سعودی عرب کے نیشنل سینٹر فار ویجیٹیشن کور اینڈ ڈیویلپمنٹ اینڈ کمبیٹنگ ڈیزرٹیفکیشن کی مدینہ منورہ شاخ نے ماحول دوست اقدامات کا دائرہ کار مزید وسیع کرتے ہوئے قدرتی چراگاہوں کی بحالی کے لیے ایک نئی اور جامع مہم کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔
اس اہم نوعیت کی مہم کا بنیادی مقصد ملک بھر میں نباتاتی احاطے میں اضافہ کرنا، بنجر زمینوں کو سرسبز بنانا اور ماحولیاتی تبدیلی کے منفی اثرات کا مؤثر انداز میں مقابلہ کرنا ہے تاکہ طویل مدتی پائیداری کو یقینی بنایا جا سکے جو کہ سعودی عرب کی ترقیاتی ترجیحات میں شامل ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ خصوصی مہم سال دو ہزار چھبیس کے قومی شجرکاری سیزن کے تحت شروع کی گئی ہے، جس میں حالیہ بارشوں کے موسم سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے پودوں کی افزائش کو تیز تر بنانے اور قدرتی چراگاہوں کے رقبے کو وسعت دینے کے لیے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
بارش کے موسم کے سازگار ماحول اور زمین کی قدرتی نمی کو مدنظر رکھتے ہوئے متعلقہ حکام نے جدید طریقہ کار اور مشینری کا استعمال کیا ہے تاکہ بیجوں کے پھوٹنے اور درختوں کے پروان چڑھنے کے امکانات کو زیادہ سے زیادہ بڑھایا جا سکے۔
اس سلسلے میں جاری کردہ تفصیلات کے مطابق اس مہم کے پہلے مرحلے کے دوران مدینہ منورہ کے مختلف علاقوں میں مجموعی طور پر دس ہزار تین سو اٹھانویں ہیکٹر رقبے پر اٹھارہ ہزار سات سو انیس کلوگرام بیج کامیابی کے ساتھ بکھیرے گئے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ بیج انتہائی احتیاط اور سائنسی بنیادوں پر منتخب کیے گئے ہیں تاکہ مقامی آب و ہوا اور موسمی حالات کے مطابق بہترین نتائج حاصل ہوں اور چراگاہوں کی اصل خوبصورتی اور افادیت کو بحال کیا جا سکے جو یہاں کے ماحول کے لیے انتہائی ضروری ہے۔
مہم کے تحت جن مخصوص علاقوں کو ہدف بنایا گیا ہے ان میں الشقران کی چراگاہ بھی شامل ہے جہاں دو سو چھیاسٹھ ہیکٹر رقبے پر چار سو اسّی کلوگرام بیج بکھیرے گئے ہیں تاکہ مقامی سطح پر گھاس اور چارے کے پودوں کی افزائش کو بہتر بنایا جا سکے۔
اس کے علاوہ الحناکیہ گورنریٹ میں واقع مشہور کنگ عبدالعزیز رائل ریزرو کے بڑے رقبے پر بھی خصوصی توجہ دی گئی ہے جہاں آٹھ ہزار آٹھ سو چھتیس ہیکٹر رقبے پر پندرہ ہزار نو سو چھ کلوگرام بیج بکھیرے گئے ہیں جو اس مہم کا ایک اہم اور نمایاں حصہ ہے۔
اسی طرح محافظہ بدر میں واقع الصمیدہ کی چراگاہ میں بھی نو سو پچپن ہیکٹر رقبے پر ایک ہزار سات سو انیس کلوگرام بیج بکھیرنے کا عمل مکمل کیا گیا ہے جس سے اس خطے میں سبزہ زاروں کے رقبے میں خاطر خواہ اضافے کی توقع کی جا رہی ہے۔
قومی مرکز کی جانب سے یہ اقدام جدید مشینری کی مدد سے انجام دیا جا رہا ہے تاکہ کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ رقبے پر مقامی جنگلی اور چارے کے پودوں کے بیج بکھیرے جا سکیں اور قدرتی ماحول کو اس کا اصل روپ واپس مل سکے۔
اس طرح کی کوششوں سے نہ صرف متاثرہ اور بنجر زمینوں کی بتدریج بحالی میں مدد ملتی ہے بلکہ زیر زمین پانی کے ذخائر پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں اور خطے کی حیاتیاتی تنوع کو فروغ حاصل ہوتا ہے جو کہ ماحولیاتی توازن کے لیے ناگزیر ہے۔
یہ تمام اقدامات سعودی گرین انیشیٹیو کے وسیع تر اور دور رس اہداف کے عین مطابق ہیں، جن کا مقصد پورے خطے میں شجرکاری کو فروغ دینا، کاربن کے اخراج کو کم کرنا اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک صحت مند اور سرسبز ماحول فراہم کرنا ہے۔
ماہرینِ ماحولیات کا ماننا ہے کہ اس قسم کی منظم اور سائنسی بنیادوں پر چلائی جانے والی مہمات طویل عرصے میں انتہائی سودمند ثابت ہوں گی اور مدینہ منورہ کے خطے میں چراگاہوں کے نظام کو مزید مستحکم اور پائیدار بنانے میں اہم کردار ادا کریں گی۔





اپنی رائے دیں