مواد پر جائیں
بدھ، 14 اکتوبر 2026 3 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: دوپہر 1:38
بریکنگ
اسلام آباد میں تمام شیشہ کیفے بند کرنے کا فیصلہ، ہائیکورٹ کی سخت ہدایتوفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی واشک میں سکیورٹی فورسز کے کامیاب آپریشن پر خراج تحسینڈیرہ اسماعیل خان میں امن و امان کے پیش نظر دفعہ 144 نافذڈیرہ اسماعیل خان میں دفعہ 144 نافذ، جلسے جلوسوں اور ڈبل سواری پر پابندی عائدڈیرہ اسماعیل خان: والی بال میچ سے واپسی پر فائرنگ، 5 افراد جاں بحقسعودی عرب: ریاض اور جنوبی علاقوں میں حوثیوں کے 3 میزائل اور 2 ڈرون تباہڈیرہ اسماعیل خان میں دفعہ 144 کا نفاذ، ڈبل سواری اور اسلحہ کی نمائش پر پابندیملتان کے قریب رحمان بابا ایکسپریس حادثہ: ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ جاریبحیرہ اسود میں ڈرون حملہ، مال بردار جہاز ڈوبنے سے 11 افراد لاپتاسوات: سیدو شریف ہسپتال میں 6 افغان ڈاکٹرز کی ہاؤس جاب معطل، پاکستان چھوڑنے کا حکمسعودی عرب: حوثی ملیشیا کے میزائل حملے ناکام، ریاض اور ظہران میں نقصاناتاسلام آباد میں خودکشی کیس کا ملزم مانسہرہ میں بھی فراڈ کا اشتہاری نکلاپنجاب: آئی جی جیل خانہ جات کو رشوت دینے کی کوشش کرنے والا سپرنٹنڈنٹ گرفتارکیتھولک مسیحیوں کے مذہبی پیشوا پوپ لیو پھیپھڑوں کے کینسر میں مبتلاپاک فوج کا ہائپرسونک بیلسٹک میزائل ‘فتح ٹو (ای آر)’ کا کامیاب تجربہریاست مخالف مواد کا مقدمہ؛ اقرار الحسن کے جسمانی ریمانڈ کا فیصلہ چیلنجموبাইল فون پر صاف آواز اور بہتر انٹرنیٹ کا آسان طریقہچلاس اور دیامر کے بالائی علاقوں میں برفباری، بابوسر ناران شاہراہ ٹریفک کیلئے بندملک کے بالائی علاقوں میں بارش کا سلسلہ جاری، موسم میں تبدیلی کا امکاناسٹیٹ بینک نے چینی کی برآمد کے لیے نئی ہدایات جاری کر دیں
صحت

سوات: سیدو شریف اسپتال میں 6 افغان ڈاکٹروں کو کام سے روک دیا گیا

خیبر پختونخوا کے محکمہ صحت نے جعلی رجسٹریشن اور غیر قانونی تقرریوں کے خلاف کریک ڈاؤن کرتے ہوئے مجموعی طور پر 30 ڈاکٹروں کو ملازمت سے فارغ کر دیا ہے۔

سوات: سیدو شریف اسپتال میں 6 افغان ڈاکٹروں کو کام سے روک دیا گیا

ضلع سوات کے مرکزی سیدو شریف اسپتال میں تعینات 6 افغان ڈاکٹروں کو ان کے فرائض کی انجام دہی سے روک دیا گیا ہے۔ اسپتال ذرائع کے مطابق یہ ڈاکٹرز ہاؤس جاب کے مراحل سے گزر رہے تھے جنہیں حکومتی احکامات کی روشنی میں فوری طور پر کام سے علیحدہ کر دیا گیا ہے۔

اسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ اقدام صوبائی حکومت کی جانب سے جاری کردہ ہدایات پر عمل درآمد کے سلسلے میں کیا گیا ہے۔ حکومتی احکامات ملنے کے بعد انتظامیہ نے ان ڈاکٹروں کو مزید کام کرنے کی اجازت نہیں دی اور انہیں فوری طور پر فارغ کر دیا ہے۔

خیبر پختونخوا کے محکمہ صحت نے اس کارروائی کو وسیع تر انتظامی اصلاحات کا حصہ قرار دیا ہے۔ محکمہ صحت کی جانب سے جاری کردہ ایک اعلامیے کے مطابق صوبے بھر کے مختلف طبی مراکز میں تعینات 30 ڈاکٹروں کو ملازمت سے برطرف کر دیا گیا ہے۔

برطرف کیے گئے ڈاکٹروں کے خلاف کارروائی کی بنیادی وجہ پی ایم ڈی سی کی جعلی رجسٹریشن اور غیر قانونی تقرریوں کا انکشاف ہے۔ محکمہ صحت کے حکام کے مطابق ان ڈاکٹروں کی اسناد اور تقرری کے عمل میں بے ضابطگیاں پائی گئی تھیں جس کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا۔

سیدو شریف اسپتال سوات کا ایک اہم طبی مرکز ہے جہاں دور دراز علاقوں سے مریض علاج کی غرض سے آتے ہیں۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اسپتال کے امور کو شفاف بنانے اور طبی معیارات کو برقرار رکھنے کے لیے ان اقدامات پر سختی سے عمل کیا جا رہا ہے۔

محکمہ صحت خیبر پختونخوا نے صوبے کے تمام سرکاری اسپتالوں میں تعینات عملے کی اسناد کی جانچ پڑتال کا عمل تیز کر دیا ہے۔ اس عمل کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ صرف اہل اور قانونی طور پر رجسٹرڈ ڈاکٹر ہی مریضوں کا علاج کر سکیں۔

حکومتی ذرائع کے مطابق جعلی دستاویزات پر ملازمت حاصل کرنے والے افراد کے خلاف مزید تحقیقات بھی جاری ہیں۔ محکمہ صحت اس بات کو یقینی بنا رہا ہے کہ صحت کے شعبے میں کسی بھی قسم کی غیر قانونی سرگرمی کو برداشت نہ کیا جائے۔

اس کارروائی کے بعد سیدو شریف اسپتال میں طبی خدمات کی فراہمی کو معمول پر رکھنے کے لیے متبادل انتظامات پر غور کیا جا رہا ہے۔ اسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مریضوں کو علاج معالجے میں کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔

خیبر پختونخوا حکومت نے صحت کے شعبے میں شفافیت لانے کے لیے پہلے بھی کئی اہم اقدامات کیے ہیں۔ محکمہ صحت کا موقف ہے کہ طبی شعبے میں میرٹ کی بالادستی اور قوانین کی پاسداری ہی عوام کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کا واحد راستہ ہے۔

سوات کے عوامی حلقوں نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ اس سے اسپتالوں میں طبی معیار بہتر ہوگا۔ شہریوں کا مطالبہ ہے کہ صحت کے مراکز میں تعیناتیوں کے عمل کو مزید شفاف بنایا جائے تاکہ مریضوں کو معیاری علاج مل سکے۔

محکمہ صحت کے حکام نے واضح کیا ہے کہ جعلی رجسٹریشن کے حامل افراد کے خلاف قانونی کارروائی کا دائرہ کار مزید بڑھایا جا سکتا ہے۔ اس سلسلے میں پی ایم ڈی سی اور دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ بھی رابطہ قائم رکھا جا رہا ہے۔

صوبائی حکومت کی جانب سے جاری کردہ ہدایات کے مطابق تمام سرکاری اسپتالوں کے سربراہان کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ اپنے زیر انتظام عملے کی اسناد کی تصدیق یقینی بنائیں۔ کسی بھی بے ضابطگی کی صورت میں فوری رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

سیدو شریف اسپتال میں پیش آنے والا یہ واقعہ صوبے بھر میں جاری احتسابی عمل کا حصہ ہے۔ محکمہ صحت کا کہنا ہے کہ مریضوں کی جانوں کے تحفظ کے لیے کسی بھی قسم کی غفلت یا غیر قانونی عمل کو نظر انداز نہیں کیا جائے گا۔

صحت کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیلوں کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں