمانی ریمانڈ کا فیصلہ چیلنجموبائل فون پر صاف آواز اور بہتر انٹرنیٹ کا آسان طریقہچلاس اور دیامر کے بالائی علاقوں میں برفباری، بابوسر ناران شاہراہ ٹریفک کیلئے بند
پاکستان

ریاست مخالف مواد کا مقدمہ؛ اقرار الحسن کے جسمانی ریمانڈ کا فیصلہ چیلنج

سیشن عدالت شرقی میں اقرار الحسن کے جسمانی ریمانڈ کے خلاف اپیل دائر کی گئی ہے جس پر عدالت نے تفتیشی افسر کو نوٹس جاری کر دیا۔

ریاست مخالف مواد کا مقدمہ؛ اقرار الحسن کے جسمانی ریمانڈ کا فیصلہ چیلنج

کراچی کی سیشن عدالت شرقی میں عوام راج پارٹی کے سربراہ اور معروف اینکر پرسن اقرار الحسن کے خلاف درج ریاست مخالف مواد کے مقدمے میں ان کے جسمانی ریمانڈ کے عدالتی حکم کو باضابطہ طور پر چیلنج کر دیا گیا ہے۔ یہ قانونی کارروائی ان کے دفاعی وکیل کی جانب سے عمل میں لائی گئی ہے جنہوں نے مجسٹریٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرتے ہوئے عدالت سے نظرثانی کی استدعا کی ہے۔

دائر کردہ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ نچلی عدالت کے مجسٹریٹ نے بغیر کسی ٹھوس اور غیر معمولی وجہ کے جسمانی ریمانڈ کی منظوری دی جو کہ ملک کے مروجہ قانونی تقاضوں کے برعکس ہے۔ وکیل صفائی کے مطابق فوجداری انصاف کے نظام میں جسمانی ریمانڈ کو ایک غیر معمولی اقدام سمجھا جاتا ہے جسے خاص حالات میں ہی استعمال کیا جانا چاہئے۔

وکیل میاں علی اشفاق نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اس مقدمے میں درکار تمام اہم ڈیجیٹل شواہد پہلے ہی تفتیشی اداروں کی مکمل تحویل میں آ چکے ہیں۔ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی یعنی این سی سی آئی اے کے پاس اس وقت اقرار الحسن کے موبائل فونز اور ایک عدد ٹیبلٹ محفوظ موجود ہیں۔

تفصیلات کے مطابق مجموعی طور پر چار موبائل فونز اور ایک ٹیبلٹ تفتیشی حکام کے قبضے میں ہیں جن کا فرانزک تجزیہ کیا جانا ابھی باقی ہے۔ وکیل کا کہنا تھا کہ جب متعلقہ الیکٹرانک آلات اور آلات تفتیشی ایجنسی کے پاس موجود ہیں تو مزید تفتیش کے لیے ملزم کی جسمانی تحویل کی قطعی کوئی ضرورت نہیں۔

درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ جدید تکنیکی دور میں فرانزک تجزیہ کرنے اور سوشل میڈیا کمپنیوں سے مطلوبہ معلومات یا ڈیٹا حاصل کرنے کے لیے ملزم کو جیل یا پولیس کی تحویل میں رکھنا لازم نہیں۔ تفتیش کار بغیر جسمانی ریمانڈ کے بھی اپنی قانونی کارروائی اور تفتیش کو بخوبی آگے بڑھا سکتے ہیں۔

دفاعی ٹیم کی جانب سے عدالت سے باضابطہ استدعا کی گئی ہے کہ مجسٹریٹ کی جانب سے دیا گیا جسمانی ریمانڈ کا حکم فوری طور پر کالعدم قرار دیا جائے۔ ساتھ ہی یہ بھی درخواست کی گئی ہے کہ این سی سی آئی اے کو ہدایت دی جائے کہ وہ ملزم کی غیر موجودگی یا بغیر جسمانی ریمانڈ کے اپنی تفتیش مکمل کرے۔

اپیل میں یہ اہم نکتہ بھی اٹھایا گیا ہے کہ ایک صحافی کو محض سوشل میڈیا پر کی گئی کسی پوسٹ کی بنیاد پر جسمانی ریمانڈ پر دینا معاشرے میں آزادی اظہار رائے کے بنیادی حق پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔ اس قسم کے اقدامات سے میڈیا اور اظہار رائے کی آزادی کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہوتا ہے۔

سیشن عدالت نے اس اپیل پر سماعت کرتے ہوئے متعلقہ تفتیشی افسر کو نوٹس جاری کر دیا ہے اور انہیں اگلی سماعت پر عدالت میں طلب کر لیا ہے۔ عدالت اس معاملے پر فریقین کے مزید دلائل سننے کے بعد آئندہ کوئی مناسب فیصلہ صادر کرے گی جس پر سب کی نظریں لگی ہوئی ہیں۔

یاد رہے کہ اس مقدمے کا تعلق سوشل میڈیا پر مبینہ طور پر شیئر کیے جانے والے مواد سے ہے جس پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے سخت کارروائی عمل میں لائی گئی۔ اس حوالے سے مختلف قانونی فورمز اور حلقوں میں بحث و مباحثے کا سلسلہ برابر جاری ہے۔

ملک بھر میں صحافتی تنظیمیں اور ممتاز قانونی ماہرین اس نوعیت کے مقدمات اور ریمانڈ کے احکامات پر اپنے گہرے تحفظات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ قانون کے تقاضے ہر صورت پورے کیے جانے چاہئیں لیکن ساتھ ہی شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ بھی یقینی بنایا جانا چاہئے۔

عدالتی کارروائی کے دوران آئندہ دنوں میں مزید اہم پیشرفت متوقع ہے جہاں تفتیشی افسر کی جانب سے عدالت میں اپنی رپورٹ پیش کی جائے گی۔ اس موقع پر عدالت فیصلہ کرے گی کہ آیا جسمانی ریمانڈ کا حکم برقرار رکھا جاتا ہے یا اسے ختم کیا جاتا ہے۔

شہر کراچی میں اس قانونی چارہ جوئی کو ذرائع ابلاغ اور سیاسی حلقوں میں خاصی اہمیت دی جا رہی ہے کیونکہ اس کا تعلق آزادی صحافت اور سائبر کرائم کے قوانین سے ہے۔ تمام متعلقہ فریقین کی نظریں اب سیشن عدالت کے آئندہ فیصلے پر مکمل طور پر مرکوز ہیں۔

مقدمے کی آئندہ سماعت کے دوران عدالت کے روبرو دونوں جانب سے مزید قانونی نکات پر بحث کی توقع کی جا رہی ہے۔ عدالت کے اس فیصلے سے پاکستان میں سائبر کرائم کے تحت صحافیوں اور سیاسی شخصیات کے خلاف کارروائیوں کے حوالے سے ایک نیا قانونی تناظر سامنے آنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

پاکستان کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیلوں کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں