جینز دنیا بھر میں ہر عمر کے افراد کا پسندیدہ لباس شمار ہوتا ہے، جسے روزمرہ زندگی میں بڑی کثرت سے استعمال کیا جاتا ہے۔ کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ جینز کی جیبوں کے کناروں پر چھوٹے چھوٹے میٹل کے بٹن کیوں لگے ہوتے ہیں؟
بظاہر یہ بٹن جینز کی خوبصورتی اور ڈیزائن میں اضافے کیلئے لگائے گئے محسوس ہوتے ہیں، مگر حقیقت میں ان کا تعلق فیشن سے زیادہ کپڑوں کی مضبوطی سے ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ جینز پر موجود یہ چھوٹے دھاتی ٹکڑے تقریباً 150 سال پرانی ایک ایجاد ہیں، جن کا بنیادی مقصد کپڑوں کو جلد پھٹنے سے بچانا تھا۔
جینز کی جیبوں کے کناروں پر لگے ان دھاتی ٹکڑوں کو ریوٹس کہا جاتا ہے، جو بار بار استعمال کے دوران کپڑے کو تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ جب بھی کوئی شخص بار بار جیب میں ہاتھ ڈالتا ہے یا اس میں موبائل، چابیاں اور دوسری اشیا رکھتا ہے تو جیب کے کناروں اور سلائی پر دباؤ پڑتا ہے۔
وقت گزرنے کے ساتھ یہ دباؤ کپڑے کو کمزور کر کے جیب پھٹنے کا سبب بن سکتا ہے، جس سے لباس خراب ہوجاتا ہے۔
ریوٹس کپڑے کی تہوں کو مضبوطی سے آپس میں جوڑے رکھتے ہیں، جس سے جیبوں کے کنارے پھٹنے کا امکان کافی حد تک کم ہو جاتا ہے۔
جینز میں میٹل بٹن لگانے کا یہ دلچسپ خیال 1870 کی دہائی میں سامنے آیا جب امریکا میں جیکب ڈیوس نامی ایک درزی نے اس مسئلے پر غور کیا۔
درزی نے محسوس کیا کہ محنت مزدوری کرنے والے افراد کی پتلونیں جیبوں اور سلائی کے قریب سے بہت جلد پھٹ جاتی ہیں اور ناکارہ ہوجاتی ہیں۔
اس مسئلے کو حل کرنے کیلئے انہوں نے پتلون کے کمزور حصوں پر دھاتی ریوٹس لگانے کا انتہائی کارآمد طریقہ اپنایا۔
بعدازاں انہوں نے معروف کاروباری شخصیت لیوی اسٹراس کے ساتھ مل کر اس ایجاد کو آگے بڑھایا اور 20 مئی 1873 کو اس کا باقاعدہ پیٹنٹ حاصل کیا۔
یہی تاریخی ایجاد آگے چل کر جدید جینز کی سب سے بڑی اور نمایاں پہچان بن گئی جو آج بھی دنیا بھر میں موجود ہے۔
آپ نے اکثر دیکھا ہو گا کہ بعض جینز میں یہ دھاتی بٹن واضح نظر آتے ہیں، جبکہ کچھ جینز میں یہ موجود نہیں ہوتے۔
اس کی ایک دلچسپ وجہ یہ بھی ہے کہ ماضی میں جینز کی پچھلی جیبوں پر لگے دھاتی ریوٹس فرنیچر اور گھوڑوں کی زین پر خراشیں ڈال دیتے تھے۔
اسی شکایت کے باعث لیوائز نے 1937 میں پچھلی جیبوں کے ریوٹس کو کپڑے سے چھپانا شروع کیا اور 1966 تک انہیں مکمل طور پر ہٹا دیا۔
آج کل مارکیٹ میں موجود کئی کمپنیاں مضبوط سلائی اور دوسرے جدید طریقوں سے جیبوں کو محفوظ بناتی ہیں، اس لیے ہر جینز میں ریوٹس ہونا ضروری نہیں۔
ماہرین کے مطابق ریوٹس آج بھی جینز کی مجموعی مضبوطی بڑھانے میں اہم مدد دیتے ہیں، تاہم یہ کپڑے کو ہر قسم کے نقصان سے محفوظ نہیں رکھ سکتے۔
جدید سلائی کی مختلف تکنیکوں کے باوجود ان کا استعمال تاحال جاری ہے، کیونکہ یہ نہ صرف جیبوں کو مضبوط بناتے ہیں بلکہ جینز کے روایتی ڈیزائن کی نمایاں پہچان بھی بن چکے ہیں۔



اپنی رائے دیں