کراچی کے مختلف علاقوں میں پولیس نے مبینہ فائرنگ کے تبادلے کے بعد ایک ڈاکو کو ہلاک جبکہ پانچ کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا ہے۔ ان کارروائیوں کے دوران ملزمان کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ، موٹر سائیکلیں، موبائل فونز اور نقدی برآمد ہوئی ہے۔
فیروز آباد کے علاقے شہید ملت روڈ پر پولیس اور ڈاکوؤں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس کے نتیجے میں ایک ڈاکو ہلاک ہو گیا۔ ایس ایچ او عدیل افضال کے مطابق ہلاک ہونے والے ڈاکو کی شناخت یاسر عرف شعلہ کے نام سے ہوئی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ یاسر عرف شعلہ 12 جولائی کو بہادر آباد میں سیکیورٹی گارڈ اختر حسین کو ڈکیتی کے دوران مزاحمت پر قتل کرنے کی واردات میں ملوث تھا۔ اس واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی۔
ہلاک ہونے والے ملزم کے قبضے سے دو پستول، چھینے گئے موبائل فونز اور ایک موٹر سائیکل برآمد ہوئی ہے۔ پولیس نے لاش کو ضابطے کی کارروائی کے لیے جناح اسپتال منتقل کر دیا ہے جبکہ اس کے فرار ہونے والے ساتھی کی تلاش جاری ہے۔
دوسری جانب جمشید کوارٹرز کے علاقے کشمیر روڈ پر پولیس نے مشتبہ موٹر سائیکل سواروں کو رکنے کا اشارہ کیا تو ملزمان نے فائرنگ کر دی۔ جوابی کارروائی میں اصغر علی نامی ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار ہوا جبکہ اس کا ساتھی فرار ہو گیا۔
کلاکوٹ کے علاقے لیاری مل میں بھی پولیس اور ڈاکوؤں کے مابین مقابلہ ہوا جس میں 38 سالہ مسلم نامی ڈاکو زخمی حالت میں پکڑا گیا۔ ملزمان ایک گاڑی میں سوار تھے اور پولیس کو دیکھتے ہی فائرنگ شروع کر دی تھی۔
پولیس نے کلاکوٹ مقابلے کے دوران گرفتار ملزم کے قبضے سے اسلحہ اور ایک آلٹو کار برآمد کی ہے۔ زخمی ملزم کو طبی امداد کے لیے سول اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے اور پولیس اس کا سابقہ کرمنل ریکارڈ بھی چیک کر رہی ہے۔
منگھو پیر کے علاقے غازی گوٹھ میں بھی پولیس نے مبینہ مقابلے کے بعد دو ڈاکوؤں ناصر اور گلزار کو زخمی حالت میں گرفتار کیا۔ ان کے قبضے سے دو پستول، گولیاں، موبائل فونز، نقدی اور دو موٹر سائیکلیں برآمد کی گئی ہیں۔
سہراب گوٹھ پولیس نے بھی ایک کارروائی کے دوران عباس نامی ڈاکو کو زخمی حالت میں گرفتار کیا۔ اس کارروائی میں ملزم کا ایک ساتھی موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا جس کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
سہراب گوٹھ سے گرفتار ملزم کے قبضے سے ایک پستول، گولیاں، موبائل فون اور نقدی برآمد ہوئی ہے۔ زخمی ملزمان کو عباسی شہید اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ شہر میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے اس طرح کی کارروائیاں جاری رہیں گی۔ تمام گرفتار ملزمان سے تفتیش کی جا رہی ہے تاکہ ان کے دیگر ساتھیوں کا بھی سراغ لگایا جا سکے۔
شہر کے مختلف تھانوں میں گرفتار ملزمان کے خلاف مقدمات درج کر لیے گئے ہیں۔ پولیس کے مطابق ان ملزمان کے خلاف پہلے سے بھی مختلف تھانوں میں سنگین جرائم کے مقدمات درج ہو سکتے ہیں جن کی تصدیق کی جا رہی ہے۔
کراچی پولیس کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ جرائم پیشہ عناصر کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جا رہی ہے۔ شہریوں سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ مشکوک سرگرمیوں کی اطلاع فوری طور پر قریبی پولیس اسٹیشن کو دیں۔





اپنی رائے دیں