امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایک حالیہ انٹرویو کے دوران اسرائیلی انتخابات کے حوالے سے اپنی غیر جانبدارانہ پالیسی کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ اسرائیل کے داخلی سیاسی عمل میں کسی بھی فریق کی حمایت یا مخالفت سے گریز کریں گے۔
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو کی کھل کر حمایت کا اعلان کیا ہے۔ جے ڈی وینس کا موقف ٹرمپ کی پالیسی سے مختلف دکھائی دیتا ہے جس پر عالمی سیاسی حلقوں میں تبصرے کیے جا رہے ہیں۔
ایک صحافی سے گفتگو کرتے ہوئے جے ڈی وینس نے کہا کہ ان کی توجہ مکمل طور پر امریکی سیاست اور اپنے ملک کے وسط مدتی انتخابات پر مرکوز ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ صرف امریکی امیدواروں کی حمایت کرنے کے پابند ہیں اور دیگر ممالک کے انتخابات میں مداخلت نہیں چاہتے۔
اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو ستائیس اکتوبر کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں ایک بار پھر وزارت عظمیٰ کے امیدوار ہیں۔ ان کی سیاسی مہم کے دوران امریکی حمایت کو کافی اہمیت دی جا رہی تھی، تاہم وینس کے بیان نے اس صورتحال کو ایک نیا رخ دیا ہے۔
جے ڈی وینس کا یہ فیصلہ ان کی سابقہ سیاسی سرگرمیوں سے بظاہر مختلف معلوم ہوتا ہے۔ ماضی میں وہ ہنگری کے پارلیمانی انتخابات کے دوران وزیراعظم وکٹر اوربان کی حمایت کے لیے بڈاپسٹ کا دورہ کر چکے ہیں اور یورپی سیاست میں فعال کردار ادا کرتے رہے ہیں۔
سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ وینس کا یہ بیان ان کے مستقبل کے سیاسی عزائم کی عکاسی بھی ہو سکتا ہے۔ کچھ حلقوں میں یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ وہ مستقبل میں امریکی صدارتی امیدوار بننے کی خواہش رکھتے ہیں، اگرچہ انہوں نے اس بارے میں کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا۔
ایران کے حوالے سے اپنی پالیسی پر بات کرتے ہوئے جے ڈی وینس نے ماضی میں مختلف موقف اپنائے ہیں۔ ابتدا میں انہوں نے ایران کے خلاف کسی بھی ممکنہ جنگی مہم کی مخالفت کی تھی، تاہم بعد ازاں انہوں نے اس فوجی حکمت عملی کا دفاع بھی کیا ہے۔
جون کے مہینے میں جب امریکا اور ایران کے درمیان مختصر جنگ بندی ہوئی تھی، تو اس وقت اسرائیلی حکام کی جانب سے تنقید کی گئی تھی۔ اس موقع پر جے ڈی وینس نے اسرائیلی حکومت کو خبردار کیا تھا کہ وہ اپنے اہم اتحادی امریکا پر تنقید کرتے ہوئے احتیاط سے کام لے۔
وینس نے اس وقت زور دیا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ دنیا کے واحد سربراہ مملکت ہیں جو موجودہ پیچیدہ حالات میں اسرائیل کے ساتھ مخلصانہ ہمدردی رکھتے ہیں۔ انہوں نے اسرائیلی قیادت کو مشورہ دیا تھا کہ وہ امریکا کے ساتھ اپنے تعلقات کو ترجیح دیں۔
امریکی نائب صدر کا حالیہ بیان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بائیڈن انتظامیہ کے برعکس، موجودہ امریکی قیادت اسرائیل کے داخلی معاملات میں براہ راست مداخلت سے گریز کی پالیسی پر عمل پیرا ہونا چاہتی ہے۔
اسرائیل میں جاری انتخابی گہما گہمی کے دوران نیتن یاہو اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ امریکی حمایت کا حصول ان کی انتخابی مہم کا ایک اہم حصہ رہا ہے، جس پر اب عالمی سطح پر نظریں جمی ہوئی ہیں۔
امریکی سیاست میں جے ڈی وینس کا شمار اہم رہنماؤں میں ہوتا ہے جو ٹرمپ کے قریبی ساتھی سمجھے جاتے ہیں۔ ان کی جانب سے اسرائیلی انتخابات سے لاتعلقی کا اعلان واشنگٹن کی خارجہ پالیسی میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
مستقبل قریب میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ وینس کا یہ غیر جانبدارانہ موقف اسرائیل اور امریکا کے باہمی تعلقات پر کس حد تک اثر انداز ہوتا ہے۔ فی الحال، امریکی نائب صدر نے اپنے بیان کے ذریعے تمام قیاس آرائیوں کو مسترد کر دیا ہے۔





اپنی رائے دیں