پاکستان کے بالائی علاقوں میں موسم کا مزاج بدل گیا ہے جہاں وقفے وقفے سے بارشوں کا سلسلہ جاری ہے۔ محکمہ موسمیات کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق کشمیر، خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان کے مختلف مقامات پر بادل برسنے سے موسم خوشگوار ہو گیا ہے۔
موسمیاتی تجزیہ کاروں کے مطابق کشمیر کے بالائی حصوں میں بارش کے ساتھ ساتھ ژالہ باری کا بھی امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ چند مقامات پر موسلا دھار بارش سے مقامی ندی نالوں میں پانی کی سطح بلند ہونے کا خدشہ بھی موجود ہے جس کے پیش نظر احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران ریکارڈ کی گئی بارشوں کے اعداد و شمار کے مطابق کشمیر کے علاقے گڑھی دوپٹہ میں سب سے زیادہ 24 ملی میٹر بارش ہوئی۔ مظفرآباد شہر میں 22 ملی میٹر جبکہ مظفرآباد ایئرپورٹ پر 15 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔
خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں بھی بادل جم کر برسے۔ بالاکوٹ میں 15 ملی میٹر، پارہ چنار میں 14 اور تخت بھائی میں 13 ملی میٹر بارش ہوئی۔ پشاور شہر اور ایئرپورٹ کے علاقوں میں بھی ہلکی سے درمیانی بارش کا سلسلہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
صوبہ خیبر پختونخوا کے دیگر علاقوں میں دروش اور کاکول میں 11 ملی میٹر، پٹن میں 10، دیر بالا اور مالم جبہ میں 9 ملی میٹر بارش ہوئی۔ اسی طرح دیر زیریں میں 8، کالام میں 7 جبکہ سیدو شریف اور چترال میں 6 ملی میٹر بارش ہوئی ہے۔
گلگت بلتستان کے بالائی علاقوں میں بھی بارش کا سلسلہ جاری رہا۔ سکردو میں 9 ملی میٹر، استور میں 8 ملی میٹر اور گلگت میں 5 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ گوپس، بنجی اور چلاس میں بھی ہلکی بارش کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
ملک کے دیگر حصوں خصوصاً سندھ اور بلوچستان میں موسم کی صورتحال بالکل مختلف ہے۔ محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ ان صوبوں کے بیشتر اضلاع میں موسم خشک رہے گا جبکہ دن کے اوقات میں گرمی کی شدت میں اضافے کا امکان ہے۔
بلوچستان کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صوبے کے بیشتر اضلاع میں موسم خشک رہے گا تاہم خضدار، ژوب، بارکھان اور موسیٰ خیل میں مطلع جزوی طور پر ابر آلود رہ سکتا ہے۔ ان علاقوں میں موسم میں تبدیلی کی توقع کم ہے۔
سندھ کے تمام بڑے شہروں اور دیہی علاقوں میں موسم خشک رہنے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔ میدانی علاقوں میں دن کے وقت درجہ حرارت بڑھنے سے گرمی کا احساس زیادہ ہوگا۔ شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ دھوپ میں نکلتے وقت احتیاط کریں۔
محکمہ موسمیات نے اپنی رپورٹ میں واضح کیا ہے کہ بالائی علاقوں میں بارش کا موجودہ سلسلہ مزید کچھ روز تک جاری رہ سکتا ہے۔ مقامی انتظامیہ کو کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے الرٹ رہنے کا کہا گیا ہے۔
موسم میں اس تبدیلی کے باعث بالائی علاقوں میں سیاحوں کی آمدورفت میں بھی اضافہ متوقع ہے۔ تاہم سیاحوں کو پہاڑی راستوں پر سفر کے دوران لینڈ سلائیڈنگ کے خدشات کے پیش نظر محتاط رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
کاشتکاروں کے لیے بھی یہ بارشیں زرعی اعتبار سے اہم سمجھی جا رہی ہیں۔ بالائی علاقوں میں گندم اور دیگر فصلوں کے لیے بارش کا پانی مفید ثابت ہوگا، جبکہ میدانی علاقوں میں خشک موسم فصلوں کی کٹائی کے عمل میں معاون رہے گا۔
مجموعی طور پر ملک بھر میں موسم کا دوہرا رخ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ایک طرف بالائی علاقوں میں بارشوں سے سردی کی لہر برقرار ہے تو دوسری طرف میدانی علاقوں میں گرمی کا زور بڑھ رہا ہے جو کہ موسم بہار کے اختتام کی نشانی ہے۔





اپنی رائے دیں